Home

گیدڑ سنگھی کیا ہوتا ہے گیدڑ سنگھی کی حقیقت اور اس سے وابستہ توہمات:


گیدڑ سنگھی ..

یہ گیدڑ سنگهی دراصل گیدڑ کے سر میں نکلنے والا ایک دانا (پهوڑا ) ہوتا ہے،جو کہ اسکے سر میں اپنی شاخیں پهیلاتا ہے اور ایک خاص حد تک بڑا ہونے کے بعد خود بخود جهڑ کر گر جاتا ہے،گرنے کے بعد بهی یہ جاندار رہتا ہے، اور اسے جادو ٹونے کرنے والے اٹها کر لے جاتے ہیں اور اپنے خاص مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں …!اسے سندور میں ہی رکها جاتا ہے، ورنہ اسکی بڑهوتری ختم ہو جاتی ہے یہاں تک کہ یہ مر جاتا ہے، کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ نر اور مادہ حالتوں میں ہوتا ہے ….!جادوگروں کے پاس شوہر یا محبوب یا سسرال والوں کو قابو کرنے کے خواہش مند خصوصاً محبت کا حصول چاہنے والے مرد و زن جب آتے ہیں تو انہیں ایک مخصوص رقم کے عوض یہ گیدڑ سنگهی دی جاتی ہے، گیدڑ سنگهی کی ہمیشہ جوڑی ( نر اور مادہ ) ایک ساتھ رکهی جاتی ہے ورنہ بقول ان بدعقیدہ لوگوں کے یہ کام نہیں کرتی اور بےکار ہو جاتی ہے …!اسکے علاوہ لوگ نعوذباللہ اسے شوقیہ گهر میں خیروبرکت کے لیے،روزگار کے حصول کے لیے،دولت میں اضافے کے لیے خریدتے ہیں اور بہت عقیدت سے اپنے پاس رکهتے ہیں …!گیدڑ سنگهی کے بال باقاعدہ بڑهتے ہیں اور انکی باقاعدگی، اور ایک خاص طریقے سے تراش خراش بهی کی جاتی ہے، یہ تو تهی گیدڑ سنگهی کے بارے میں وہ معلومات اور عقائد،جو مجهے پتا چلے اور میں نے اپنا فرض جان کر آپ تک پہنچائے …!اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان میں کیا سچ ہے اور کیا جهوٹ، کیونکہ اللہ ہی سب سے بہتر علم رکهنے والا ہے …!محترم قارئین کرام اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ گیدڑ سنگهی جیسی عجیب الخلقت چیز کو لوگوں کو فروخت کرتے ہیں وہ بهی اس دعوے سے کہ :” اسے رکهنے سے آپکے معاشی مسائل دور ہوں گے اور آپ کے گهر روپے پیسے کی ریل پیل ہو گی … ” تو کیا ان لوگوں کی خود کی رہائش اور حلیے دیکھ کر بهی لوگوں کو عقل نہیں آتی …؟ اورانکے ذہنوں میں یہ سوال نہیں ابھرتا کہ فروخت کرنے والے کے پاس تو نجانے کتنی تعداد میں انکی جوڑیاں موجود ہیں پهر وہ کیوں ابهی تک خالی ہاتھ ہیں ….؟ان خالی الذہن لوگوں کو کوئی بتائے کہ یہ بهی بڑا شرک ہے کہ:: تم اللہ کے ہوتے ایک ڈرپوک جانور کے جسم سے خارج ہوئے پهوڑے کو اپنا مشکل کشا مانتے ہو … "اللہ تعالٰی اصلاح فرمائے ایسی سوچ رکھنے والوں کی، کہ پهر ہندوؤں اور انکے درمیان فرق کیا رہ گیا …؟فقط دن میں پانچ وقت زمین پر ٹکریں مارنے کا …؟جبکہ ان بدنصیبوں کو تو پتا ہی نہیں ہے کہ ان کے گهر کی خوشیاں ، خیروبرکت اور رونق اس بد شکل شے کی وجہ سے نہیں بلکہ بے دلی سے ہی سہی لیکن پانچ وقت رٹی رٹائی سورتیں ، آئیتں پڑهنے اور زمین پر سجدہ کرتے وقت سبحان ربی اعلیٰ کہنے کی ہی بدولت ہیں …!

گیدڑ سنگھی کے حوالے سے بیان کردہ یہ تحریر توہم پرستی، شرکیہ عقائد اور جادو ٹونے کے نام پر ہونے والے فریب کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ اس موضوع کو درج ذیل تفصیلی نکات کے تحت سمجھا جا سکتا ہے:

گیدڑ سنگھی کی حقیقت اور اس سے وابستہ توہمات:عام طور پر عوام میں یہ مشہور کیا جاتا ہے کہ گیدڑ سنگھی گیدڑ کے سر میں نکلنے والا ایک دانہ یا پھوڑا ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا ہے، جھڑ کر گر جاتا ہے اور اس میں بھی جان باقی رہتی ہے۔ جادو ٹونے اور عملیات کرنے والے اسے سنبھال کر رکھتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ نر اور مادہ جوڑے کی شکل میں ہوتی ہے۔ اس کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسے ہمیشہ سندور میں رکھا جاتا ہے تاکہ اس کی نام نہاد بڑھوتری جاری رہے ورنہ یہ ضائع ہو جاتی ہے۔

مفاد پرستوں کا کاروبار اور جادوگروں کے ہتھکنڈے:معاشرے میں موجود مکار اور فریب کار لوگ محبت کے حصول، شوہر، محبوب یا سسرال والوں کو قابو کرنے، روزگار میں برکت اور دولت کی ریل پیل جیسے جھوٹے اور پرکشش نعرے دے کر سادہ لوح افراد کو گیدڑ سنگھی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے وہ لوگوں کی کمزوریوں اور توہم پرستی کا استحصال کرتے ہیں اور موٹی رقم بٹورتے ہیں۔

منطق اور عقل کا سوال:تحریر میں بہت ہی خوبصورتی سے یہ منطقی سوال اٹھایا گیا ہے کہ جو لوگ گیدڑ سنگھی بیچ کر دوسروں کو مالدار بنانے اور معاشی مسائل حل کرنے کے دعوے کرتے ہیں، ان کی اپنی حالتِ زار دیکھ کر انسان کو عقل کیوں نہیں آتی؟ اگر یہ بے جان یا نام نہاد پراسرار شے واقعی رزق، دولت اور خوشحالی لانے کی طاقت رکھتی ہے، تو اسے بیچنے والا خود تنگی اور کسمپرس کی حالت میں کیوں رہتا ہے؟ اس کے پاس تو ایسی لاتعداد جوڑیاں موجود ہونی چاہئیں جن سے وہ خود کروڑ پتی بن سکتا تھا۔

توہم پرستی اور شرک کا عنصر:اسلامی نقطہ نظر سے ایسی چیزوں پر عقیدہ رکھنا اور انہیں اپنا مشکل کشا یا نفع و نقصان کا مالک سمجھنا صریحاً شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ اللہ رب العزت کے ہوتے ہوئے ایک ڈرپوک جانور کے جسم سے جڑے ہوئے مادے یا پھوڑے کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے والا ماننا توحید کی نفی ہے۔ خالقِ کائنات کو چھوڑ کر اس قسم کی خرافات سے وابستہ ہونا انسان کو دین کی بنیادی روح سے دور کر دیتا ہے۔

اصل کامیابی کا ذریعہ:حقیقی خیر و برکت، رزق میں کشادہ اور گھر کی رونق کسی توہم پرستی یا بدشکل چیز میں پوشیدہ نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق خالص توحید، اللہ کی عبادت، دن میں پانچ وقت کی نماز اور خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہونے سے ہے۔ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر توہمات کا سہارا لیتے ہیں، وہ دراصل اپنی ہی عقل اور ایمان کا سودا کر رہے ہوتے ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس قسم کی خرافات اور شرکیہ وسوسوں سے محفوظ رکھے، عقلِ سلیم عطا فرمائے اور ہمیں صرف اور صرف اپنے رب کی ذات پر توکل کرنے کی توفیق بخشے (آمین یارب العالمین)۔کاش کہ مجھ سمیت ہم سب کو عقل آسکے اور اللہ تعالٰی ہم سب مسلمانان عالم کو بھلائی و ہدایت عطا فرماتے ہوئے عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے …آمین ثم آمیـــــــــــــــــن یارب العالمینمنقول

گیدڑ سنگھی کیا ہوتا ہے گیدڑ سنگھی کی حقیقت اور اس سے وابستہ توہمات:

rizvibhai69@gmail.com

Recent Posts

جنگِ جمل اور جنگ صفین اور شھادت عثمان رض کا حقیقی پس منظر

  بسم االله الرحمن الرحیم مقدمہ قارئینِ کرام جیساکہ آپ سب اس بات سے بخوبی واقف…

2 دن ago

صدقہ جاریہ صحیح احادیث کی روشنی میں ایصال ثواب

  بسم الله الرحمن الرحیم صدقہ جاریہ کے معنیٰ: ہروہ نیک عمل جوانسان اپنی زندگی میں…

2 دن ago

موضوع حدیث کی تعریف اور موضوع حدیث کی تفصیل

 موضوع حدیث کی تعریف ... - ضعیف احادیث و موضوع روایات موضوع حدیث کی تعریف…

2 دن ago

تین طلاق کا مسئلہ: فقہ حنفی کی روشنی میں تحقیق

تین طلاق کا مسئلہ: فقہ حنفی کی روشنی میں تحقیق تعارف:اسلام میں نکاح اور طلاق…

3 دن ago

مسلہ تقلید پر تحقیق مقلد اور غیر مقلدین کے لیےمسلہ تقلید پر تحقیق مقلد اور غیر مقلدین کے لیے

  بسم الله الرحمن الرحیم اکثرغیرمقلدین حضرات بلاکسی مستند دلیل وتفصیل کے تقلید اور اہل تقلیدکی…

7 دن ago