۱۔ ابن منصورؒکی تائیدکرنے والے سب سے پہلے بزرگ ابوالعباس بن عطاءؒ (متوفی۳۰۹ھ) ہیںشیخ الاسلام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں: ’’پرہیزگارعبادت گزارابوالعباس احمد بن محمد بن سھل بن عطاء الأدمی البغدادی۔ روزانہ پورا قرآن ختم کرتے تھے۔ امام ذہبی فرماتے ہیں: وہ حلّاج کے مذہب کے ہامی تھے اور اسے صحیح قرار دیتے تھے۔ سُلِمی فرماتے ہیں: وہ حلّاج کی ہمایت کے سبب آزمائش میں مبتلا ہوگئے تھے‘‘۔ (بیان تلبیس الجھمیۃ: ج۲، ص۱۱۰)
امام ذہبیؒ ابن عطاءؒکے بارے میں لکھتے ہیں: ’’پرہیزگارعبادت گزارابوالعباس احمد بن محمد بن سھل بن عطاء الأدمی البغدادی۔ روزانہ پورا قرآن ختم کرتے تھےاوررمضان المبارک میں ہردن تین بارختم کرتے تھے، اورفہم معانی قرآن کےلئےجوایک تلاوت شروع کی تھی اس میں چودہ برس کے اندرنصف قرآن تک بھی نہ پہنچے۔ حلّاج کا حال ان پرحاوی تھااور اسے صحیح قرار دیتے تھے۔ سُلِمی فرماتے ہیں: وہ حلّاج کی ہمایت کے سبب آزمائش میں مبتلا ہوگئے تھے۔ وزیرحامد نے انہیں طلب کیااورکہا کہ آپ حلّاج کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ابن عطاءؒ نے فرمایا! تم کو اس معاملہ سے کیا واسطہ؟ تم لوگوں کا مال لوٹتے رہو اورخون بہاتے رہو۔ وزیرحامد کے حکم سے ابن عطاءؒ کے دانت توڑدیئے گئے۔ ابن عطاءؒ نے چلاتے ہوئے وزیرحامد العباس کو بد دعا دی کہ اے اﷲ! اس کے ہاتھ پیرکٹوادے۔ اس واقعہ کے ۱۴ دن بعد ابن عطاءؒ کی وفات ہوگئی اورزیادہ دن نہ گزرے تھے کہ وزیرحامدبن العباس بھی قتل کیاگیا۔ قتل سے پہلے اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹے گئے۔ اس وقت لوگ کہتے ہیں کہ اس کو ابوالعباس بن عطاءؒ کی بددعالگئی‘‘۔ (سیراعلام النبلاء: ج۱۶، ص۲۵۵)
ابن ملقنؒ اپنی کتاب طبقات الاولیاء میں حضرت ابو العباس بن عطاءؒ کواولیاءاﷲمیں شمارکرتےہوئے لکھتے ہیں: ’’وہ حضرت جنیدبغدادیؒ اور ابراہیم مارستانیؒ وغیرہ کی صحبت میں رہے۔ حضرت جنیدبغدادیؒ اورابو سعیدخرازکی بہت تعظیم کرتے تھے‘‘۔ (طبقات الاولیاء: ص۵۹)
خطیب بغدادیؒ لکھتے ہیں: ’’اس زمانے کے ان صوفیوں میں سے تھے جوعبادات و اجتہاداورکثرت سے قرآن کا درس دیا کرتے تھے۔ انہوں نے یوسف بن موسیٰ القطان اور فضل بن زیادصاحب احمد بن حنبلؒ سے احادیث روایت کی‘‘۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۶، ص۱۶۵)
ابن منصورؒ کو قبول کرنے والے پہلے بزرگ ابوالعباس ابن عطاءؒ ہیں جنہوں نے ابن منصورؒ کی کھل کرتائید وموافقت کرتے ہوئے اپنی جان تک دیدی۔ وہ جس قدرابن منصورؒ کے معتقدتھے ان کے واقعہ وفات سے معلوم ہوتاہےکہ کس طرح صاف صاف الفاظ میں ابن منصورؒ کی تائید وحمایت کی اوروزیرحامدکوکیسےسخت الفاظ میں سنائی، حتیٰ کہ یہی ان کے قتل کاسبب ہوا۔۲۔ امام محمد بن خفیف ضبی شیرازیؒ (متوفی۳۳۱ھ)بھی ابن منصورؒ کے معتقدین میں سے ہیں’’محمد بن خفیفؒ کا تو یہ قول ہے کہ حسین بن منصورعالم ربانی ہیں‘‘۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۶۸۹)
’’ابوعبداﷲمحمدبن خفیف شیرازی اہل فارس کے بزرگوں میں سےبڑے بزرگ تھے۔ تصوف اوراشارات ومعرفت میں مشہورتھےاورمقبول خاص وعام، صاحب کرامات امام تھے۔ حماد اورعبدالملک بن جنیدسےحدیث روایت کرتے ہیں۔ قومل جصاص اورہشام بن عبدان سےبھی ملاقات کی ہے۔ ان کے احوال وحکایات مشہور اورکتابوں میں مسطورہیں، رمضان ۳۷۷ھ میں وفات پائی‘‘۔ (الأنساب سمعانی: ص۳۴۴)ابوعبداﷲمحمدبن خفیف شیرازیؒ کے مکمل حالات جاننے کے لئے کتاب سیرۃ الشیخ الکبیر’’أبی عبداﷲمحمدبن خفیف الشیرازی‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔
’’محمد بن خفیف ضبیؒ شیرازمیں مقیم ہوگئےتھے، وہ اپنے وقت میں شیخ المشائخ اوریکتابزرگ تھے۔ علوم ظاہرکےبھی عالم تھے اورعلوم حقائق کےبھی۔ مقامات واحوال اورتمام اخلاق واعمال میں ان کی بہت اچھی حالت تھی‘‘۔ (الطبقات الکبریٰ: ج۱، ص۲۱۷)
ابن تیمیہ لکھتےہیں: ’’صوفیاء کے جن اکابر مشایخ کاتذکرہ ابو عبد الرحمٰن سُلَمی نے "طبقات الصوفیہ” میں اور ابو القاسم قُشیری نے "الرسالہ” میں کیا ہے، یہ سب مذہب اہل السنہ والجماعہ اور مذہب اہل الحدیث پر تھے، مثلاً: فضیل بن عیاض، جنید بن محمد [بغدادی]، سہل بن عبد اللہ تستری، عمرو بن عثمان مکی، ابو عبد اللہ محمد بن خفیف شیرازی وغیرہ، انکا کلام سنت وعقائد صحیحہ کے مطابق ہے، اور انہوں نے اس بارے میں کتب بھی تصنیف کی ہیں‘‘۔ (کتاب الصفدیۃ: ج۱، ص۲۶۷)
دوسرے بزرگ جوابن منصورؒ کو ماننے والوں میں سے ہیں وہ محمد بن خفیف ضبیؒ شیرازی ہیں۔ پس محمدبن خفیف جیسے مسلم امام کاابن منصورؒ کامعتقد ہوناابن منصورؒ کےولی کامل اورمقبول ہونے کی کافی دلیل ہے۔۳۔ امام ابوبکرشبلیؒ (متوفی۳۳۴ھ)بھی ابن منصورؒ کے معتقد ین میں سے ہیںخطیب بغدادیؒ تاریخ بغدادجلدنمبر۸ صفحہ نمبر۶۹۹ پرلکھتے ہیں: ’’امام شبلیؒ فرماتے ہیں کہ میں اور ابن منصوردونوں ایک ہی ہیں (یعنی میرا بھی حال وہی ہے جو ان کاہے) مگر(فرق اتنا ہے کہ) انہوں نے (اپناحال)ظاہرکردیااورمیں نےچھپائے رکھا‘‘۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۶۹۹)
امام ابن جوزیؒ لکھتے ہیں: ’’حضرت ابو بکر شبلیؒ حضرت جنید ؒ اوران کے طبقہ والوں کی صحبت میں رہے، مذہب مالکیہ میں فقہ حاصل کیا اور حدیثیں بہت لکھیں‘‘۔ (صفۃالصفوۃ: ص۴۸۵)’’شبلی ؒ کے خادم خاص کا بیان ہے کی جب حضرت شبلیؒ پر موت کے آثار ظاہر ہو ئے، زبان بند ہو گئی اور پیشانی پر پسینے کے قظرے نمودار ہوئے تو مجھے اشارے سے بلایا اور وضو کرانے کے لیے فرمایا۔ چنانچہ میں نے وضو کرایا لیکن داڑھی میں خلال کرانا بھول گیا، انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور انگلی سے اپنی داڑھی میں خلال کرنے لگے۔ حضرت جعفر خلدیؒ جب یہ واقعہ بیان کرتے تو بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے اور کہتے، لوگو بتاؤ تو سہی! یہ کیسا باکمال شخص تھا کہ جس نے زندگی کی آخری سانس تک شریعت کے آداب میں سے ایک ادب بھی فوت نہیں ہونے دیا‘‘۔ (صفۃالصفوۃ: ص۴۸۴-۴۸۵)
حضرت جنید ؒ نے ایک موقع پرفر مایا کہ: ’’فيقول الجنيد”لِکُلِّ قَوْمٍ تاجٌ، وَتاجُ هذَا القَوْمِ الشِّبْلی”‘‘۔ ’’ہر قوم کا ایک تاج ہو تاہے اور ہم اہل تصوف کے تاج شبلیؒ ہیں‘‘۔ (نفحات الأنس للجامی: ص۱۸۰)
’’حضرت ابوبکر محمد بن عمرؒ فرماتے ہیں کہ میں ابوبکر بن مجاہد کے پاس بیٹھا تھا تو شبلی آئے اور ابوبکر بن مجاہد ان کی تعظیم کیلئے کھڑےہوگئے اور ان سے معانقہ کیا اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا تو میں نے کہا‘ اے میرے سردار! آپ شبلی کے ساتھ ایسا کرتے ہیں حالانکہ بغداد والے اسے دیوانہ تصور کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے شبلی کے ساتھ ایسا ہی کیا ہے جیسا کہ میں نے حضورﷺ کی مجلس میں دیکھاآپ ﷺاس کیلئے کھڑے ہوگئے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔ تو میں نے عرض کیا! یارسول اللہ ﷺ آپ ﷺ تو شبلی کے ساتھ ایسا کرتے ہیں؟ یہ تو دیوانہ ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ یہ شبلی ہر نماز کے بعد پڑھتا ہے ’’لقدجاءکم رسول من انفسکم‘‘ آخر سورت تک اور پھر تین مرتبہ درود شریف پڑھتا ہے، حضرت فرماتے ہیں کہ میں نے شبلی سے پوچھا تو انہوں نے تصدیق کی اور ویسے ہی بیان کیا‘ جیسے میں نے سنا تھا‘‘۔ (القول البدیع: ص۲۵۱-۲۵۲)
امام ابوبکرشبلیؒ جیسے شیخ طریقت اورمتبع سنت بزرگ کا ابن منصورؒ کے حال کو اپنے حال سے تعبیرکرناابن منصورؒ کی بے گناہی اور ان کے ولی کامل ہونے کی بہت بڑی گواہی ہے۔۴۔ شیخ ابوالقاسم نصرآبادیؒ(متوفی۳۷۵ھ) نے ابن منصورؒ کو موحد تسلیم کیاہےخطیب بغدادیؒ تاریخ بغدادجلدنمبر۸ صفحہ نمبر۶۹۹ پرلکھتے ہیں: ’’محمد بن حسین نے بیان کیاکہ میں نے ابراہیم بن محمدنصرآبادی سے سناجب کہ ان پرحلّاج کاایک کلام روح کے متعلق نقل کرنے پرعتاب کیاگیا۔ انہوں نے عتاب کرنے والے سے فرمایا، کہ انبیاءوصدیقین کے بعداگرکوئی موحدہے تو حلّاج ہی ہے‘‘۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۶۹۹)
شیخ ابو القاسم نصرآبادیؒ صوفی بزرگ بھی ہیں اوران کو ائمہ محدثین نے ثقات وحافظ حدیث میں بھی شمار کیاہے۔خطیب بغدادیؒ لکھتے ہیں: ’’ابراہیم بن محمد بن احمد بن محمویہ، ابوالقاسم نصرآبادی نیساپوری صوفی ثقہ، حدیث کے بڑے عالم اورکثیرالروایت ہیں‘‘۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۷، ص۱۰۷)
امام ذہبیؒ فرماتے ہیں: ’’امام المحدث، مبلغ، صوفیوں کے شیخ ابوالقاسم ابراہیم بن محمد بن احمد بن محمویہ الخراسانی نصرآبادی نیساپوری پرہیزگارعبادت گزارتھے‘‘۔ (سیراعلام النبلاء: ج۱۶، ص۲۶۳)
آگے لکھتے ہیں کہ: ’’ابراہیم بن محمدنصرآبادی کہتے ہیں انبیاءوصدیقین کے بعداگرکوئی موحدہے تو حلّاج ہی ہے‘‘۔(سیراعلام النبلاء: ج۱۶، ص۲۶۵)
ابوالقاسم نصرآبادیؒ کا حسین بن منصورؒ کو موحدکامل قرار دینااوران کے اقوالِ موحشہ موہمہ کوغلبٔہ انوارتوحیدسے سرشارسمجھنااس بات کی دلیل ہے کہ ان پرلگائے گئے تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیادہیں اور ابن منصورؒ ولی اﷲمیں سےہیں۔۵۔ امام ابوالقاسم عبدالکریم القشیریؒ(متوفی۴۶۵ھ) کی ابن منصورؒ کے بارے میں رائےامام ابوالقاسم القشیریؒ نے اپنے رسالہ قشیریہ کے مقدمہ میں مشائخ صوفیہ کے عقائدکے متعلق دعویٰ کیاہے کہ وہ بالکل کتاب وسنت کے موافق اورسلف صالحین کے مطابق ہیں اور دلیل میں جہاں دیگراجلۂ صوفیہ وائمہ طریق کے اقوال بیان کئے ہیں وہیں حسین بن منصورؒ کے توحیدوصفات باری تعالیٰ کےبارے میں کہےگئےاقوال بھی نقل کئے ہیں۔ جس سے یہ بات واضح ہے کہ امام قشیریؒ کے نزدیک ابن منصورؒ بھی مشائخ صوفیہ میں سے ہیں۔الإمام أبی المواهب عبد الوهاب بن أحمد بن علی الأنصاری الشافعی المشهور بالشعرانیؒ فرماتے ہیں کہ: ’’امام قشیری نے ابن منصورکے تزکیہ (اورتبریہ) کی طرف اشارہ کردیاہے کیونکہ انہوں نے ابن منصورکے عقیدہ کوعقائداہلسنت کے ساتھ اپنی کتاب کے شروع میں بیان کرکے باب حسن ظن کاافتتاح کیاہے۔ پھرمروان طریق کے پیچھے بھی ان کاذکرکیاکیونکہ ان کے متعلق کچھ سے کچھ کہاگیاہے‘‘۔ (الطبقات الکبریٰ اللشعرانی:ج۱، ص۱۹۵)
امام قشیریؒ کا درجہ علم ظاہروباطن میں جس قدربلندہے۔ وہ صوفی بزرگ بھی ہیں اورمحدث بھی، عالم فاضل بھی ہیں اورعارف کامل بھی۔ ان کی ولادت ۳۷۶ھ میں ہوئی اور وفات ۴۶۵ھ میں، تو ان کازمانہ بھی ابن منصورؒ کے زمانے سے بہت قریب کاہے۔حافظ ابن اثیرؒامام قشیریؒ کی جلالت شان میں یوں بیان کرتے ہیں کہ: ’’امام قشیری، فقیہ، اصولی، مفسر، کاتب اورگوناگواوصاف حسنہ سے متصف تھے‘‘۔ (ابن اثیر، ابوالحسن علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ: بیروت، ج۱۰، ص۸۸)فقروتصوف میں آپ کے مقام ومرتبہ کے حوالے سے امام ذہبیؒ لکھتے ہیں: ’’قشیری اپنے زمانے میں اقلیم تصوف کے بے تاج بادشاہ تھے۔ اﷲتعالیٰ نے آپ کو سخت ترین ریاضت ومجاہدہ کی ہمت ارزانی فرمائی۔ آپ پاکیزہ نفس، نفیس اشارات ونکات کے ذریعے معانی کی یہہ تک پہنچ جانے والے نکتہ رس تھے‘‘۔ (تاریخ اسلام للذھبی: ص۱۷۲)امام ذہبیؒ خطیب بغدادیؒ کا قول رقم کرتے ہوئےلکھتےہیں: ’’آپ ثقہ اورواعظ خوش بیان تھے اورنفیس اشارات ونکات بیان کرتے‘‘۔ (سیراعلام النبلاء: ج۱۸، ص۲۳۰)
خطیب بغدادیؒ لکھتے ہیں: ’’قشیری ۴۴۸ھ میں بغداد تشریف لائےاورحدیثوں کی روایت کی، ہم نے بھی ان سے حدیثیں لکھیں، آپ ثقہ تھے‘‘۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۱۲، ص۳۶۶)
امام سبکیؒ لکھتے ہیں: ’’آپ کی مجلس وعظ ونصیحت کے بارے میں آپ کے معاصرین کااجماع ہے کہ آپ اس فن میں عدیم النظیرتھے‘‘۔ (الطبقات شافعیۃ الکبریٰ: ج۳، ص۱۵۳)
۶۔ سیدنا شیخ عبدالقادرجیلانیؒ (متوفی۵۶۱ھ)کی ابن منصورؒ کے بارے میں رائےابن منصورؒکومعذورماننے والے چھٹے بزرگ شیخ عبدالقادرجیلانیؒ ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ: ’’حسین بن منصورحلّاج کو(طریق میں) ایک دشواری پیش آگئی تھی توان کےزمانہ میں کوئی ایسا نہ تھاجوان کاہاتھ پکڑلیتا (اورسلامتی کےساتھ اس دشواری سےنکال دیتا)، اورمیں اپنے اصحاب ومریدین اورمحبین میں سے ہراس شخص کاہاتھ پکڑنے والاہوں جسکی سواری کو ٹھوکرلگ جائے‘‘۔ (الطبقات الکبریٰ اللشعرانی:ج۱، ص۲۲۷)
۷۔ شیخ فریدالدین عطاؒ(متوفی۵۴۰ھ) کی ابن منصورؒ کی ہمایتابن منصورؒ کوماننے والے ساتویں بزرگ حضرت شیخ فریدالدین عطاؒ ہیں جنہوں نے اپنی کتاب تذکرۃ الاولیاءمیں ان کا ذکرجمیل بہت عمدہ طریقے سے تفصیل کے ساتھ کیاہے۔
شیخ فریدالدین عطاؒکی جلالت شان اس سے ظاہر ہے کہ مولانا رومی آپ کی شان میں فرماتے ہیں:ہفت شہرعشق راعطاگشت ماہنوااندرغم یک کوچہ ایماورمثنوی مولوی معنوی میں ان کا کلام بطورحجت کے لاتے ہیں اور اس کی شرح فرماتے ہیں۔
۸۔ مولانارومیؒ (متوفی۶۷۲ھ) کی ابنمنصورکی مدح وثناکرناابن منصورؒ کو ماننے والے آٹھویں بزرگ حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ ہیں۔ آپ نے مثنوی مولوی معنوی میں ان لوگوں کوبہت بُرابھلاکہاہے جنہوں نے ابن منصورؒ کو ناحق سولی دی، چنانچہ فرماتے ہیں:چون قلم در دست غدارے بود لاجرم منصور بر دارے بودجب قلم کسی غدار کے ہاتھ میں ہوگا تولامحالہ منصورسولی پرہوگا
اس میں غدار سے مراد وزیرحامدالعباس ہے جوابن منصورکادشمن ہوگیاتھا، جس نے علماءکوان کی تکفیرپرمجبورکیا۔ نیزابن منصورکی مدح میں مزید فرماتے ہیں کہ:بود انا الحق در لب منصور نور بود انا الله در لب فرعون زور’’اناالحق‘‘ منصورکے لب پرنورتھا ’’میں خداہوں‘‘فرعون کے لب پر جھوٹ تھا
آن انا منصور، رارحمت بُدہ ایں انا فرعون،را لعنت بُدہوہ انامنصورکےلئے(باعث)رحمت تھا یہ انافرعون کے لئے (موجب)لعنت تھا
گفت فرعونے "انا الحق”، گشت پست گفت منصورے "انا الحق” و برَستکسی فرعون نے اناالحق کہاوہ پست ہوا کسی منصورنے اناالحق کہاوہ بالاہےآن انا را لعنه الله، در عقب ویں انا را رحمه الله، اے محباس اناکے لئے اﷲتعالیٰ کی لعنت درپےہے اوریہ انااےدوست! اﷲکی رحمت ہے
مولانا رومیؒ کی جلالت شان علمائے ظاہراورعلمائے باطن دونوں کے نزدیک مسلم ہے، ان کاابن منصورکوماننااورمدح وثناکرنا، ابن منصورؒکے صوفی، عارف ومقبول ہونے کی کافی دلیل ہے۔۹۔ شیخ الاکبر ابن عربیؒ (متوفی۶۳۸ھ)کی ابن منصورسے عقیدتنویں بزرگ جنہوں نے ابن منصورؒ کی بڑی تعظیم کی وہ شیخ محی الدین ابن عربیؒ ہیں۔ لسان المیزان میں حافظ ابن حجرؒ کا تنقیدی قول اس کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ ’’ابن عربیؒ صاحب الفصوص حسین بن منصورؒ کی بہت تعظیم کرتے اور اورجنید میں کلام کرتےتھے‘‘۔ (لسان المیزان: ج ۲، ص ۳۱۵)شیخ ابن عربیؒ کا درجہ مشائخ صوفیہ کے نزدیک تو بہت بلندہے، علمائے ظاہربھی ان کی جلالت شان کے معترف ہیں۔ لسان المیزان میں حافظ ابن حجرؒنے حافظ ذھبیؒ کی جرح کوردکرکے بہت سے محدثین کے اقوال انکی توثیق وتعدیل میں نقل کئےہیں۔ حافظ ابن حجرؒنے ابن النجاروابن نقطہ وابن العدیم اورزکی مندری وابن الاباروغیرہم کے اقوال ان کی مدح وثنامیں چار صفحات کے اندربیان کئے ہیں۔ (لسان المیزان: ج۵، ص۳۱۲-۳۱۵)فرقہ اہلحدیث کے عالم جناب نواب صدیق حسن خان صاحب اپنی کتاب التاج المکلل میں شیخ ابن عربی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ : ’’شیخ ابن عربی میں اتنی خوبیاں ہیں کہ جن کا احاطہ ممکن نہیں اور وہ اللہ کی مابین دلیل اور کھلی نشانی ہیں۔ اور ان کی اتنی کرامات ہیں جنہیں کئی جلدوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ (التاج المکلل: ص۱۶۸)
۱۰۔ شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ (متوفی۹۷۳ھ)نےابن منصورؒکو اپنی کتاب میں اولیاءاﷲمیں شمارکیاہےابن منصورؒ کو ماننے والے دسویں بزرگ شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ شافعی ہیں جواپنے وقت میں علوم ظاہروباطن کے مسلم امام تھے۔ آپ نے اپنی کتاب طبقات الکبریٰ میں جو طبقات صوفیہ کے لئے مخصوص ہے ابن منصورؒ کواولیاءاﷲمیں شمارکیااور ان کے عارفانہ اقوال سے تصریح کردی ہے کہ صحیح قول یہ ہے کہ ابن منصورؒ صوفیائے کرام میں سے تھے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ لکھتےہیں: ’’صوفیاء کے جن اکابر مشایخ کاتذکرہ ابو عبد الرحمٰن سُلَمی نے "طبقات الصوفیہ” میں اور ابو القاسم قُشیری نے "الرسالہ” میں کیا ہے، یہ سب مذہب اہل السنہ والجماعہ اور مذہب اہل الحدیث پر تھے، مثلاً: فضیل بن عیاض، جنید بن محمد [بغدادی]، سہل بن عبد اللہ تستری، عمرو بن عثمان مکی، ابو عبد اللہ محمد بن خفیف شیرازی وغیرہ، انکا کلام سنت وعقائد صحیحہ کے مطابق ہے، اور انہوں نے اس بارے میں کتب بھی تصنیف کی ہیں‘‘۔ (کتاب الصفدیۃ: ج۱، ص۲۶۷)
ابن تیمیہ کی مبہم، متشدداوربلادلیل جرح کی ایک اور اہم کمزوری یہ بھی ہے کہ آپ آٹھویں صدی ہجری کے درمیانی دورسے تعلق رکھتے ہیں جبکہ حسین بن منصورؒ کے قتل کا واقعہ چوتھی صدی ہجری کے شروع میں رونماہوا، لہٰذا اس واقعہ کے چارسو سال بعد پیداہونے والے ابن تیمیہ کی مبہم جرح ابن منصورؒکےدورکےجلیل القدرمحدثین و بزرگان دین اوراولیاءکرام ابوالعباس بن عطاء بغدادیؒ،محمد بن خفیف شیرازیؒ، ابراہیم بن محمدنصرآبادی نیشاپوریؒ اورامام ابوبکرشبلیؒ کی ابن منصورؒ کے حق میں دیگئی گواہی سے زیادہ معتبرکیسے ہوسکتی ہے؟۵۔ حافظ ابن الجوزیؒ کی جرح کاجوابحافظ ابن الجوزیؒ کایہ کہناکہ ’’بے شک وہ جھوٹا باطل پرست تھا‘‘مبہم اوربلادلیل دعویٰ ہے کیونکہ کسی ایک ضعیف روایت سے بھی یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ ابن منصورؒجھوٹےتھے۔ لہٰذا جرح وتعدیل کے میدان میں اس جرح کی بھی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ محض صرف دعویٰ کردینے سے الزام ثابت نہیں ہوتاجب تک کہ صحیح سند سے وجوہ طعن ثابت نہ ہو۔ اگراس طرح سے کسی بھی مبہم جرح کو قبول کرلیاجائے تو پھر بڑے سے بڑے محدث امام کی ثقاہت وعدالت ثابت نہ ہوسکے گی۔حافظ ذہبیؒ، حافظ ابن حجرؒ، ابن تیمیہ اورحافظ ابن الجوزیؒ کی جرحوں کی بہترین مثال کچھ اس طرح سے دی جاسکتی ہے کہ عکرمہ مولی ابن عباسؓ ونافع مولی ابن عمرؓپربھی بعض ائمہ نے سخت جرح کی ہیں مگردوسرے علماءکی توثیق وتعدیل سے ان کو مقبول قراردیاگیا ہےاورجرح مبہم پرالتفات نہیں کیاگیا۔ بالکل یہی معاملہ ابن منصورؒ کے ساتھ بھی کرناچاہیئےکیونکہ ابن منصورؒکی توثیق وتعدیل ابراہیم بن محمدنصرآبادیؒ جیسے حافظ الحدیث و متبع سنت، امام شبلی ؒجیسے امام طریق، ابوعبداﷲبن خفیفؒ جیسے شیخ طریقت اورابوالعباس بن عطاءؒجیسے ولی اﷲومحدث نے کررکھی ہے۔زبیرعلی زئی صاحب اشرف علی تھانوی کے دعوے پر اشکال کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’تھانوی صاحب نے یہ دعویٰ بھی کیاہےکہ ابن منصوراورجنیدکاعقیدۃ توحیدایک ہی تھا‘‘۔ مگرانہوں نے اس دعوی پرکوئی صحیح دلیل پیش نہیں کی‘‘۔ (ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۲۱،ص۱۰)
اشکال کا جوابزبیرعلی زئی صاحب کی علمی قابلیت وصلاحیات پرتعجب ہوتاہے کہ موصوف کوعلی تھانوی کے دعوے کی دلیل ہی نظرنہ آسکی، حالانکہ امام ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن القشیریؒ (متوفی: ۴۶۵)کےرسالۃ القشیریہ میں عقیدۃ توحید کے بیان میں جہاں حضرت جنیدبغدادیؒ کے اقوال درج ہیں، وہیں ابن منصورؒکے اقوال بھی درج ہیں لیکن موصوف نے انہیں پڑھنے کی زحمت ہی گوارہ نہ کی یاپھرپڑھے جانے کے باوجودبھی لاعلمی ظاہرکررہے ہیں تاکہ عام اورلاعلم مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونک سکیں۔امام ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن القشیریؒ (متوفی: ۴۶۵)لکھتے ہیں: ’’محمد بن احمداصفہانیؒ نے بتایاکہ ایک شخص حضرت حسین بن منصورؒکے قریب آکھڑاہوااورکہنے لگا، وہ حق کون ہے جس کی طرف صوفیہ اشارہ کرتے رہتے ہیں؟ فرمایاجوسب کوبنادینے والاہے مگراسے بنانے والاکوئی نہیں جسے اس کی علت قراردیاجائے‘‘۔ (الرسالۃ القشیریۃالامام ابوالقاسم القشیری: ص ۴۹۶)
’’حسین بن منصورؒ اﷲتعالیٰ سے اپنی محبت کا اظہاریوں فرماتے ہیں کہ: محبوب سے تمہاری محبت یہ ہے کہ اس کے سامنے اپنے تمام اوصاف بالائے طاق رکھ دو‘‘۔ (الرسالۃ القشیریۃالامام ابوالقاسم القشیری: ص ۵۲۳)
خطیب بغدادیؒ نے ابوالطیب محمدبن الفرخان کے حوالے سے روایت کیاہےکہ: ’’میں نے حسین بن منصورسے سناوہ فرماتے تھے کہ اولین وآخرین کے علوم کاخلاصہ چارباتوں میں ہے۔ (۱) رب جلیل کی محبت (۲) متاع قلیل (یعنی دنیا) سے نفرت (۳) کتاب منزل کااتباع (۴) تغیّرحال کاخوف‘‘۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۶۹۲)
زبیرعلی زئی صاحب کے دجل وفریب وکذب بیانیاںاورباطل وکھوکھلے دعووں کے مدلل جواباتزبیرعلی زئی صاحب کاپہلا جھوٹ: زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں: ’’ان شدید جرحوں کے مقابلے میں حلّاج مذکور کی تعریف و توثیق ثابت نہیں ہے‘‘۔ (ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۲۱،ص۸)
یہاں زبیرعلی زئی صاحب نے کتنی ڈھٹائی اوربے شرمی کے ساتھ اتنابڑاجھوٹ بولاہے، حالانکہ ابوالعباس ابن عطاؒ جیسے محدث بزرگ، ابوعبداﷲبن خفیف شیرازیؒ جیسے شیخ طریقت، امام شبلیؒ جیسے جلیل القدرامام ومتبع سنت، ابراہیم بن محمد نصرآبادیؒ جیسے حافظ الحدیث ومتبع سنت، امام ابوالقاسم عبدالکریم بن ھوازن القشیری جیسےجلیل القدرمحدث ومفسر، سیدنا شیخ عبدالقادرجیلانیؒ شیخ فریدالدین عطاؒ اورمولاناجلال الدین رومیؒ جیسےاولیاءاﷲنے ابن منصورؒ کی تعریف وتوثیق کررکھی ہے جنہیں ہم اوپرتفصیل کے ساتھ بحوالہ بیان کرچکے ہیں۔زبیرعلی زئی صاحب کادوسراجھوٹ: زبیرعلی زئی صاحب تاریخ بغدادکے حوالے سےمحمد بن یوسف القطان کی مبہم جرح نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ابو عبدالرحمٰن السلمی اگر چہ اپنے عام شہر والوں اور اپنے مریدوں کے نزدیک جلیل القدر تھا مگر اسی شہر کے محدث محمد بن یوسف القطان النیسابوری فرماتے ہیں کہ: ’’کان أبو عبدالرحمٰن السلمي غیر ثقۃ۔۔۔۔۔وکان یضع للصوفیۃ الأحادیث“۔ ’’ابوعبدالرحمٰن السلمی غیر ثقہ تھا۔۔۔۔۔ اور صوفیوں کے لئے احادیث گھڑتا تھا‘‘۔ (ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۲۱،ص۹)
زبیرعلی زئی صاحب کایہ دوسرابڑاجھوٹ ہے، کیونکہ ابوعبدالرحمٰن السلمی صرف اپنے عام شہروالوں اور مریدوں کے نزدیک جلیل القدر نہ تھے بلکہ ہرخاص و عام، موافق و مخالف، حکمراں و رعایا، سب کے درمیان اوران کے اپنے شہر میں اور بلاد اسلامیہ کے ہر شہر میں یکساں مقبول تھے۔حافظ ذہبیؒ لکھتے ہیں: ”ان (ابوعبدالرحمٰن السلمی)کی تصنیفات بہت مقبول تھیں اور لوگ ان کو بہت پسند کرتے تھے اور بڑی گراں قیمت پر خریدتے تھے اور ان سے ان کی تصنیفات روایت کرتے تھے۔ وہ خاص و عام، موافق و مخالف، حکمراں و رعایا، سب کے درمیان اوران کے اپنے شہر میں اور بلاد اسلامیہ کے ہر شہر میں یکساں مقبول تھے اور اسی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے‘‘۔ (سیراعلام النبلاء: ج۱۷، ص۲۴۷؛ سؤالات السجزی للحاکم: ص ۶۵)آگے مزید لکھتے ہیں: ”حافظ عبدالغافر نے اپنی تاریخ میں لکھا ہےکہ ابو عبدالرحمٰن اپنے عہد میں طریقہ تصوف کے شیخ تھے۔ ان کو تمام علوم کے حقائق اور طریقہ تصوف کی معرفت حاصل تھی۔ انھوں نے فن تصوف میں بڑی نادر ومشہور کتابیں لکھیں اور انھوں نے ایسا کتب خانہ تشکیل دیا تھا کہ ان سے قبل کوئی بھی ایسا کتب خانہ تیار نہ کر سکا حتیٰ کہ سوسے زیادہ کتابیں لکھیں اورچالیس سال سے زیادہ درس وتدریس کاکام کیااورنیساپور، مرو، عراق اورحجازمیں حدیثیں لکھیں اورحفاظ کواس پرمنتخب فرمایا‘‘۔ (سیراعلام النبلاء: ج۱۷، ص۲۴۹)
خطیب بغدادیؒ لکھتے ہیں: ”ابو عبدالرحمٰن کا مقام و مرتبہ ان کے اہل شہر میں بہت بلند تھا اور صوفیہ کے درمیان ان کی بڑی حیثیت تھی۔ ساتھ ہی وہ حدیث کے بھی عالم تھے۔ انھوں نے مشائخ حدیث سے روایات جمع کیں اور کتابیں لکھیں۔ نیشا پور میں ان کا ایک دائرہ (خانقاہ) اب بھی ہے جس میں صوفیہ رہتے ہیں، میں خود وہاں گیاتھا اسی دائرہ میں ان کی قبر ہے میں نے قبر کی زیارت بھی کی‘‘۔ (تاریخ بغداد: ج۳، ص۴۳)
امام ذہبیؒ اور خطیب بغدادیؒ کے بیان سے اس بات کی واضح دلیل مل گئی کہ ابوعبدالرحمٰن السلمی نہ صرف اپنے عام شہروالوں میں مقبول تھے بلکہ بلاد اسلامیہ کے ہر شہر میں یکساں مقبول تھے۔ابوعبدالرحمٰن السلمی پر زبیرعلی زئی کی تنقید کے حوالے سے آخری بات یہ ہے کہ ان پر حدیث وضع کرنے کا الزام محمد بن یوسف القطان نے لگایا ہے، لیکن ان کا الزام بھی مبہم ہے۔ ان کی جرح ہے ”وکان یضع للصوفیہ احادیث“ اس طرح کی مبہم جرح کسی کو متہم کرنے کے لیے کافی نہیں ہےجبکہ اس جرح کے خلاف آئمہ حدیث کے اقوال بھی موجودہوں۔ اس لیے خطیب بغدادیؒ جنہوں نے یہ جرح سب سے پہلے نقل کی ہے، انھوں نے بھی کہا ہے کہ ’’وقدکان مع ذلک صاحب حدیث مجوداً‘‘۔ ’’تاہم وہ حدیث کےماہرتھے‘‘۔ (تاریخ بغداد: ج۳، ص۴۳)(سیراعلام النبلاء: ج۱۷، ص۲۵۰)
طبقات شافعیہ میں امام تاج الدین سبکیؒ (متوفی۷۷۱ھ)محمد بن یوسف القطان کی جرح نقل کرنے کے بعدخطیب بغدادیؒ کا قول رقم کرتےہوئےجواب میں لکھتے ہیں: ’’قول الخطیب فیہ ھوالصحیح، وابو عبدالرحمن ثقہ، ولاعبرة بھذا الکلام فیہ‘‘۔ ’’خطیب کا قول بالکل صحیح ہےاور ابو عبدالرحمٰن ثقہ ہیں اور اس قول (یعنی یوسف القطان کےقول) کا کوئی اعتبار نہیں‘‘۔ (الطبقات الشافعیہ: ج۵، ص۱۴۵؛ سؤالات السجزی للحاکم: ص ۶۵)
حافظ ابو یعلی الخلیلیؒ (المتوفی ۴۶۶ھ) فرماتے ہیں: ’’ثِقَةٌ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ‘‘۔ ’’ان (یعنی ابو عبدالرحمٰن سُلمی) کے ثقہ ہونے پرسب کااتفاق ہے‘‘۔ (الارشاد فی معرفۃ علماء اہلحدیث: ص۸۶۰)
زبیرعلی زئی صاحب کاتیسراجھوٹ: زبیرعلی زئی صاحب اپنے رسالےماہنامہ الحدیث حضرومیں تیسراجھوٹ بولتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اس شدید جرح کے مقابلے میں سلمی مذکور کی تعدیل بطریقہِ محدثین ثابت نہیں ہے‘‘۔ (ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۲۱،ص۹)
محمد بن یوسف القطان نے السلمی پر دوسرا الزام یہ بھی لگایا ہے کہ وہ امام حاکم کی وفات کے بعد یحییٰ بن معین کی تاریخ سے اصم کی روایات بیان کرنے لگے۔ یہ جرح بھی مبہم ہے کیونکہ اس کی کوئی دلیل یا مثال نہیں ملتی۔امام حاکم کا انتقال ۴۰۵ھ میں ہوا۔ اس وقت ابو عبدالرحمٰن السلمی کی عمر ۸۰سال تھی۔ کیا یہ توقع کی جا سکتی ہےکہ ایک شخص ساری زندگی زہد و تقویٰ کی زندگی گزارتا رہے اور بڑھاپے میں ایک معمولی بات کے ذریعے اپنے تمام نامہ اعمال کو سیاہ کر لے۔ اس لیے بظاہر السلمی کو وضع حدیث سے متہم کر نے یا دوسرے اعتراض سے قتہم کر نے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ (سیراعلام النبلاء: ج۷، ص۴۳۳)امام ابو عبد اللہ الحاکمؒ فرماتے ہیں: ’’كثير السماع والطلب متقن فيه من بيت الحديث والزهد والتصوف‘‘۔ (سؤالات السجزی للحاکم: ص ۶۵)
شیخ ابن تیمیہ لکھتےہیں: ’’صوفیاء کے جن اکابر مشایخ کاتذکرہ ابو عبد الرحمٰن سُلَمی نے "طبقات الصوفیہ” میں اور ابو القاسم قُشیری نے "الرسالہ” میں کیا ہے، یہ سب مذہب اہل السنہ والجماعہ اور مذہب اہل الحدیث پر تھے، مثلاً: فضیل بن عیاض، جنید بن محمد [بغدادی]، سہل بن عبد اللہ تستری، عمرو بن عثمان مکی، ابو عبد اللہ محمد بن خفیف شیرازی وغیرہ، انکا کلام سنت وعقائد صحیحہ کے مطابق ہے، اور انہوں نے اس بارے میں کتب بھی تصنیف کی ہیں‘‘۔ (کتاب الصفدیۃ: ج۱، ص۲۶۷)
حافظ جمال الدین ابن الزکی المزیؒ نے اپنی کتاب تہذیب الکمال میں ابوعبدالرحمٰن سُلمی سے روایت نقل کرکے ان کی توثیق فرمائی ہے۔ ’’ابوعبدالرحمٰن محمد بن حسین السلمی صوفی کہتے ہیں کہ میں نے حافظ دار قطنی سے پوچھا کہ ابن خزیمہ اور نسائی جب کوئی حدیث روایت کریں تو آپ کس کو مقدم رکھیں گے؟ کہا: نسائی کو اس لیے کہ وہ بڑے مسندہیں، لیکن یہ بات بھی ہے کہ میں نسائی پر کسی کو بھی فوقیت نہیں دیتا گرچہ ابن خزیمہ بے مثال امام اور پختہ عالم ہیں‘‘۔ (تہذیب الکمال: ج۱، ص۳۳۴، ۳۳۵)
زبیرعلی زئی صاحب کاچوتھاجھوٹ: زبیرعلی زئی صاحب دیوبندی مولانا ظفراحمدعثمانی کی کتاب ’’القول المنصور فی ابن المنصور، سیرت منصورحلّاج‘‘پراعتراض کرتےہوئےاپنےرسالے ماہنامہ الحدیث حضرومیں چوتھاجھوٹ بولتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’عبدالکریم بن ہوازن نے رسالہ قشیریہ میں حسین الحلاج کو بطورِ ولی ذکر نہیں کیا۔ رسالہ قشیریہ اس کے ترجمہ سے خالی ہے۔ کسی دوسرے شخص کے حالات میں ذیلی طور پر اگر ایک موضوع روایت میں اُس کا نام آگیا ہے تو اس پر خوشی نہیں منانی چاہئے‘‘۔ (ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۲۱،ص۹)
’’محمد بن احمداصفہانیؒ نے بتایاکہ ایک شخص حضرت حسین بن منصورؒکے قریب آکھڑاہوااورکہنے لگا، وہ حق کون ہے جس کی طرف صوفیہ اشارہ کرتے رہتے ہیں؟ فرمایاجوسب کوبنادینے والاہے مگراسے بنانے والاکوئی نہیں جسے اس کی علت قراردیاجائے‘‘۔ (الرسالۃ القشیریۃالامام ابوالقاسم القشیری: ص ۴۹۶)
’’حسین بن منصورؒ اﷲتعالیٰ سے اپنی محبت کا اظہاریوں فرماتے ہیں کہ: محبوب سے تمہاری محبت یہ ہے کہ اس کے سامنے اپنے تمام اوصاف بالائے طاق رکھ دو‘‘۔ (الرسالۃ القشیریۃالامام ابوالقاسم القشیری: ص۵۲۳)
اسی طرح خطیب بغدادیؒ نے ابوالطیب محمدبن الفرخان کے حوالےسےبھی روایت بیان کی ہے جس سے حسین بن منصورؒ کا صحیح العقیدہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔خطیب بغدادیؒ نے ابوالطیب محمدبن الفرخان کے حوالے سے روایت کیاہےکہ: ’’میں نے حسین بن منصورسے سناوہ فرماتے تھے کہ اولین وآخرین کے علوم کاخلاصہ چارباتوں میں ہے۔ (۱) رب جلیل کی محبت (۲) متاع قلیل (یعنی دنیا) سے نفرت (۳) کتاب منزل کااتباع (۴) تغیّرحال کاخوف‘‘۔ (تاریخ مدینۃ السلام، الأمام خطیب بغدادیؒ: ج۸، ص۶۹۲)
زبیرعلی زئی صاحب کاپانچواں جھوٹ: زبیرعلی زئی صاحب مولانا ظفراحمدعثمانیؒ کی کتاب ’’القول المنصور فی ابن المنصور، سیرت منصورحلّاج‘‘پراپنےدوسرےاعتراض میں پانچواں جھوٹ بولتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’علمی میدان میں عبدالوہاب الشعرانی، خرافی صوفی بدعتی کے بے سند حوالوں سے کام نہیں چلتا بلکہ صحیح و ثابت سندوں کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔ (ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۲۱،ص۱۰)
جو شخص بدعت کی اتنی خوبصورت اورعمدہ تعریف قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کرے وہ خودبدعتی کیسے ہوسکتاہے، لہٰذا یہ بات ثابت ہوگئی کہ زبیرعلی زئی صاحب کا بلادلیل بہتان جھوٹااوربے بنیادہے۔زبیرعلی زئی صاحب کے اس بہتان کے جواب میں ضروری ہوگا کہ امام عبد الوھاب الشعرانیؒ کاسلسلہ نسب اورعلمی قابلیت کی مختصرتفصیل پیش کی جائے تاکہ قارئین کوان کے علمی مقام کاکچھ اندازہ ہوسکے۔شیخ عبدالوھاب بن احمدبن علی الشعرانیؒ کےمختصرحالاتاِمام عبدالوہاب الشعرانیؒ کی وِلادت ۷۲ رمضان المبارک ۸۹۷ھ میں ہوئی اوروفات ۹۷۳ھ میں ہوئی۔ (الطبقات الکبریٰ اللشعرانی اردو: ص۳۰) (المقاصد الحسنہ ،امام سخاوی: ص۲۷؛دارالکتب العربی)
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے: ’’آپ نے اپنا نسب یوں بیان فرمایاہےعبد الوہاب بن احمد بن علی بن احمد بن علی بن محمد بن زوفا ابن الشیخ موسیٰ جنہیں بہنساکے شہروں میں ابوعمران کی کنیت سے یاد کیاجاتاہے۔ آپ میرے چھٹے داداہیں۔ بن سلطان احمد بن سلطان سعید ابن سلطان قا شین ابن سلطان محیا بن سلطان زوفا بن ریان بن سلطان محمد بن موسیٰ ابن السیدمحمد بن الحنفیہ بن الامام علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم‘‘۔ (الطبقات الکبریٰ اللشعرانی اردو: ص۲۹) (ارشاد الطالبین الامام عبدالوہاب الشعرانی: ص۱۱؛دارالکتب العلمیہ بیروت)آپ اپنے سلسلۂ نسب وشرافت نسبی کی برکات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اگرچہ غالب طورپرتقویٰ کے بغیرنسبی شرافت نفع نہیں دیتی لیکن کبھی کچھ فائدہ حاصل ہوتاہےجیساکہ اﷲتعالیٰ نے اس کااشارہ اپنے اس ارشادمیں فرمایاہے ﴿وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا﴾[کہف: ۸۲] (جن دویتیم بچوں کی دیوارحضرت خضراورموسیٰ علیٰ نبیناوعلیہم الصلوٰۃ والسلام نے کھڑی کردی) ان دونوں کا باپ نیک تھا۔ اگریہ بات نہ ہوتی کہ ان کاباپ صالح تھاتووہ اس انعام میں داخل نہ ہوتےاوراس کی صفت صلاح کی تصریح فرمانے کاچنداں فائدہ نہ ہوتا۔ پس میں اﷲتعالیٰ کی حمدکرتا ہوں کہ اس نے مجھے نادرفی بادشاہوں کی اولاد میں سے کیا‘‘۔ (الطبقات الکبریٰ اللشعرانی اردو: ص۲۹)
کُتبِ احادیث کے معروف شارح و محدثینِ متاخرین کی سنَد حضرت امام عبدالرؤف المناویؒ (متوفی: ۱۰۳۱ھ) اپنی کتاب ’’الکواکب الدریہ فی تراجم السادۃ الصوفیہ الطبقات الکبریٰ‘‘ میں امام شعرانیؒ کی شان بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’عبدالوھاب بن احمد الشعرانی ہمارے شیخ ہیں، امام ہیں، عالم وعامل ہیں، لوگوں کی نظرمیں فضیلت رکھنے والے باعزت شخصیت ہیں اوروصیلہ رکھتے ہیں، عبادت گزارہیں، پرہیزگارہیں، فقیہہ ہیں، محدث ہیں، صوفی ہیں، بزرگ ہیں، صاحب نسبت ہیں اورامام محمدبن حنفیہ رضی اﷲعنہ کی اولادمیں سے ہیں‘‘۔ (طبقات الکبریٰ للمناوی: ج۳، ص۳۹۲؛ دار صادر بیروت)
امام شھاب الدین احمدبن محمد العکری حنبلی دمشقیؒ(متوفی۱۰۸۹ھ) اپنی کتاب ’’شذرات الذھب فی اخبارمن ذھب‘‘ میں امام شعرانیؒ کی شان کچھ اس طرح بیان کرتےہیں: ’’شیخ عبدالوھاب بن احمد الشعرانی شافعی کے بارے میں شیخ عبدالرؤف المناوی "طبقات الکبریٰ” میں بیان فرماتے ہیں کہ ہمارے شیخ امام عالم وعامل ہیں، عبادت گزارہیں، پرہیزگارہیں، فقیہہ ہیں، محدث ہیں، صوفی ہیں، بزرگ ہیں، صاحب نسبت ہیں اورامام محمدبن حنفیہ رضی اﷲعنہ کی اولادمیں سے ہیں‘‘۔ (شذرات الذھب ابن عماد الحنبلی: ج۸، ص۵۴۴)
امام عبدالرؤف المناویؒ آپ کی کرامت کے بیان میں لکھتے ہیں: ’’جو کتب آپ نے حفظ فرمائیں ان میں سے صرف چند ایک کے نام یہ ہیں، المنہاج النووی، الفیتین، تو ضیح ابن ہشام، تلخیص المفتاح،شاطبیہ،اورقوائدابن ہشام، الرَّوض۔ میں نے تاریخ اور طبقات کی کتب میں آج تک کسی کے حالات میں یہ نہیں دیکھا کہ اسے اتنی(یعنی امام شعرانی کی طرح) کتابیں حفظ ہوں‘‘۔ (طبقات الکبریٰ للمناوی: ج۳، ص۳۹۲؛ دار صادر بیروت)حضرت امام شعرانی ؒ عالم اسلام کی عظیم وقدیم درس گاہ جامعہ الازہر الشریف میں داخل ہوئے اور مصر کے تقریباً پچاس مشائخ کے سامنے زانوئے تلمّذ تہ فرمایا اور علومِ منقولات و معقولات حاصل کیئے جن میں مشہور اساتذہ کے اسما گرامی یہ ہیں: ’’شیخ امین الدین جامع الغمری کے امام جن سے آپ نے المنھاج، جمع الجوامع، شرح الفیہ عراقی، الفیہ ابن مالک پڑھیں۔ شیخ شمس الدواخلی سے شرح الارشاد، الروض، شرح الفیہ ابن مصنف، شرح التوضیح، مطول، شرح جمع الجوامع، شرح الفیہ للعراقی۔ النورالمحلی سے شرح جمع الجوامع اور حاشیہ المعلقات السبع، شرح المقاصد۔ ملا علی عجمی سے نحو کی تمام کتب، الاشمعونی سے المنہاج، الفیہ، جمع الجوامع۔ شیخ الاسلام زکریا سے رسالہ قشیریہ، الروض، التحریر ، آداب البحث اوران کے علاوہ بھی بہت ساری کتب پڑھیں‘‘۔ (طبقات الکبریٰ للمناوی: ج۳، ص۳۹۳؛ دار صادر بیروت)
امام شعرانی ؒامام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد تھے لیکن باقی ائمہ مجتہدین اور ان کی تحقیقات کے متعلق اس قدر عقیدت و محبت رکھتے تھے جس قدر ان کے مقلد ین کو اپنے امام کے ساتھ عقیدت و محبت ہوتی ہے۔ عبد الحی بن أحمد بن محمد ابن العماد العكری الحنبلیؒ لکھتے ہیں: ’’آپ خود فرماتے ہیں کہ میں اپنے مذہب کی کتابوں کی بہ نسبت باقی تین مذاہب کے ائمہ یعنی امام ابو حنیفہ، امام مالک، اور امام احمد بن حنبل رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی کتابوں کا مطالعہ زیادہ کرتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب امام شافعی ؒکے مذہب میں تبحر (مہارت)حاصل کرلیا تو مجھے ایسے مسائل کی معرفت کی ضرورت محسوس ہوئی جن پر چاروں ائمہ کرام کا اجماع ہو یا پھر تین ائمہ جن پر متفق ہوں تاکہ میں ان کے ممنوعات پر عمل سے پرہیز کر سکوں اور جس کا انہوں نے حکم دیا ہے اس پرعمل کر سکوں‘‘۔ (الطبقات الکبریٰ اللشعرانی اردو: ص۳۴) (شذرات الذھب ابن عماد الحنبلی: ج۸، ص۵۴۶)
آپ نےاپنے استاذ شیخ زکریا انصاری کی تصنیف ’’الروض‘‘ کا مطالعہ تیس بار کیا۔ اما م شافعیؒ کی کتاب ’’الأم‘‘کا مطالعہ تین بار کیا۔ شیخ محی الدین ابن عربی کی تیس جلدوں پر مشتمل کتاب ’’المختصر‘‘کا ایک بار، امام الماوردی کی کتاب ’’الحاوی‘‘اور’’الاحکام السلطانیہ‘‘ کا ایک ایک مرتبہ، شیخ ابو محمد الجوینی کی کتاب ’’المحیط‘‘ ایک بار، امام غزالیؒ کی’’الوسیط‘‘ ایک بار، شرح المہذب پچاس بار، شرح مسلم للنووی (اٹھارہ جلدیں) پندرہ مرتبہ، علامہ بدر الدین عینی کی شرح بخاری(۵۴جلدیں )دوبار۔کتب تفسیر: تفسیر کواشی دس بار، تفسیر ابن نقیب المقدسی (۱۰۰جلدوں پرمشتمل ہے) کاایک بار، تفسیر جلالین تیس بار، تفسیر بغوی،تفسیر خازن،تفسیر ابن عادل،تفسیر ابن زہرہ، تفسیر قرطبی،تفسیر ابن کثیر،تفسیر بیضاوی۔کتب احادیث: صحاح ستہ،صحیح ابن خزیمہ،صحیح ابن حبان، مسندامام احمد، مؤطا امام مالک، طبرانی، جامع الاصول، جامع کبیر، جامع صغیر، زیادات۔کتب لغت:صحاح الجوہری، قاموس، نہایۃ ابن اثیر، نووی کی تہذیب الاسمائ اللغات۔کتب اصول وکلام: شرح العضد، شرح منہاج البیضاوی، کتاب المستصفی، کتاب الامالی، شرح المقاصد، شرح عقائد۔کتب فتاویٰ: فتاویٰ القفال، فتاویٰ القاضی الحسین، فتاویٰ الماوردی، فتاویٰ ابن ابی صباغ، فتاویٰ ابن الصلاح، فتاویٰ ابن السلام، فتاویٰ النووی، فتاویٰ السبکی، فتاویٰ البلقینی، فتاویٰ الشیخ زکریا۔کتب قوائد: قواعد الشیخ عزالدین البکری والصغریٰ، قواعد العلائی، قواعد السبکی، قواعد الزرکشی۔کتب سیرت: سیرت ابن ہشام، سیرۃ ابن اسحاق، سیرت الکلبی، سیرۃ ابی الحسن البکری، سیرت الطبری، سیرت الکلائی۔کتب تصوف:قوت القلوب، حلیۃ الاولیائ، رسالہ قشیریہ، عوارف المعارف، احیائ العلوم، الفتوحات المکیۃ۔امام شعرانیؒ فرماتے ہیں یہ ان چند کتابوں کا ذکر ہے جن کا مطالعہ کرنا مجھے یاد ہے۔ (الطبقات الکبریٰ اللشعرانی اردو: ص۳۲-۳۳) (المنن الکبریٰ الامام عبدالوہاب شعرانی: ص۷۰-۷۶؛ دارالکتب العلمیہ)
معروف مستشرق آر، اے، نکلسن نے اپنی شہرہ آفاق تحقیق ’’تاریخ ادبیاتِ عرب‘‘میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کی علمی صحبت کے فوائد تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ: ’’ہمارے لئے مفید ہوگا کہ اگر ہم چندلمحات مسلمانوں کے آخری صوفی وعالم شیخ عبدالوہاب شعرانی کے ساتھ گزاریں۔ وہ(امام شعرانی) ایک ایسے محقق اورمفکر عالِم ہیں کہ اُن کے اَثرات موجودہ دور میں بھی نمایاں طریقے سے محسوس کئے جارہے ہیں‘‘۔ (Literary History of the Arabs, By R.A. Nicholson, Page # 464 Cambridge University Press)
بسم الله الرحمن الرحیممقدمہقارئینِ کرام جیساکہ آپ سب اس بات سے بخوبی واقف ہونگے کہ…
مسئلہ رفع یدین مستند دلائل حصہ یازدہم ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ…
اسلام و علیکم محترم علماء و طالب علم حضرات.. اختلف امت رحمت ہے.. یہ سننے…
عملیات دل پسند عمل محبت عملیات دل پسند عمل محبت عام طور پر روحانی اور صوفیانہ…
’’حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُد، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحِمَّانِيُّ، قَالَ:حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَيَّاش،…
1️⃣ انجینیئر محمد علی مرزا امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں…