رد فرقہ باطلہ

سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ

سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تاریخی اعتراضات کا علمی جائزہ

سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلیل القدرروایت کے اعتبار سے تابعی اور روئیت کے اعتبار حکما صحابی ہیں خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند تھے۔ ان کی پرورش امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں ہوئی، اسی وجہ سے سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے اپنے صاحبزادوں جیسی محبت فرماتے تھے، بلکہ متعدد آثار میں آپ نے انہیں اپنے بیٹوں کے قائم مقام قرار دیا ہے۔ بعد ازاں وہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں ان کے معتمد ساتھیوں میں شمار ہوئے اور جنگِ جمل و صفین سمیت اجتہادی اختلافات کے زمانے میں ان کا ساتھ دیا، یہاں تک کہ مصر میں سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقرر کردہ گورنر رہے اور اسی دوران شہادت پائی۔ بعض تاریخی روایات میں یہ ذکر ملتا ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے محاصرے کے دوران وہ باغیوں کے ساتھ موجود تھے، بلکہ بعض روایات میں ان کے گھر میں داخل ہونے کا بھی ذکر آیا ہے، تاہم متعدد معتبر تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نصیحت سنی تو وہ اپنے فعل پر نادم ہوئے، رجوع کیا اور قتل میں شریک نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے محققین نے ان پر قتلِ عثمان کا الزام ثابت نہیں مانا۔ بالفرض اگر ان سے کسی اجتہادی یا عملی خطا کا صدور تسلیم بھی کر لیا جائے، تب بھی محض تاریخی روایات کی بنیاد پر کسی مسلمان، خصوصاً اکابر سلف، پر فسق کا حکم عائد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اہلِ سنت کے اصول کے مطابق فسق کا شرعی حکم قطعی یا ثابت شرعی دلائل سے ثابت ہوتا ہے، نہ کہ تاریخی حکایات، احتمالات یا مختلف فیہ روایات سے۔ اسی بنا پر نہ سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر فسق کا حکم لگانا جائز ہے اور نہ ہی ان کی تنقیص و طعن کرنا درست ہے، بلکہ ان کے بارے میں وہی اعتدال کا راستہ اختیار کیا جائے گا جو اہلِ سنت کا منہج ہے، یعنی ثابت شدہ حقائق کو قبول کیا جائے، غیر ثابت یا مختلف فیہ تاریخی روایات کی بنیاد پر کسی شخصیت کی عدالت و دیانت پر حملہ نہ کیا جائے، اور صحابہ و سلف کے باہمی اجتہادی معاملات میں عدل، احتیاط اور حسنِ ظن کو ملحوظ رکھا جائے۔

یہ پوسٹ ابھی مکمل نہیں لکھی جا رہی ہے جلد مکمل کر دی جائے گی ابھی صرف سکین آپ کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں

حصہ اول ابن ابی بکر رسول اللہ ﷺ کی موجودگی پیدا ہوئے

حصہ دوم وہ علماء جو صحابہ کے تزکرہ میں ان کو ذکر کیا

حصہ سوم

rizvibhai69@gmail.com

Recent Posts

فرقہ غیرمقلدین (نام نہاداہل حدیث وہابیہ) کی گمشدہ اور یتیم اسناد کاعلمی تعاقب

 فرقہ غیرمقلدین (نام نہاداہل حدیث وہابیہ) کی گمشدہ اور یتیم اسناد کاعلمی تعاقب فرقہ غیرمقلدین…

9 گھنٹے ago

جادو کہتے کس کو ہیں اور یہ ہوتا کیسے ہے ؟

    جادو ایک معروف نام ہے جو ہر معاشرے میں بخوبی جانا جاتا ہے…

9 گھنٹے ago

مرسل اتباع تابعی روایات اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں ہیں۔ تحقیق۔۔اقبال رضوی بھائی

مرسل اتباع تابعی روایات اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں ہیں۔ تحقیق۔۔اقبال رضوی بھائیکچھ شیعہ…

9 گھنٹے ago

شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ | Shan e Hazrat Abu Bakr Siddeeq سورہ توبہ 40

 شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ❤تفسیر❤{اِلَّا تَنْصُرُوْهُ:اگر تم اس (نبی) کی مدد نہیں کرو گے۔}اس…

9 گھنٹے ago

طب نبوی سے علاج: شہد اور قرآن سے شفاء

طب نبوی سے علاج: شہد اور قرآن سے شفاء اسلام نے انسان کی جسمانی، روحانی…

9 گھنٹے ago

خلافت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر اہل تشیع کے اعتراضات کے جوابات

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭اہل تشیع کا اعتراض نمبر 1 : کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر کی خلافت…

3 ہفتے ago