إسحاق بن راھویة (م251ھ) کہتے ہیں – میں نے(اِمام احمد بن حنبل سے) پوچھا: "جب انسان اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لے تو انہیں کہاں رکھے؟” انہوں نے فرمایا: ” ناف کے اوپر بھی اور اس کے نیچے بھی دونوں طریقے ٹھیک ہیں، اس میں کوئی سختی یا پابندی نہیں۔” اِس کو روایت کرنے کے بعد إسحاق بن راھویة (م251ھ) کہتے ہیں جس میں ناف کے نیچے رکھنے کا ذکر آیا ہے وہ حدیث کے اعتبار سے زیادہ قوی ہے اور تواضع (انکساری) کے زیادہ قریب ہے۔ یہ روایت نماز میں ہاتھ رکھنے کے طریقے کے متعلق ہے اور فقہ امام احمد بن حنبل کی روشنی میں اہم رہنمائی فراہم کرتی ہے۔إسحاق بن راھویة (م251ھ) نے نقل کیا کہ انہوں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا: "جب انسان اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لے تو انہیں کہاں رکھے؟”امام احمد نے جواب دیا: "ناف کے اوپر بھی اور اس کے نیچے بھی دونوں طریقے ٹھیک ہیں، اس میں کوئی سختی یا پابندی نہیں۔” اس کے بعد إسحاق بن راھویة نے وضاحت کی کہ: جہاں حدیث میں ناف کے نیچے رکھنے کا ذکر آیا ہے، وہ زیادہ قوی اور مستند روایت سمجھا جاتا ہے۔ اس طریقے میں تواضع اور انکساری کے زیادہ پہلو موجود ہیں، کیونکہ ہاتھوں کو ناف کے نیچے رکھنا زیادہ عاجزی اور خشوع کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ روایت فقہاء کے درمیان نماز میں ہاتھ رکھنے کے معمول اور ادب کے بارے میں مفاہمت فراہم کرتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ امام احمد کے نزدیک نماز کے یہ دونوں طریقے جائز ہیں، لیکن ناف کے نیچے رکھنے کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ یہ تواضع کے زیادہ قریب ہے۔ اگر آپ کی مراد نماز میں ہاتھ باندھنے کی جگہ ہے، تو اہلِ علم کے درمیان اس مسئلے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض فقہاء ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ بعض ناف کے اوپر یا سینے کے قریب ہاتھ باندھنے کے قائل ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے علماء کہتے ہیں کہ دونوں طریقوں کی اصل موجود ہے، اس لیے اس مسئلے میں شدت یا جھگڑا مناسب نہیں۔ پوسٹوں کی نیویگیشن سوال: کیا ہمارے پیارے نبی علیہ السلام نور ہے یا پھر بشر؟ احناف کی دعاۓ قنوت کا ثبوت جو احناف پڑھتے ہیں (اللھم انا نستعینک۔۔۔۔۔)