رد فرقہ باطلہ

امام ابن تیمیہ کے متنازعہ تفردات اور جمہورِ اہلِ سنت کا موقف

امام ابن تیمیہ کے متنازعہ تفردات اور جمہورِ اہلِ سنت کا موقف

ابن تیمیہ کے خرقِ اجماع اقوال کا تحقیقی جائزہ

ابن تیمیہ کے منفرد نظریات: اہلِ سنت کی تنقیدات کی روشنی میں

ابن تیمیہ اور جمہورِ امت سے اختلاف: ایک علمی و تحقیقی مطالعہ

ابن تیمیہ کے تفردات پر اکابر علماءِ اہلِ سنت کا ر

ابن تیمیہ کے وہ عقائد و نظریات جن پر علماءِ اہلِ سنت نے اعتراض کیا

ابن تیمیہ کے 19 مشہور تفردات: حقیقت کیا ہے؟ابن تیمیہ کے متنازعہ اقوال اور ان کا علمی محاسبہ

ابن تیمیہ پر علماءِ اہلِ سنت کے اعتراضات: مکمل تحقیقی جائزہ

کیا ابن تیمیہ نے اجماعِ امت کی مخالفت کی؟ دلائل اور تحقیقات

اعلم انه خالف الناس فى مسائل نبه عليها التاج السبكى وغيره – فما خرق فيه الاجماع قوله ان طلاق الحائض لا يقع وكذا الطلاق في طهر جا مع فيه وان الصلاة اذا تركت عمداً لا يحب قضاءها – وان الحائض يباح لها الطواف بالبيت ولا كفارة عليها – وان الطلاق الثلاث يرد الى واحدة وان المائعات لا تنجس بموت حيوان فيها كالقارة – وان الجنب يصلى تطوعه بالليل ولا يؤخره الى ان يغتسل قبل الفجروان كان بالبلد – وان مخالف الاجماع لا يكفر و ولا يفسق وان ربنا محل الحوادث وقوله بالجسمية و الجهة والانتقال وانه بقدر العرش لا اصغر ولا اكبر وقال ان النار تفنى وان الانبياء غیر معصومین و ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا جاه له ولا يتوسل به وان انشاء السفر اليه بسبب الزيارة معصية لا تقصر الصلاة فيه وسيحرم ذلك يوم الحاجة ماسة إلى شفاعته التلخيصا – یعنی ابن تیمیہ نے بہت سے مسائل میں علمائے حق کی مخالفت کی ہے جس کی نشاندہی حضرت امام تاج الدین سلی وغیرہ نے لی ہے تو جن مسائل میں اس نے خرق اجماع کیا ہے ان میں سے چند یہ ہیں : حالت حیض میں اور جس طہر میں ہمبستری کی ہے طلاق واقع نہیں ہوتی اور نماز اگر قصد اچھوڑ دی جائے تو اس کی قضنا واجب نہیں اور حالت حیض میں بیت اللہ شریف کا طواف کرنا جائز ہے اور کوئی کفارہ نہیں اور تین طلاق سے ایک ہی طلاق پڑتی ہے اور تیل وغیرہ پتلی چیزیں چوہے وغیرہ کے مرنے سے نجس نہیں ہوتیں اور بعد ہمبستری کے غسل کرنے سے پہلے رات میں نفل نماز پڑھنا جائز ہے اگر چہ شہر میں ہو اور جو شخص اجماع امت کی مخالفت کرے اسے کافر و فاسق نہیں قرار دیا جائے گا اور خدا تعالیٰ کی ذات میں تغیر و تبدل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے جسم ہونے اور اس کے لئے جہت اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا قائل ہے اور کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ بالکل عرش کے برابر ہے نہ اس سے چھوٹا ہے نہ بڑا اور یہ بھی کہتا ہے کہ جہنم فنا ہو جائے گی اور یہ بھی کہتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام معصوم نہیں ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی مرتبہ نہیں ہے ان کو وسیلہ نہ بنایا جائے اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا گناہ ہے ایسے سفر میں نماز کی قصر جائز نہیں جو شخص ایسا کرے گا وہ حضور کی شفاعت سے محروم رہے گا۔نعوذ بالله من هذه الهفوات –

ابن تیمیه عبد خذله وضله وأعماله و اصمه واذله وبذلك صرح الائمة الذين بينوا فساد احواله و کذب اقواله و من اراد ذلك فعليه بمطالعة كلام الامام المجتهد المتفق على امامته وجلالته وبلوغ مرتبة الاجتهاد ابي الحسن السبكي وولد التاج و الشيخ الامام العزبن جماعة واهل عصرهم وغيرهم من الشافيعة والمالكية والحنفية – ولم يقصر اعتراضه على متاخرى الصوفية بل اعتراض على مثل عمر بن الخطاب وعلى بن أبي طالب رضى الله عنهما والحاصل ان لا يقام للكلامه وزن بل يرمى in كل و عر و حزن ويعتقد فيه انه مبتدع ضال و مضل جاهل غال – عامله الله بعد له و اجارنا من مثل طريقته و عقيدته و فعله آمین اهر۔ یعنی ابن تیمیہ ایسا شخص ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے نامراد کر دیا اور گمراہ فرما دیا اور اس کی بصارت و سماعت کو سلب فرما لیا اور اس کو ذلت کے گڑھے میں گرا دیا اور ان باتوں کی تصریح ان اماموں نے فرمائی ہے جنہوں نے اس کے احوال کے فساد اور اس کے اقوال کے جھوٹ کا پول کھولا ہے ۔ جو شخص ان باتوں کا تفصیلی علم حاصل کرنا چاہے اسے لازم ہے کہ وہ اس امام کے کلام کا مطالعہ کرے ۔ جن کی امامت و جلالت پر سب علمائے کرام کا اتفاق ہے اور جو مرتبہ اجتہاد پر فائز ہیں یعنی حضرت ابوالحسن سبکی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت تاج الدین سبکی کے فرزند اور حضرت شیخ امام عزالدین بن جماعہ اور ان کے ہمعصر شافعی ، مالکی اور حنفی علماء کی کتابوں کو پڑھے اور ابن تیمیہ کے اعتراضات فقط متاخرین صوفیہ ہی پر نہیں بلکہ وہ تو اس قدر حد سے بڑھ گیا کہ امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب اور امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما جیسی مقدس ذاتوں کو بھی اپنے اعتراضات کا نشانہ بنا ڈالا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ ابن تیمیہ کی بکواسوں کا کوئی وزن نہیں بلکہ وہ اس قابل بھی نہیں کہ گدھوں اور کوؤں میں پھینک دی جائیں اور ابن تیمیہ کے بارے میں یہی اعتقاد رکھا جائے کہ وہ بدعتی گمراہ دوسروں کو گمراہ کرنے والا جاہل اور حد سے تجاوز کرنے والا ہے ۔ خدا تعالیٰ اس سے انتقام لے اور ہم سب لوگوں کو اس کی راہ اور اس کے عقائد سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین (فتاوی حدیثیہ) اور عارف باللہ حضرت شیخ احمد صاوی مالکی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ابن تيميه ان الحنابلة وقد رد عليه ائمة مذهبه حق قال العلماء انه الضال المضل ۔ یعنی ابن تیمیہ حنبلی کہلاتا تھا حالانکہ اس مذہب کے اماموں نے بھی اس کا رد کیا ہے یہاں تک کہ علماء نے فرمایا کہ وہ گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے ۔ (صاوی جلد اول ص ٥٦) و هو تعالى اعلم بالصواب ۔

ابن تیمیہ کا پورا نام تقی الدین احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام بن تیمیہ ہے۔ آپ 661ھ بمطابق 1263ء میں حران (ترکی) میں پیدا ہوئے۔ سات سال کی عمر میں دمشق شام ہجرت کر گئے اور وہیں حفظِ قرآن کیا اور دیگر مذہبی تعلیم مکمل کی۔ دمشق میں درس و افتاء کا کام شروع کیا، لیکن جب اس کے بعض دینی نظریات سامنے آئے تو اس دور کے علماء نے ان پر سخت نکیر کی۔ خصوصاً روضۂ اطہرِ رسول اللہ ﷺ کی زیارت کے لیے سفر کو ناجائز بلکہ معصیت قرار دینے کے قول پر علماء نے شدید رد کیا۔ چنانچہ قاضی مالکی نے سلطانِ مصر ناصر سے مطالبہ کیا کہ ابن تیمیہ کو قتل کر دیا جائے، البتہ سلطان نے قتل کے بجائے اسے قید کرنے کا حکم دیا۔ 726ھ میں جامع مسجد دمشق میں اعلان کیا گیا کہ ابن تیمیہ کو انبیاء علیہم السلام کی قبور کی زیارت سے منع کرنے کے جرم میں قید کیا گیا ہے، لہٰذا اب اس کے فتووں پر اعتماد نہ کیا جائے۔ (امام ابن تیمیہ، محمد یوسف کوکنی، ص 64، 65)۔ دو سال بعد اسی قید خانے میں دمشق میں ابن تیمیہ کا انتقال ہوا۔ اگرچہ وہ حنبلی مذہب سے منسوب تھے، مگر صحیح معنوں میں تقلید کے قائل نہ تھے اور بہت زیادہ آزاد رائے رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑی ذہانت اور قوتِ استدلال عطا فرمائی تھی، لیکن اسی آزاد فکر کی وجہ سے انہوں نے بعض ایسے نظریات اختیار کیے جنہیں علماءِ اسلام نے قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے خلاف قرار دیا۔ مؤرخ ابن بطوطہ نے بھی ابن تیمیہ کو ’’جنونی اور ناقص العقل عالم‘‘ کہا ہے۔ (تحریک وہابیت کا مختصر تعارف، ص 116)۔ ابن تیمیہ کے عقائد کے بارے میں علامہ ابن حجر مکی شافعی (متوفی 974ھ) نے علامہ تاج الدین سبکی (متوفی 771ھ) کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ابن تیمیہ نے کئی مسائل میں اجماعِ امت کی مخالفت کی، جن میں یہ امور شامل ہیں: جان بوجھ کر چھوڑی گئی نماز کی قضا واجب نہیں، رسول اللہ ﷺ کا کوئی خاص جاہ و مرتبہ نہیں، اجماعِ امت کا مخالف کافر یا فاسق نہیں، حیض اور اس طہر میں جس میں جماع ہوا ہو دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی، حضور علیہ السلام کی قبرِ انور کی زیارت کے لیے سفر کرنا گناہ ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات میں تغیر و تبدل ہوتا ہے، تین طلاقیں ایک طلاق شمار ہوتی ہیں، انبیائے کرام علیہم السلام معصوم نہیں، توسل کو حرام قرار دینا، جہنم کے فنا ہو جانے کا قول، حالتِ حیض میں بیت اللہ کا طواف جائز ہونا اور اس پر کوئی کفارہ نہ ہونا، تیل اور دیگر مائعات میں چوہا وغیرہ مر جائے تو ان کا ناپاک نہ ہونا، اور یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ عرش کے برابر ہے نہ اس سے بڑا ہے نہ چھوٹا۔ (الفتاوى الحديثية، ص 116)۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ مسلکاً حنبلی تھے اور ان کے تفردات (انفرادی آراء) اہلِ علم کے ہاں خاص طور پر معروف ہیں۔ محققین نے ان کے تفردات کی تعداد 179 تک ذکر کی ہے۔ ان میں بعض ایسے ہیں جن میں انہوں نے امام احمد بن حنبلؒ کے مشہور مذہب کو چھوڑ کر غیر مشہور قول اختیار کیا، بعض میں امام احمدؒ کے مذہب کو ترک کرکے دیگر ائمہ میں سے کسی ایک کا قول اختیار کیا، بعض مسائل میں چاروں ائمہ کے معروف مذاہب سے ہٹ کر رائے دی، اور بعض مسائل میں جمہور امت اور منقول اجماع کے خلاف موقف اختیار کیا۔ علامہ ابن حجر ہیتمی مکیؒ نے ’’الفتاوى الحديثية‘‘ میں ان کے متعدد ایسے اقوال ذکر کیے ہیں جنہیں انہوں نے خرقِ اجماع قرار دیا ہے۔ ان میں سے مشہور مسائل یہ ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک طلاق شمار کرنا، جہنم کے ابدی نہ ہونے اور کسی وقت فنا ہو جانے کا قول، بعض صورتوں میں طلاق کے وقوع کا انکار، زیارتِ قبرِ نبوی ﷺ کے لیے سفر کے بارے میں سخت موقف اختیار کرنا، توسل کے بعض طریقوں کی مخالفت کرنا، اور دیگر متعدد مسائل میں جمہور فقہاء سے اختلاف کرنا۔ البتہ بعض متاخر علماء نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ ان تفردات میں سے چند اقوال کی نسبت ابن تیمیہؒ کی طرف محلِ نظر ہے، جبکہ اکثر اقوال کی نسبت ان کی کتب اور ان کے تلامذہ کی نقلوں سے ثابت مانی گئی ہے۔ اسی وجہ سے ابن تیمیہؒ کی شخصیت اور آراء صدیوں سے علمی مناقشے اور بحث کا موضوع رہی ہیں، جہاں ایک طرف ان کے علمی مقام کا اعتراف کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف ان کے منفرد اور متنازعہ اقوال پر شدید علمی نقد بھی کیا جاتا ہے۔

شیخ ابن تیمیہؒ کے بارے میں بعض علماء نے لکھا ہے کہ ان کے متعدد تفردات (انفرادی آراء) جمہور امت اور منقول اجماعات کے خلاف تھے۔ ان میں یہ اقوال شمار کیے گئے ہیں: ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینا، حیض کی حالت میں دی گئی طلاق اور اس طہر میں دی گئی طلاق کو غیر واقع کہنا جس میں جماع ہوا ہو، حضرت علیؓ کے متعلق یہ کہنا کہ انہوں نے تین سو سے زائد مسائل میں خطا کی، انبیاء علیہم السلام کی عصمت کے بارے میں جمہور سے مختلف موقف اختیار کرنا، حضور اکرم ﷺ کے جاہ و وسیلہ کے انکار کا قول، روضۂ اطہر کی زیارت کے لیے سفر کو معصیت قرار دینا، عالم کو اپنی نوع کے اعتبار سے قدیم کہنا، قرآنِ کریم کو حادث قرار دینا، اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسے الفاظ استعمال کرنا جنہیں علماء نے تشبیہ و تجسیم پر محمول کیا، مائعات میں جانور کے مرنے سے نجاست کے عدمِ ثبوت کا قول، جنبی کے لیے غسل سے پہلے نفل نماز کو جائز قرار دینا، واقف کی شرط کے عدمِ اعتبار کا موقف، اجماع کی مخالفت کو نہ کفر اور نہ فسق کا سبب قرار دینا، جبری ٹیکس کے جواز کا قول، اور مسئلۂ نزولِ الٰہی میں جمہور اہلِ سنت سے مختلف رائے اختیار کرنا۔ اسی ضمن میں ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں ایک واقعہ نقل کیا ہے، تاہم متعدد محققین نے تاریخی وجوہات کی بنا پر اس روایت کے ثبوت پر کلام کیا ہے، کیونکہ ابن تیمیہؒ اس وقت قید میں تھے جب ابن بطوطہ دمشق پہنچے۔ اس کے باوجود علماء نے تصریح کی ہے کہ ابن تیمیہؒ کی کتاب ’’شرح حدیث النزول‘‘ کے مباحث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نزولِ الٰہی کے باب میں جمہور اہلِ سنت کے موقف سے ہٹ کر رائے رکھتے تھے۔ اسی بنا پر متاخرین علماء، خصوصاً علامہ ابن حجر ہیتمیؒ اور دیگر ناقدین نے ان کے ان اقوال کو تفردات اور بعض کو خرقِ اجماع کے ضمن میں شمار کیا ہے۔

تشریح: مذکورہ تفردات کا ذکر کرنے کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک کسی عالم کا مقام و مرتبہ اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ اس کے ہر قول کو قبول کر لیا جائے۔ جب کسی مسئلے میں جمہور امت، ائمۂ اربعہ اور متقدمین علماء کا متفقہ یا غالب موقف موجود ہو اور کوئی عالم اس سے ہٹ کر رائے اختیار کرے تو اس رائے کو دلائل کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔ چنانچہ ابن تیمیہؒ کے ان اقوال پر بھی اکابر اہلِ سنت نے علمی نقد کیا اور انہیں جمہور کے خلاف قرار دیا۔ تاہم علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر قول کی نسبت، اس کے سیاق و سباق اور اس پر اہلِ علم کی تحقیق کو ملحوظ رکھا جائے، کیونکہ بعض منسوبات کے بارے میں خود محققین نے تردد کا اظہار بھی کیا ہے۔ لہٰذا کسی بھی شخصیت کے بارے میں گفتگو علمی تحقیق، معتبر حوالوں اور انصاف کے ساتھ ہونی چاہیے۔

بعض علماءِ اہلِ سنت، خصوصاً علامہ ابن حجر ہیتمیؒ، تاج الدین سبکیؒ اور دیگر ناقدینِ ابن تیمیہ نے ان پر یہ اعتراضات کیے ہیں کہ انہوں نے متعدد مسائل میں جمہور امت اور منقول اجماع کی مخالفت کی، چنانچہ ان کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک طلاق شمار ہوتی ہیں، حالتِ حیض میں دی گئی طلاق اور اس طہر میں دی گئی طلاق جس میں جماع ہو چکا ہو واقع نہیں ہوتی، ترکِ نمازِ عمدی کی قضا واجب نہیں، جہنم ابدی نہیں بلکہ کسی وقت فنا ہو جائے گی، بعض کفار کے انجام کے بارے میں بھی انہوں نے جمہور سے مختلف رائے اختیار کی، انبیائے کرام علیہم السلام کی عصمت کے باب میں جمہور اہلِ سنت سے اختلاف کیا، حضور اکرم ﷺ کے جاہ و وسیلہ کے انکار اور روضۂ اطہر کی زیارت کے لیے سفر کو معصیت قرار دینے کا قول اختیار کیا، اجماع کی مخالفت کو نہ کفر اور نہ فسق کا موجب قرار دیا، مائعات میں جانور کے مرنے سے نجاست کے عدمِ ثبوت کا قول دیا، جنبی کے لیے غسل سے پہلے نفل نماز کو جائز کہا، بعض عبارات میں صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق ایسے الفاظ استعمال کیے جنہیں علماء نے تشبیہ، تجسیم اور جہت پر محمول کیا، عالم کے قِدمِ نوعی، قرآنِ کریم کے حادث ہونے، جبری ٹیکس کے جواز اور مسئلۂ نزولِ الٰہی میں جمہور کے خلاف موقف رکھنے کا الزام بھی ان پر لگایا گیا، نیز بعض علماء نے ان کی بعض عبارات کی بنا پر یہ دعویٰ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے حرکت، انتقال اور عرش کے ساتھ مخصوص نسبت کے قائل تھے۔ انہی وجوہات کی بنا پر متاخرین اہلِ سنت کے ایک بڑے طبقے نے ابن تیمیہ کے ان تفردات کو شاذ، مردود اور بعض صورتوں میں خرقِ اجماع قرار دے کر ان کا تفصیلی رد لکھا، اگرچہ دوسری طرف بعض علماء نے ان اعتراضات میں سے بعض کی تاویل کی یا بعض نسبتوں کے ثبوت میں کلام بھی کیا ہے۔

rizvibhai69@gmail.com

Recent Posts

فرقہ غیرمقلدین (نام نہاداہل حدیث وہابیہ) کی گمشدہ اور یتیم اسناد کاعلمی تعاقب

 فرقہ غیرمقلدین (نام نہاداہل حدیث وہابیہ) کی گمشدہ اور یتیم اسناد کاعلمی تعاقب فرقہ غیرمقلدین…

10 گھنٹے ago

جادو کہتے کس کو ہیں اور یہ ہوتا کیسے ہے ؟

    جادو ایک معروف نام ہے جو ہر معاشرے میں بخوبی جانا جاتا ہے…

10 گھنٹے ago

مرسل اتباع تابعی روایات اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں ہیں۔ تحقیق۔۔اقبال رضوی بھائی

مرسل اتباع تابعی روایات اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں ہیں۔ تحقیق۔۔اقبال رضوی بھائیکچھ شیعہ…

10 گھنٹے ago

شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ | Shan e Hazrat Abu Bakr Siddeeq سورہ توبہ 40

 شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ❤تفسیر❤{اِلَّا تَنْصُرُوْهُ:اگر تم اس (نبی) کی مدد نہیں کرو گے۔}اس…

10 گھنٹے ago

طب نبوی سے علاج: شہد اور قرآن سے شفاء

طب نبوی سے علاج: شہد اور قرآن سے شفاء اسلام نے انسان کی جسمانی، روحانی…

10 گھنٹے ago

سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ

سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تاریخی اعتراضات کا علمی جائزہ…

3 ہفتے ago