رد فرقہ باطلہ

مرسل اتباع تابعی روایات اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں ہیں۔ تحقیق۔۔اقبال رضوی بھائی

مرسل اتباع تابعی روایات اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں ہیں۔ تحقیق۔۔اقبال رضوی بھائی
کچھ شیعہ دجل اور کذب کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتےہیں کہ اہل سنت کے نزدیک مرسل ہر قسم کی روایت بھی حجت ہوتی ہیں حالانکہ یہ بات صحیح نہیں اور مرسل روایت جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف اور ناقابل قبول ہے۔سب سے پہلی اور ضروری بات یہ ہے کہ مرسل روایت ضعیف حدیث کی ایک قسم ہے ۔مراسیل صحآبہ حجت ہیں اور تابعین میں ثقہ راویوں کی مراسیل حجت ہیں اور تبع تابعی کی مراسیل میں کلام ہے ان کی مرسل حدیث بنیادی طور پر تو مسترد ہی کی جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں صحیح حدیث کی شرائط میں سے اتصال سند کی شرط موجود نہیں ہے۔جو راوی حذف کیا گیا ہے، ہمیں اس کے حالات کا علم نہیں ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ صحابی نہ ہو اور ضعیف ہو۔ مرسل حدیث منقطع ہوتی ہے۔محدثین، فقہاء اور اصول فقہ کے ماہرین کی اکثریت کا یہی نقطہ نظر ہے کہ مرسل قابل قبول یا حجت نہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ ہمیں حذف کردہ راوی کے نام کا علم نہیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ صحابی نہ ہو بلکہ کوئی تابعی ہو اور حدیث روایت کرنے میں ضعیف ہو۔جمہور محدثین کے نزدیک تابعی کی مرسل روایت ہر لحاظ سے مردود ہے۔

مرسل حدیث اور اہل سنت کا موقف

مرسل حدیث بنیادی طور پر ضعیف حدیث کی ایک قسم ہے، جس میں اتصالِ سند (سند کے راویوں کا مسلسل سلسلہ) کی شرط موجود نہیں ہوتی۔ مرسل میں اکثر کوئی تابعی راوی (صحابی کے بعد کے راوی) صحابی سے براہِ راست حدیث نقل کرتا ہے، لیکن درمیان میں کسی راوی کا نام چھوڑ دیا جاتا ہے۔

اہل سنت اور جمہور محدثین کا موقف یہ ہے کہ مرسل حدیث حجت نہیں ہوتی، اور اسے بطور مستقل دلیل قبول نہیں کیا جاتا۔ اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:

سند کا منقطع ہونا: مرسل حدیث میں اتصالِ سند موجود نہیں، یعنی حدیث کی سند میں کسی راوی کا نام چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ راوی حذف شدہ ہو سکتا ہے، اور اس کے حالات اور معیارِ عدالت یا ضعیفی کے بارے میں علم نہیں ہوتا۔

ممکنہ ضعیف راوی: حذف شدہ راوی ممکن ہے کہ تابعی ہو اور ضعیف روایت کرنے والا ہو، یا صحابی نہ ہو۔ اس وجہ سے حدیث کی صحت پر شک پیدا ہوتا ہے۔

اہل سنت کی جمہوریت: جمہور محدثین، فقہاء اور اصول فقہ کے ماہرین کا یہ مؤقف ہے کہ مرسل روایت کو حجت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اسے صرف مطالعہ اور علمِ حدیث کی تفہیم کے لیے بطور علم الحدیث استعمال کیا جاتا ہے۔

rizvibhai69@gmail.com

Recent Posts

جنگِ جمل اور جنگ صفین کا حقیقی پس منظر حضرت عثمان پر الزامات کا جوابات

  بسم الله الرحمن الرحیممقدمہقارئینِ کرام جیساکہ آپ سب اس بات سے بخوبی واقف ہونگے کہ…

3 ہفتے ago

مسئلہ رفع یدین مستند دلائل حصہ یازدہم

 مسئلہ رفع یدین مستند دلائل حصہ یازدہم ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ…

3 ہفتے ago

شیعہ سنی علمی اختلافات اور مخالفت میں اور راہ اعتدال

اسلام و علیکم محترم علماء و طالب علم حضرات..  اختلف امت رحمت ہے.. یہ سننے…

3 ہفتے ago

عملیات دل پسند عمل محبت "عملیات دل پسند اور محبت کے اثرات: آسان رہنما برائے خوشگوار تعلقات”

عملیات دل پسند عمل محبت عملیات دل پسند عمل محبت عام طور پر روحانی اور صوفیانہ…

3 ہفتے ago

حضرت عمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ترک رفع الیدین کی حدیث پر زبیر علی زئی صاحب کےاعتراضات کا تحقیقی جائزہ

 ’’حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُد، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحِمَّانِيُّ، قَالَ:حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَيَّاش،…

3 ہفتے ago