Home

امام ابوحنيفه رحمه الله ضعيف راوى تهے محدثین نے ان پرجرح کی هے ؟؟

وسوسه = امام ابوحنيفه رحمه الله ضعيف راوى تهے محدثین نے ان پرجرح کی هے ؟؟
جواب = امام ابوحنیفہ رحمہ الله کو ائمہ حدیث نے حُفاظ حدیث میں شمارکیا ہے ،
عالم اسلام کے مستند عالم مشہور ناقد حدیث اور علم الرجال کے مستند ومُعتمد عالم علامہ ذهبی رحمہ الله نے امام ابوحنیفہ رحمہ الله کا ذکراپنی کتاب ( تذکره الحُفَّاظ ) میں کیا ہے ، جیسا کہ اس کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ اس میں حُفاظ حدیث کا تذکره کیا گیا ہے ، اور محدثین کے یہاں ( حافظ ) اس کو کہاجاتا ہے جس کو کم ازکم ایک لاکھ احادیث متن وسند کے ساتھ یاد ہوں اور زیاده کی کوئی حد نہیں ہے ، امام ذهبی رحمہ الله تو امام ابوحنیفہ رحمہ الله کو حُفاظ حدیث میں شمار کریں ، اور ہندوستان میں انگریزی دور میں پیدا شده فرقہ جدید اہل حدیث کہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ الله کو ستره احادیث یاد تهیں ، اور وه ضعيف راوى تهے ، اور علم حدیث سے نابلد تهے ، اب کس کی بات زیاده معتبر ہے ؟
تذکره الحُفَّاظ سے امام ابوحنیفہ رحمہ الله کا ترجمہ درج ذیل ہے
أبو حنيفة الإمام الأعظم فقيه العراق النعمان بن ثابت بن زوطا التيمي مولاهم الكوفي: مولده سنة ثمانين رأى أنس بن مالك غير مرة لما قدم عليهم الكوفة، رواه ابن سعد عن سيف بن جابر أنه سمع أبا حنيفة يقوله. وحدث عن عطاء ونافع وعبد الرحمن بن هرمز الأعرج وعدي بن ثابت وسلمة بن كهيل وأبي جعفر محمد بن علي وقتادة وعمرو بن دينار وأبي إسحاق وخلق كثير. تفقه به زفر بن الهذيل وداود الطائي والقاضي أبو يوسف ومحمد بن الحسن وأسد بن عمرو والحسن بن زياد اللؤلؤي ونوح الجامع وأبو مطيع البلخي وعدة. وكان قد تفقه بحماد بن أبي سليمان وغيره وحدث عنه وكيع ويزيد بن هارون وسعد بن الصلت وأبو عاصم وعبد الرزاق وعبيد الله بن موسى وأبو نعيم وأبو عبد الرحمن المقري وبشر كثير. وكان إماما ورعا عالما عاملا متعبدا كبير الشأن لا يقبل جوائز السلطان بل يتجر ويتكسب.قال ضرار بن صرد: سئل يزيد بن هارون أيما أفقه: الثوري أم أبو حنيفة؟ فقال: أبو حنيفة أفقه وسفيان أحفظ للحديث. وقال ابن المبارك: أبو حنيفة أفقه الناس. وقال الشافعي: الناس في الفقه عيال على أبي حنيفة. وقال يزيد: ما رأيت أحدًا أورع ولا أعقل من أبي حنيفة. وروى أحمد بن محمد بن القاسم بن محرز عن يحيى بن معين قال: لا بأس به لم يكن يتهم ولقد ضربه يزيد بن عمر بن هبيرة على القضاء فأبى أن يكون قاضيا. قال أبو داود

rizvibhai69@gmail.com

Recent Posts

جنگِ جمل اور جنگ صفین اور شھادت عثمان رض کا حقیقی پس منظر

  بسم االله الرحمن الرحیم مقدمہ قارئینِ کرام جیساکہ آپ سب اس بات سے بخوبی واقف…

2 دن ago

صدقہ جاریہ صحیح احادیث کی روشنی میں ایصال ثواب

  بسم الله الرحمن الرحیم صدقہ جاریہ کے معنیٰ: ہروہ نیک عمل جوانسان اپنی زندگی میں…

2 دن ago

موضوع حدیث کی تعریف اور موضوع حدیث کی تفصیل

 موضوع حدیث کی تعریف ... - ضعیف احادیث و موضوع روایات موضوع حدیث کی تعریف…

2 دن ago

تین طلاق کا مسئلہ: فقہ حنفی کی روشنی میں تحقیق

تین طلاق کا مسئلہ: فقہ حنفی کی روشنی میں تحقیق تعارف:اسلام میں نکاح اور طلاق…

3 دن ago

مسلہ تقلید پر تحقیق مقلد اور غیر مقلدین کے لیےمسلہ تقلید پر تحقیق مقلد اور غیر مقلدین کے لیے

  بسم الله الرحمن الرحیم اکثرغیرمقلدین حضرات بلاکسی مستند دلیل وتفصیل کے تقلید اور اہل تقلیدکی…

7 دن ago