اصولِ جرح و تعدیل اور ائمہ کی عدالت کا اصول

جرح و تعدیل کے کچھ قوائد ہیں، جن کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے، ورنہ کسی بڑے سے بڑے محدث کی ثقاہت و عدالت ثابت نہ ہو سکے گی، کیونکہ ہر کسی پر کسی نہ کسی کی جرح ہے۔ مَثَلاً: امام شافعیؒ پر امام یحییٰ بن معینؒ نے، امام احمدؒ پر امام کرابلیسیؒ نے، امام بخاریؒ پر امام ذہلیؒ نے، امام اوزاعیؒ پر امام احمدؒ نے جرح کی ہے، حتیٰ کہ ابنِ حزم نے امام ترمذیؒ اور امام ابنِ ماجہؒ کو مجہول کہا، خود امام نسائیؒ پر تشیع کا الزام ہے، اسی بنا پر ان کو مجروح کیا گیا۔

چناچہ شیخ الاسلام ابو اسحاق شیرازی شافعیؒ (393-476ھ) اپنی کتاب "اللمع فی اصول الفقه” میں رقم طراز ہیں:

جرح و تعدیل کے باب میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ راوی کی یا تو عدالت معلوم و مشہور ہوگی یا اس کا فاسق ہونا معلوم ہوگا یا وہ مجہول الحال ہوگا (یعنی اس کی عدالت یا فسق معلوم نہیں)۔ تو اگر اس کی عدالت معلوم ہے جیسے حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی، اور افضل تابعین جیسے حضرت حسن بصریؒ، عطاء بن ابی رباحؒ، عامر شعبیؒ، ابراہیم نخعیؒ، یا بزرگ ترین ائمہ جیسے امام مالکؒ، امام سفیان ثوریؒ، امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ، امام اسحاق بن راہویہؒ اور ان جیسے دیگر ائمہ، تو ان کی خبر قبول کی جائے گی اور ان کی عدالت و توثیق کی الگ سے تحقیق ضروری نہ ہوگی۔

[اللمع فی اصول الفقه: ص 41]
[اللمع فی اصول الفقه: ص 163-164]

تشریح:
اس پوری عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ علمِ جرح و تعدیل میں ہر جرح کو فوراً قبول نہیں کیا جاتا، بلکہ جرح کے اصول، سبب اور جرح کرنے والے کے مقام کو بھی دیکھا جاتا ہے۔ اگر محض کسی ایک شخص کی تنقید کی بنیاد پر اکابر محدثین اور ائمہ کو رد کر دیا جائے تو پھر علمِ حدیث کا پورا نظام ہی متزلزل ہو جائے گا، کیونکہ تاریخ میں بہت سے جلیل القدر ائمہ پر مختلف وجوہات کی بنا پر اعتراضات نقل ہوئے ہیں۔ اسی لیے اصولیین اور محدثین نے یہ قاعدہ بیان کیا کہ جن ائمہ کی عدالت، دیانت، حفظ، علم اور قبولِ عام امت میں مشہور ہو، ان کے بارے میں انفرادی جرح کو بغیر تحقیق کے قبول نہیں کیا جاتا۔ امام ابو اسحاق شیرازیؒ کی عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی ثقاہت اور عدالت اس قدر معروف و مشہور ہے کہ ان کے بارے میں بار بار توثیق تلاش کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ امت کا تعامل اور علمی قبولیت خود ان کی عدالت کی دلیل بن جاتی ہے۔ لہٰذا جرح و تعدیل کا باب محض نام گنوانے یا اعتراض نقل کرنے کا نہیں بلکہ اصول، ترجیح، قرائن اور مجموعی شہادتوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنے کا نام ہے۔

اصولِ جرح و تعدیل، ائمہ کی عدالت اور جرح کے قواعد

جو جرح مفسر نہ ہو یعنی جس میں سببِ جرح واضح اور تفصیل کے ساتھ بیان نہ کیا گیا ہو تو اصولِ محدثین کے مطابق ایسی غیر مفسر جرح کے مقابلے میں تعدیل مقدم رہتی ہے، کیونکہ اصل عدالت اور ثقاہت کا اعتبار کیا جاتا ہے جب تک جرح کا معقول، واضح اور قابلِ قبول سبب ثابت نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے لکھا ہے کہ صرف کسی راوی کو ضعیف، منکر یا متروک کہہ دینا بذاتِ خود جرحِ مفسر شمار نہیں ہوتا، جب تک اس کی وجہ اور بنیاد واضح نہ کی جائے۔
[مقدمہ اعلا السنن: ٣/٢٣، فتاویٰ علماء حدیث: ٧/٧٢]

اسی اصول کی تائید میں موجودہ اہلِ حدیث محقق زبیر علی زئی بھی لکھتے ہیں:

"صرف ضعیف یا متروک یا منکر کہنے سے جرح مفسر نہیں ہے۔”
[رکعتِ قیامِ رمضان کا تحقیقی جائزہ: ص 65]

یہ اصول اس لیے اہم ہے کہ اگر ہر غیر واضح جرح کو قبول کر لیا جائے تو بڑے بڑے ائمہ، محدثین اور حفاظِ حدیث بھی اعتراضات سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ محدثین کے ہاں جرح و تعدیل محض اقوال نقل کرنے کا نام نہیں بلکہ اصول، قرائن اور اسباب کو دیکھنے کا نام ہے۔

اسی لیے محدثین کے طرزِ عمل میں ہمیں شدتِ احتیاط کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ امیر المؤمنین فی الحدیث امام شعبہؒ سے پوچھا گیا کہ آپ فلاں راوی سے روایت کیوں نہیں لیتے؟ فرمایا:

"رأيتُه يركض على برذون”
یعنی: میں نے اسے ترکی گھوڑا دوڑاتے دیکھا تھا۔

اسی طرح منہال بن عمرو کے گھر سے ساز کی آواز سن کر واپس لوٹ آئے اور مزید تحقیق نہ کی۔ حکم بن عتیبہؒ نے زاذانؒ سے روایت نہ لینے کی وجہ یہ بتائی:

"كان كثير الكلام”
یعنی: وہ بہت زیادہ گفتگو کرتے تھے۔

اور حافظ جریر بن عبدالحمید نے سماک بن حربؒ کو کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا تو ان سے روایت ترک کر دی۔
(الکفایہ فی علوم الروایہ: 101–114)

ان مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات بعض ائمہ ذاتی احتیاط یا شدت کی بنا پر بھی کسی سے روایت ترک کر دیتے تھے، لیکن ہر ایسی جرح کو مطلق اور عمومی اصول بنا لینا درست نہیں۔ اگر انفرادی شدتوں کو قطعی معیار بنا لیا جائے تو بہت سے ثقہ رواۃ بھی محلِ اعتراض بن جائیں گے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ جرح کی نوعیت، سبب، اور دیگر ائمہ کی آراء کو بھی دیکھا جائے۔

دوسرا اصول:
جارح ایسا ہو جو ناصح، معتدل اور دیانت دار ہو؛ نہ متشدد ہو، نہ متعنت، نہ متعصب۔ کیونکہ تعصب، فقہی اختلاف، یا شخصی شدت بعض اوقات جرح کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

تیسرا اصول:
جس شخصیت کی امامت، ثقاہت اور عدالت امت میں شہرتِ عظیم یا حدِ استفاضہ و تواتر تک پہنچ چکی ہو، اس کے بارے میں چند افراد کی جرح کو فوراً قبول نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کا تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے۔

اسی اصول کے تحت امام ابو حنیفہؒ کی عدالت و امامت بھی امت میں معروف اور مشہور رہی ہے۔

چنانچہ شیخ الاسلام ابو اسحاق شیرازی شافعیؒ فرماتے ہیں:

"اگر کسی راوی کی عدالت معروف و مشہور ہو، جیسے صحابہ کرامؓ، اکابر تابعینؒ اور بڑے ائمہ؛ مثلاً امام مالکؒ، امام سفیان ثوریؒ، امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ اور امام اسحاق بن راہویہؒ وغیرہ، تو ان کی خبر قبول کی جائے گی اور ان کی عدالت کی الگ تحقیق ضروری نہیں ہوگی۔”
[اللمع فی اصول الفقه: ص 41، ص 163-164]

اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ علمِ جرح و تعدیل توازن، تحقیق اور اصول کا علم ہے۔ صرف جرح دیکھ لینا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ جرح مفسر ہے یا نہیں، جارح کون ہے، جرح کی بنیاد کیا ہے، اور محدثین و امت کا مجموعی تعامل اس شخصیت کے بارے میں کیا رہا ہے۔

اسی اصول کو مزید واضح کرتے ہوئے حافظ ابن عبد البر المالکیؒ فرماتے ہیں:

"جن ائمہ کو امت نے اپنا امام بنایا ہو، ان پر کسی کی تنقید معتبر نہ ہوگی۔”
[فن اسماء الرجال: ص 66، بحوالہ جامع بیان العلم: 1/195]

تشریح:
اس قول کا مطلب یہ نہیں کہ ائمہ معصوم ہیں یا ان پر علمی نقد ممکن نہیں، بلکہ مقصود یہ ہے کہ جن شخصیات کی امامت، ثقاہت، دیانت اور علمی مقام امت میں متواتر شہرت حاصل کرچکا ہو، ان کے بارے میں چند افراد کی جرح یا انفرادی تنقید کو فوراً قبول نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ ایسے ائمہ کی عدالت صرف ایک یا دو افراد کی توثیق سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ پوری امت کے علمی تعامل، ان کے شاگردوں، تلامذہ اور صدیوں کے اعتماد سے ثابت ہوتی ہے۔

اسی مفہوم کو علامہ تاج الدین السبکیؒ نے مزید تفصیل سے بیان فرمایا:

’’الجرح مقدم علی التعدیل‘‘ کا ضابطہ ہر جگہ استعمال نہیں کیا جائے گا، بلکہ جس راوی کی عدالت و ثقاہت ثابت ہوچکی ہو، اس کے بارے میں مدح و توثیق کرنے والوں کی کثرت ہو، اس کے ناقدین قلیل ہوں، اور کوئی ایسا قوی قرینہ موجود ہو جس سے اندازہ ہوتا ہو کہ یہ جرح مذہبی تعصب یا کسی اور سبب سے کی گئی ہے، تو ایسی جرح معتبر نہیں ہوگی۔
[فن اسماء الرجال: ص 66، بحوالہ طبقات الشافعیۃ الکبریٰ: 2/9-10]

تشریح:
علامہ سبکیؒ یہاں ایک نہایت اہم اصول بیان کر رہے ہیں کہ "الجرح مقدم علی التعدیل” ایک مطلق اور ہر جگہ نافذ ہونے والا قانون نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو بڑے بڑے ائمہ بھی محفوظ نہ رہتے۔ اسی لیے انہوں نے مثالیں دیں کہ ہمعصر علماء کے درمیان فقہی، اجتہادی یا علمی اختلافات کی بنا پر بعض اوقات سخت کلمات بھی نقل ہوجاتے ہیں۔ جیسے امام سفیان ثوریؒ کا امام ابو حنیفہؒ پر کلام، ابن ذئبؒ کا امام مالکؒ پر، یا بعض دیگر ائمہ کے مابین اختلافات۔ ان مثالوں سے مقصود یہ ہے کہ ہر جرح کو اس کے پس منظر، زمانے، اختلاف اور قرائن کے ساتھ سمجھا جائے۔

علامہ سبکیؒ کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ جب:

  • تعدیل کرنے والے زیادہ ہوں
  • جرح کرنے والے کم ہوں
  • عدالت و امامت پہلے سے ثابت ہو
  • تعصب یا ہمعصری کا قرینہ موجود ہو

تو ایسی جرح کو احتیاط کے ساتھ دیکھا جائے گا، نہ کہ فوراً قبول کر لیا جائے گا۔

اسی اصول کی تائید حافظ ابن الصلاحؒ نے بھی کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

"علماء اہلِ نقل میں جس کی عدالت مشہور ہو اور ثقاہت و امانت میں جس کی تعریف عام ہو، اس شہرت کی بنا پر اس کے بارے میں صراحتاً انفرادی تعدیل کی حاجت نہیں۔”
[علوم الحدیث المعروف بمقدمہ ابن صلاح: ص 115]

تشریح:
حافظ ابن الصلاحؒ کے اس اصول سے واضح ہوتا ہے کہ بعض شخصیات کی ثقاہت محض انفرادی توثیقات سے نہیں بلکہ شہرتِ علمی، قبولِ امت اور مسلسل اعتماد سے ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے ہر بار ان کی عدالت ثابت کرنے کے لیے الگ الگ اقوال جمع کرنا ضروری نہیں ہوتا۔

خلاصۂ بحث:
جرح و تعدیل کا علم صرف "کسی نے جرح کردی” یا "کسی نے توثیق کردی” کا نام نہیں، بلکہ یہ موازنہ، قرائن، اسباب، شہرتِ علمی، قبولِ امت اور ناقد کے مقام کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنے کا فن ہے۔ اسی وجہ سے ائمہ حدیث نے جرح کو بھی اصولوں کا پابند رکھا اور تعدیل کو بھی۔

ہمارے زمانے کے بعض جہلاء یہ اعتراض کرتے ہیں کہ محدثین کا معروف قاعدہ ہے کہ ’’الجرح مقدم علی التعدیل‘‘ (یعنی جرح تعدیل پر مقدم ہوتی ہے) لہٰذا جب امام صاحب کے بارے میں جرح و تعدیل دونوں منقول ہیں تو جرح راجح ہوگی ،

لیکن یہ اعتراض جرح و تعدیل کے اصول سے ناواقفیت پر مبنی ہے کیونکہ ائمہ حدیث نے اِس بات کی تصریح کی ہے کہ’’ الجرح مقدم علی التعدیل‘‘ کا قاعدہ مطلق نہیں ، بلکہ چند شرائط کے ساتھ مقید ہے،

اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کسی راوی کے بارے میں جرح اور تعدیل کے اقوال متعارض ہوں ،ان میں ترجیح کے لئے علماء نے اوّلاً دو طریقے اختیار کئے ہیں،

پہلا طریقہ جو کہ جرح و تعدیل کے دوسرے اصول کی حیثیت رکھتا ہے ،اُسے خطیب بغدادی نے ’’الکفایۃ فی اصول الحدیث والروایۃ‘‘ میں یہ بیان کیا ہے کہ

’’ ایسے مواقع پر یہ دیکھا جائے گا کہ جارحین کی تعداد زیادہ ہے یا معدلین کی، 

جس کی طرف تعداد زیادہ ہوگی ، اُسی جانب کو اختیار کیا جائے گا ۔‘‘

شافعیہ میں سے علامہ تاج الدین سبکی رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں ،

اسی طرح علم جرح و تعدیل کے امام ذھبی ((حضرت اسد بن موسیٰؒ)) کے متعلق فرماتے ہیں ؛

صرف ابو سعید بن یونس نے اپنے ایک قول میں انہیں غریب الحدیث اور علامہ بن حزم نے منکر الحدیث کہا ہے،لیکن بقول حافظ ذہبی یہ تضعیف چنداں لائق اعتنا نہیں کیونکہ ائمہ کی اکثریت ان کی ثقاہت پر متفق ہے،اگر ان کی بعض روایات میں کوئی سقم نظر آتا ہے تو وہ بعد کے رواۃ کے ضعف کی بنا پر ہے،علامہ ذہبی نے میزان  الاعتدال میں اس کی تصریح کی ہے۔     

(میزان الاعتدال:۱/۹۷)

اگر یہ طریقِ کار اختیار کیا جائے تب بھی امام ابو حنیفہ کی تعدیل میں کوئی شبہ نہیں رہتا ، کیونکہ امام صاحب پر جرح کرنے والے صرف معدودے چند افراد ہیں ،جن میں ایک نام حافظ ابن عدی رحمہ اللہ کا ہے،اور یہ تحریر کیا جا چکا کہ ابن عدی امام طحاوی کے شاگرد بننے کے بعد امام اعظم کی عظمت کے قائل ہوچکے تھے۔

اور دوسری طرف امام صاحب کے مادّحین اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ اُن کو گِنا بھی نہیں جاسکتا، نمونہ کے طور پر ہم چند اقوال پیش کرتے ہیں،

علمِ جرح و تعدیل کے سب سے پہلے عالم، جنہوں نے سب سے پہلے رجال پرباقاعدہ کلام کیا ،وہ امام شعبہ ابن الحجاج رحمہ اللہ ہیں ، جو امیر المؤمنین فی الحدیث کے لقب سے مشہور ہیں، وہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں فرماتے ہیں ’’ کان واﷲ ثقة ثقة‘‘ (یعنی میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ وہ ثقہ تھے)

جرح و تعدیل کے دوسرے بڑے امام یحییٰ بن سعید القطّان ہیں ، یہ خود امام ابو حنیفہ کے شاگرد ہیں ، اور حافظ ذہبی نے ’’ تذکرۃ الحفاظ ‘‘میں اور حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے ’’ الانتقاء‘‘ میں نقل کیا ہے کہ وہ امام ابو حنیفہ کے اقوال پر فتویٰ دیا کرتے تھے،

اور جیسا کہ تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۳۵۲ میں اُن کا مقولہ ہے، 

’’جالسنا واﷲابا حنیفة و سمعنا منہ فکنت کلما نظرت الیہ عرفت وجھہ انہ یتقی اﷲ عزوجل‘‘

(یعنی اللہ کی قسم ہم نے امام اعظم کی مجلس اختیار کی، اور اُن سے سماع کیا، اور میں نے جب بھی ان کی جانب نظر کی ،تو اُن کے چہرہ کو اس طرح پایا کہ بلاشبہ وہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔) 

امام یحییٰ بن سعید القطّان کا دوسرا مقولہ علامہ سندھی کی ’’کتاب التعلیم‘‘ کے مقدمہ میں منقول ہے ’’انہ لأعلم ھذہ الامۃ بماجاء عن اﷲ و رسولہ صلی اﷲعلیہ و سلم‘‘(یعنی بلاشبہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب سے آنے والے احکام کو اس امت میں سب سے بہتر جاننے والے امام اعظم تھے۔)

جرح و تعدیل کے تیسرے بڑے امام یحییٰ بن سعید القطّان کے شاگرد یحییٰ بن معین ہیں، وہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں فرماتے ہیں ، 

’’ کان ثقة حافظاً ،لا یحدث الا بما یحفظ ما سمعت احداً یجرحہ‘‘

(یعنی وہ معتمد علیہ اور حافظ تھے، اور وہی حدیث بیان کرتے تھے، جو انہیں حفظ ہوتی تھی، میں نے کسی کو نہیں سنا، جو اُن کی جرح کررہا ہو۔ )

جرح و تعدیل کے چوتھے بڑے امام حضرت علی بن المدینی رحمہ اللہ ہیں ، جو کہ امام بخاری کے استاذ اور نقدِ رجال کے بارے میں بہت متشدد ہیں ،جیسا کہ حافظ ابن حجر نے فتح الباری کے مقدّمہ میں اس کی صراحت کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ

’’ابو حنیفة روی عنہ الثوری و ابن المبارک و ھشام و وکیع و عباد بن العوام و جعفر بن عون و ھوثقة لا بأس بہ‘‘

(یعنی! امام ابو حنیفہ سے امام ثوری، ابن مبارک، ہشام، وکیع ، عبادبن عوام اور جعفر بن عون رحمھم اللہ نے روایت کی ہے، وہ ثقہ ہیں، ان سے روایت لینے میں کوئی حرج نہیں۔)

نیز حضرت عبد اللہ بن المبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں،

’’ لولا اعاننی اﷲ بابی حنیفة و سفیان لکنت کسائر الناس ‘‘

(اگر اللہ عزوجل امام ابو حنیفہ اورامام سفیان ثوری رحمہما اللہ کے ذریعہ میری اعانت نہ فرماتے تو میں بھی عام لوگوں کی طرح ہوتا۔)

اور مکی بن ابراہیم کا مقولہ یہ ہے کہ ’’ کان اعلم اھل زمانہ‘‘ (یعنی امام اعظم اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم تھے۔)

ان کے علاوہ یزہد بن ھارون ، سفیان ثوری ، سفیان بن عیینہ، اسرائیل بن یونس ، یحییٰ بن آدم، وکیع بن الجراح ، امام شافعی اور فضل بن دکین رحمہم اللہ جیسے ائمہ حدیث سے بھی امام ابو حنیفہ کی توثیق منقول ہے، علم حدیث کے ان بڑے بڑے اساطین کے اقوال کے مقابلہ میں دو تین افراد کی جرح کس طرح قابلِ قبول ہوسکتی ہے، لہٰذا اگر فیصلہ کثرتِ تعداد کی بنیاد ہو تب بھی امام صاحب کی تعدیل بھاری رہے گی۔

جرح و تعدیل کے تعارض کو رفع کرنے کا دوسرا طریقہ جو کہ جرح و تعدیل کے تیسرے اصول کی حیثیت رکھتا ہے، وہ حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ نے مقدمہ میں بیان کیا ہے اور اسے جمہور محدثین کا مذہب قرار دیا ہے،

’’وہ یہ کہ اگر جرح مفسَّر نہ ہو، یعنی اس میں سبب جرح بیان نہ کیا گیا ہو تو تعدیل اس میں ہمیشہ راجح ہوگی ، خواہ تعدیل مفسَّر ہو یا مبہم۔‘‘

اس اصول پر دیکھا جائے تو امام ابو حنیفہ کے خلاف جتنی جرحیں کی گئی ہیں ، وہ سب مبہم ہیں ، اور ایک بھی مفسَّر نہیں ، لہٰذا ان کا اعتبار نہیں اور تعدیلات تمام مفسَّر ہیں ، کیونکہ اس میں ورع اور تقوی اور حافظہ تمام چیزوں کا اثبات کیا گیا ہے ، خاص طور سے اگر تعدیل میں اسباب جرح کی تردید کر دی گئی ہو تو وہ سب سے زیادہ مقدم ہوتی ہے اور امام صاحب کے بارے میں ایسی تعدیلات بھی موجود ہیں ، 

خلاصہ یہ ہے کہ ’’ الجرح مقدم علی التعدیل ‘‘کا قاعدہ اُس وقت معتبر ہوتا ہے جبکہ جرح مفسَّر ہو، اور اس کا سبب بھی معقول ہو اور بعض علماء کے نزدیک یہ شرط بھی ہے کہ معدلین کی تعداد جارحین سے زیادہ نہ ہو۔

امام بخاریؒ پر منقول جروح اور اصولِ جرح و تعدیل کی روشنی میں ان کا جائزہ

سوال یہ نہیں کہ کیا امام بخاریؒ پر جرحیں منقول ہیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا محض جرح منقول ہونا کسی امام کی عدالت، امامت اور ثقاہت کو ساقط کردیتا ہے؟ اگر اصولِ جرح و تعدیل کو سامنے رکھا جائے تو جواب نفی میں ہوگا، کیونکہ ائمہ حدیث پر باہمی علمی اختلافات، عقیدے کے بعض جزوی مسائل، یا ہمعصری کے اثرات کی بنا پر کلام منقول ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے ہمیشہ جرح و تعدیل کے باب میں محض اقوال پر نہیں بلکہ اسباب، قرائن اور مجموعی علمی مقام کو بھی پیشِ نظر رکھا ہے۔

امام بخاریؒ پر امام ذہلیؒ کی جرح، مسئلۂ لفظِ قرآن کے پس منظر میں ہوئی۔ اس واقعہ میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ نیشاپور میں اس مسئلے نے شدید علمی و سماجی کشیدگی پیدا کردی تھی۔ تاریخی طور پر یہ دور خلقِ قرآن اور الفاظِ قرآن کے مباحث کا دور تھا، جس میں کئی بڑے ائمہ ایک دوسرے سے علمی اختلاف رکھتے تھے۔ یہاں قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ بعد کے محدثین نے امام بخاریؒ کی امامت، حفظ، عدالت اور کتابِ صحیح بخاری کی عظمت کو برقرار رکھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اختلاف کو مطلق جرحِ قادح نہیں سمجھا گیا۔

اسی طرح امام ابو زرعہؒ، ابو حاتمؒ یا دیگر ائمہ سے جو کلام منقول ہے، وہ بھی خاص تاریخی و علمی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ اگر ہر جرح کو مطلقاً قبول کرلیا جائے تو پھر خود ائمہ حدیث کی ایک بڑی تعداد باہمی جروح کی بنا پر محلِ اشکال بن جائے گی، حالانکہ محدثین نے ایسا نہیں کیا۔ اصولِ محدثین میں اسی لیے جرح کے ساتھ تعدیل، جمہور کا موقف، اور قبولِ امت کو بھی دیکھا جاتا ہے۔

 کیا امام بخاری پر ائمہ حدیث سے جرحیں منقول نہیں ہیں؟ ہاں ضرور منقول ہیں

بطور تمثیل چند جرحیں ملاحظہ فرمایئے

اول: بخاری کے استاد امام ذہلی نے بخاری پر سخت جرح کی ہے – طبقات شافعیہ ج2 ص 12 میں ہے: "قال الذھلی الا من یختلف الی مجلسه [ای بخاری] فلا یاتینا فانهم کتبوا الینا من بغداد انه تکلم فی اللفظ ونهیناہ فلم ینته فلا تقربوہ”

‏”امام ذہلی نے فرمایا جو بخاری کی مجلس میں جاتا ہے وہ ہمارے پاس نہ آئے کیوں کہ بغداد سے ہمیں لوگوں نے لکھا ہے کہ بخاری الفاظ قرآن کے سلسلہ میں کلام کررہے ہیں اور ہم نے ان کو اس سے منع کیا مگر وہ باز نہیں آئے – لہذا ان کے پاس نہ جانا”‎

خیال فرمایئے! ذہلی نے لوگوں کو امام بخاری کے نزدیک جانے سے منع کردیا اور اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ یہ بھی کہی دیا: "من زعم ان لفظی بالقران مخلوق فهو مبتدع لایجالس ولا یکلم” [طبقات ج2 ص 12]

‏”جو یہ سمجھے کہ میرے منہ سے نکلنے والے الفاظ قرآنی الفاظ مخلوق ہیں تو وہ بدعتی ہے – نہ اس کے پاس بیٹھا جائے اور نہ اس سے بات کی جائے”

ذہلی کے اس کلام کا لوگوں پر ایسا اثر ہوا کہ اکثر لوگوں نے بخاری سے ملنا چھوڑ دیا – [تاریخ ابن خلکان ج2 ص 123] میں ہے: "فلما وقع بین محمد بن یحیی و البخاری ما وقع فی مسئلة اللفظ ونادی علیه منع الناس من الاختلاف الیه حتی ھجر و خرج من نیشاپور فی تلك المحنة و قطعه اکثر الناس غیر مسلم”

‏”جب محمد بن یحیی اور امام بخاری کے درمیان الفاظ قرآن کے سلسلہ میں اختلاف ہوا تو انہوں نے لوگوں کو ان کے [بخاری] کے پاس جانے سے روک دیا یہاں تک کہ اس آزمائش کے وقت میں امام بخاری کو نیشاپور سے ہجرت کرنا پڑی اور امام مسلم کے علاوہ اکثر لوگوں نے ان سے قطع تعلق کرلیا”

دوم: امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے باوجود اس رفاقت کے بخاری سے اپنی صحیح مسلم میں ایک حدیث بھی نہیں روایت کی بلکہ "حدیث منعن” کی بحث میں بعض”منتحلی الحدیث” میں "عصونا” کں لفظ سے بخاری کو یاد کیا ہے اور بہت درشت اور ناملائم الفاظ کہہ گئے – دیکھو [مسلم ج1 ص 21]

سوم: ابو ذرعہ اور ابو حاتم نے بخاری کو چھوڑ دیا [طبقات شافعیہ ج 1 صفحہ 190] میں ہے: "ترکه [ای البخاری] ابو ذرعة و ابو حاتم من اجل مسئلة اللفظ”‎

‏”ابو ذرعہ اور ابو حاتم نے الفاظ قرآن کے اختلاف کی وجہ سے بخاری کو چھوڑ دیا”

اور میزان الاعتدال میں ہے: "کما امتنع ابو ذرعة و ابو حاتم من روایة عن تلمیذہ [أی ابن المدینی] محمد [أی البخاری] لاجل مسئلة اللفظ”

‏”جیسا کہ ابو ذرعہ اور ابو حاتم نے ان [علی بن المدینی] کے شاگرد [امام بخاری] سے الفاظ قرآن کے اختلاف کی بناء پر روایت کرنا ترک کردیا”

‏”وقال عبد الرحمن بن ابی حاتم کان ابو ذرعة ترکه الروایة عند من اجل ما کان منه فی تلك المحنة”

‏”عبد الرحمن بن ابی حاتم فرماتے ہیں کہ اس آزمائش کی بناء پر ابو ذرعہ نے امام بخاری سے روایت کرنا ترک کردیا”

چہارم: ابن مندہ نے بخاری کو مدلسین میں شمار کیا ہے [شرح مختصر جرجانی ص 215] میں ہے: "عدہ ابن مندہ فی رسالة شروط الائمة ‎من المدلسین حیث قال اخرج البخاری فی کتبه قال لنا فلان وھی اجازة و قال فلان وھی تدلیس”‎

‏”ابن مندہ نے بخاری کو اپنے رسالہ "شروط الائمہ” میں مدلسین میں شمار کیا ہے – چناچہ فرمایا کہ بخاری نے اپنی کتابوں میں اس طرح روایتیں بیان کی ہیں کہ ہم نے فلاں سے کہا "یہ اجازت ہے” اور فلاں نے کہا "یہ تدلیس ہے”

ظاہر ہے کہ تدلیس سوء حفظ سے بڑھ کر عیب ہے – کیوں کہ یہ فعل اختیاری ہے اس میں مظنہ و مظالطہ و فریب ہے – اسی لیے شمسی نے کہا ہے کہ "التدلیس حرام عند الائمة” [تدلیس ائمہ کے نزدیک حرام ہے] دیکھئے [مقدمہ اصول الشیخ المحدث الدہلوی علی المشکوۃ ص 2]

غور فرمایئے! بخاری نے ذہلی سے تقریبآ 30 حدیثیں روایت کی ہیں – مگر جس نام سے وہ مشہور تھے کہیں نہیں ذکر کیا کیوں کہ بخاری و ذہبی میں سخت خشونت و منافرت تھی [تاریخ ابن خلکان ج2 ص 134] میں ہے: "وروی [ای البخاری] عنه [ذھبی] مقدار ثلثین موضعا ولم یصرح باسمه فیقول حدثنا محمد بن یحیی الذھبی بل یقول حدثنا محمد ولا یزید علیه ولا یقول محمد بن عبد الله ینسبه الی جدہ و ینسبه ایضا الی جد ابیه”

‏”امام بخاری نے امام ذہلی سے 30 مقامات پر روایات بیان کی ہیں اور کہیں بھی ان کا نام نہیں لیا کہ یوں کہتے کہ ہم سے محمد بن یحیی ذہلی نے بیان کیا بلکہ صرف اس طرح کہتے ہیں کہ ہم سے محمد نے حدیث بیان کی – کہیں کہیں محمد بن عبد اللہ ان کے دادا کی جانب منسوب کرکے کہتے ہیں اور بعض جگہ پر دادا کی طرف نسبت کرتے ہیں”

پنجم:دارقطنی اور حاکم نے کہا ہے کہ اسحق بن محمد بن اسماعیل سے بخاری کا حدیث روایت کرنا معیوب سمجھا گیا ہے [مقدمہ فتح الباری ص 451] میں ہے: "قال الدار قطنی والحاکم عیب علی البخاری اخراج حدیثه”

‏”دارقطنی اور حاکم نے فرمایا کہ روایت حدیث میں بخاری پر الزام لگایا گیا ہے”

دارقطنی اور حاکم کا مطلب یہ ہے کہ اسحاق بن محمد کو بخاری نے ثقہ خیال کرلیا حالانکہ وہ ضعیف ہیں – ثقہ اور ضعیف میں امتیاز نہ کرسکے اور اسماعیل نے بخاری کے اس فعل پر تعجب کیا ہے کہ ابو صالح جہنی کی منقطع روایت کو صحیح سمجھتے ہیں اور متصل کو ضعیف [مقدمہ فتح الباری ص 483] میں ہے: "وقد عاب ذالك الاسماعیل علی البخاری وتعجب منه کیف یحتج باحادیثه حیث یقلقها فقال ھذا اعجب یحتج به اذا کان منقطعا ولا یحتج به اذا کان متصلا”

‏”اسماعیل نے بخاری پر اس کا الزام لگایا اور تعجب کیا کہ ابو صالح جہنی کی احادیث سے کیونکہ استدلال کرتے ہیں جب کہ وہ متصل نہیں ہیں

فرمایا یہ اور زیادہ عجیب بات ہے کہ حدیث منقطع کو قابل حجت اور متصل کو ضعیف سمجھتے ہیں”

ششم: ذہبی نے بخاری کے بعض امور پر استعجاب ظاہر کیا ہے – اسید بن زید الجمال کے ترجمہ میں لکھتے ہیں: "والعجب ان البخاری اخرج له فی کتاب الضعفاء”

‏”تعجب ہے کہ بخاری اس سے روایت بھی کرتے ہیں اور اس کو ضعیف بھی کہتے ہیں”

جو کسی راوی کو خود ضعیف بتلاوے اور پھر "اصح الکتب” میں اس سے روایت بھی کرے – غور کرو اس سے قائل کے حافظہ پر کیا اثر پڑتا ہے – معترضین ذرا انصاف کریں کہ اگر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی جرج کی وجہ سے ضعیف ہیں تو بخاری ابن مندہ اور ذہلی وغیرہ کی جرح کے سبب سے کیوں مجروح نہ ہوں گے

ہفتم: حسب قاعدہ معترضین جب بخاری خود مجروح ثابت ہوئے تو مجروح کی جرح امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر کیا اثر ڈال سکتی ہے؟ افسوس ہے کہ غیرمقلدین محض حسد سے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر حملہ کرتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ ہم اپنا گھر [خود] ڈھاتے ہیں – اگر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ضعیف کہے جائیں گے تو دنیا کےتمام محدثین ضعیف اور متروک الحدیث ہوجائیں گے

تنبیہ: واضح ہو کہ اسکات خصم کے لیے یہ جرحیں نقل کی گئی ہیں – جیسا کہ حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب "تحفہ” میں بمقابلہ شیعہ الزامی پہلو اختیار فرمایا ہے ورنہ صداقت کے ساتھ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ دونوں ثقہ ، صدوق ، عادل ، ضابطہ ، جید الحافظہ ، عابد ، زاہد اور عارف تھے – کوئی ان میں مجروح نہیں اور کسی کی حدیث قابل ترک نہیں – جن احوال سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی جرحیں موضوع ہیں انہیں احوال سے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کی جرحیں مدفوع اور ساقط اعتبار ہیں

ربنا اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین امنو ربنآ انك رؤف رحیم

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر اعتراضات کے جوابات صفحہ نمبر 41 تا 54

امام ابو یوسف رحمه الله کی تضعیف و جرح کا مفصل جواب

قوله : اب سنیئے ان کے مقرب شاگرد ان کی نسبت ضعف کا تمغہ پہلے امام ابو یوسف کو لیجئے الی قولہ ان کی بابت "میزان الاعتدال” میں ہے "قال الفلاس کثیر الغلط و قال البخاری ترکوہ ، الی قولہ” اور "لسان المیزان” میں ہے "قال ابن المبارك ابو یوسف ضعیف الروایة اھ”

اقول

چو قاضی بفکرت نویسد سجل
نہ گردد ز دستار بنداں خجل

ناظرین ! یہ وہی امام ابو یوسف رحمه الله ہیں جن کے امام احمد بن حنبل رحمه الله وغیرہ شاگرد ہیں ، چناچہ کئی سلسلے ان کے ابتداء میں بیان کرچکا ہوں ، یہ وہی امام ابو یوسف رحمه الله ہیں جن کے بارے میں امام نسائی نے "کتاب الضعفاء والمتروکین” میں کہا ہے کہ امام ابو یوسف رحمه الله ثقہ ہیں ، یہ وہی امام ابو یوسف رحمه الله ہیں جن کو حافظ ذھبی نے "تذکرۃ الحفاظ” میں حافظین حدیث میں شمار کیا ہے:

"سمع ھشام بن عروۃ وابا اسحق الشیبانی و عطاء بن السائب و طبقتهم و عنه محمد بن الحسن الفقیه و احمد بن حنبل و بشر بن الولید و یحیی بن معین و علی بن الجعد و علی بن مسلم الطوسی و خلق سواھم… انتهی ملخصآ اھ” [تذکرۃ الحفاظ للذہبی]

ابو یوسف نے فن حدیث کو ہشام بن عروہ ، ابو اسحاق شیبانی ، عطاء بن سائب اور ان کے طبقے والوں سے حاصل کیا ہے اور فن حدیث میں امام ابو یوسف کے شاگرد امام محمد ، امام احمد ، یحیی بن معین ، بشر بن ولید ، علی بن جعد ، علی مسلم طوسی اور ایک مخلوق محدثین کی ہے۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ کسی راوی یا امام کے علمی مقام کے تعین میں اس کے شیوخ و تلامذہ بھی اہم قرائن شمار ہوتے ہیں، اسی لیے محدثین طبقاتی اور علمی نسبتوں کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔

طلب علم ہی میں ان کی نشو ونما ہوئی ہے ، ان کے والد ماجد کی افلاس کی حالت تھی اس لئے امام ابو حنیفہ رحمه الله ان کی خبر گیری رکھتے اور ضروریات کو پورا کرتے تھے۔ امام مزنی کا قول ہے کہ امام ابو یوسف جماعت بھر میں حدیث کے متبع زیادہ تھے ، ابراہیم بن ابی داؤد یحیی بن معین سے نقل کرتے ہیں کہ اہل رائے میں امام ابو یوسف اثبت اور اکثر حدیث ہیں۔

عباس دوری نے ابن معین سے نقل کیا ہے کہ امام ابو یوسف صاحب حدیث ، صاحب سنت ہیں۔ ابن سماعہ کہتے ہیں کہ قاضی ہوجانے کے بعد امام ابو یوسف رحمه الله ہر روز دو سو [200] رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ امام احمد رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام ابو یوسف رحمه الله حدیث میں منصف تھے۔ [182ھ 798ء] ایک سو بیاسی ھجری میں ان کا انتقال ہوا ہے۔

امام ذہبی صاحب کتاب کہتے ہیں کہ ان کے واقعات علم و سیادت کے بہت سے ہیں اور میں نے ان کے اور امام محمد کے مناقب کو ایک مستقل کتاب میں جمع کیا ہے۔

یہ تمام اقوال اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کو صرف فقہ کے باب میں نہیں بلکہ حدیث و روایت کے باب میں بھی ایک علمی مقام حاصل تھا، اور یہی وجہ ہے کہ متعدد ناقدین نے ان کے لیے تعدیلی الفاظ استعمال کیے۔

ناظرین ! یہ ائمہ کے اقوال ملاحظہ فرمائیں کہ امام ابو یوسف رحمه الله کے بارے میں کتنے زبردست الفاظ میں مدحیہ ہیں ، اس پر بھی معاندین اور حساد آنکھیں نکال رہے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں یہ بات آتی ہے کہ جو شخص بقول امام بخاری متروک ہو ، بقول فلاس کثیر الغلط ہو وہ ان الفاظ کا ایسے ائمہ سے جن کا اوپر ذکر ہوا ہے مستحق ہوسکتا ہے؟

یہاں اصولی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ علم جرح و تعدیل میں محض جرح نقل کرنا کافی نہیں بلکہ جرح و تعدیل کے تعارض کی صورت میں اسباب، قرائن، اکثریتِ ناقدین، اور مجموعی علمی مقام بھی دیکھا جاتا ہے۔

امام بخاری نے محض اس رنجش کی وجہ سے جو ان کو بعض حنفیوں سے ہوگئی تھی امام ابو یوسف رحمه الله اور امام ابو حنیفہ رحمه الله کے بارے میں کلام کردیا ، حالانکہ یہ محض تعصب پر مبنی ہے ، جو قابل قبول نہیں ہے۔

البتہ علمی اسلوب میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بعض اہل علم ان اقوال کو فقہی و منہجی اختلافات یا خاص علمی پس منظر میں دیکھتے ہیں، اس لیے ان جروح کے اسباب کا مطالعہ ضروری ہے۔

نواب صدیق حسن خان فرماتے ہیں:

"کان القاضی ابو یوسف من اھل الکوفة وھو صاحب ابی حنیفة و کان فقیها عالما حافظا اھ” [التاج المکلل ص91]

کہ قاضی ابو یوسف کوفہ کے اور امام ابو حنیفہ کے شاگرد ہیں ، فقیہ ، عالم ، حافظ حدیث تھے۔

آگے چل کر نواب صاحب لکھتے ہیں:

"ولم یختلف یحیی بن معین و احمد بن حنبل و علی المدینی فی ثقته فی النقل اھ” [التاج المکلل ص92]

کہ یحیی بن معین اور احمد بن حنبل اور علی بن مدینی تینوں اماموں کا امام ابو یوسف کے ثقہ فی الحدیث ہونے پر اتفاق ہے۔

حافظ ابن حجر "تقریب” میں ابن مدینی کے بارے میں فرماتے ہیں:

"ثقة ثبت امام اعلم اھل عصرہ بالحدیث وعلله حتی قال البخاری ما استصغرت نفسی الا عندہ” [تقریب]

اس استدلال کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ جب بڑے ناقدینِ حدیث کسی شخصیت کی توثیق کریں تو ان کے اقوال کو بھی مجموعی بحث میں شامل کیا جاتا ہے، نہ کہ صرف ایک یا دو اقوال کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔

اسی طرح "التاج المکلل”، "انساب سمعانی”، "کتاب الانتہا”، "میزان الاعتدال” اور دیگر حوالہ جات میں منقول عبارات امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے علمی مقام، حفظ، فقاہت اور حدیثی اشتغال پر دلالت کرتی ہیں۔

ناظرین ! اب "میزان الاعتدال” کی عبارت کے متعلق سنیئے، مؤلف رسالہ [الجرح علی ابی حنیفه] نے جو فلاس کا قول نقل کیا ہے اس کا ایک لفظ ترک کردیا ، کیونکہ وہ امام ابو یوسف رحمه الله کی مدح میں تھا ، اصل عبارت یوں ہے:

"قال الفلاس صدوق کثیر الغلط اھ”

فلاس کہتے ہیں امام ابو یوسف صدوق کثیر الغلط تھے۔

یہاں لفظ "صدوق” قابل توجہ ہے کیونکہ اصولِ محدثین میں صدوق کا لفظ اصل عدالت اور صدق کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ "کثیر الغلط” ضبط کے باب میں گفتگو شمار ہوتی ہے۔ لہٰذا دونوں الفاظ کو جمع کرکے سمجھنا زیادہ اصولی منہج ہے۔

"وقال عمرو الناقد کان صاحب سنة اھ” [میزان ص321]

"وقال ابو حاتم یکتب حدیثه اھ” [میزان ص321]

"وقال المزنی ھو اتبع القوم للحدیث اھ” [میزان ص321]

"واما الطحاوی فقال… لیس فی اصحاب الرای اکثر حدیثا ولا اثبت من ابی یوسف اھ” [میزان جلد ثالث ص321]

"وقال ابن عدی… فاذا روی عنه ثقة و روی ھو عن ثقة فلا باس به اھ” [میزان ص322]

ان تمام اقوال کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے باب میں مطلق اسقاط یا ترک کا منہج اختیار نہیں کیا بلکہ ان کے بارے میں تفصیلی اور متوازن گفتگو کی ہے۔

ناظرین ! "میزان” کی یہ سب عبارتیں جن میں امام ابو یوسف رحمه الله کی ائمہ نے توثیق کی ہے مؤلف رسالہ [الجرح علی ابی حنیفه] نے اپنی حقانیت اور دیانت داری ظاہر کرنے کے واسطے حذف کردیں اور صرف "فلاس” اور "امام بخاری” کے قول کو نقل کردیا تاکہ عوام کو دھوکہ میں ڈال دیں۔

خلاصہ یہ کہ اصولِ جرح و تعدیل کا تقاضا یہ ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بارے میں منقول جروح اور تعدیلات دونوں کو جمع کیا جائے، اسبابِ جرح کا جائزہ لیا جائے، اور مجموعی اقوال کی روشنی میں متوازن حکم قائم کیا جائے۔

کشف الغمة بسراج الامة – ترجمہ [امام اعظم ابو حنیفہ رحمه الله اور متعرضین] صفحہ نمبر 71 تا 75

قوله : یہ تو ہوا حال ابو یوسف کا

اقول : جس کی تفصیل ناظرین معلوم کرچکے ہیں

قوله : اب سنیئے امام محمد کا حال جنہوں نے ایک موطا بھی لکھ ماری ہے[پانچوں سواروں میں اپنے کو بھی شامل کرنے یا خون لگا کر شہید بننے کو]

اقول : ناظرین یہ ہے تہذیب اور سلف کے ساتھ ان کا یہ برتاؤ ہے ، کیا آپ اس کو علمی تحریر سمجھتے ہیں جو اور الفاظ گندے لکھے ہیں وہ ان سے بھی بڑھ کر ہیں جن سے بازاری بھی مات ہیں لیکن یہ حضرات کا طریقہ ہے کہ ہرایک کو برا بھلا کہا کرتے ہیں اور سوائے اس کے ان کے پلہ اور کچھ نہیں

آپ نے گالیاں دیں خوب ہوا خوب کیا

بخدا مجھ کو مزا آیا شکر پاروں کا

امام محمد رحمه الله کے "موطا” تصنیف کرنے پر آپ کو کیوں حسد پیدا ہوگیا-اگر آپ میں کچھ ہمت ہے تو اپنی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث کی کتابچھوٹی سی چھوٹی تصنیف کرکے دکھائیں – دیکھیں تو سہی آپ کتنے پانی میں ہیں- امام محمد رحمه الله نے ایک "موطا” ہی تصنیف نہیں کی نو سو ننانوے[999] کتابیں تالیف کی ہیں – آپ ننانوے [99] ہی تالیف کرکے دکھائیں -امام محمد رحمه الله کی تصانیف سے بڑے بڑوں نے فائدہ حاصل کیا ہے اورتعریف کی ہے اور ان کے علم کا لوہا مان گئے ہیں ، چناچہ آرہا ہے

یہاں تک تو ناظرین نے مؤلف رسالہ [الجرح علی ابی حنیفه] کی علمی حالت کااندازہ کرلیا ہے – اب اور آگے چل کر معلوم کرلیں گے ، نیز امام محمد رحمهالله کی قدر و منزلت ، فضیلت و علمیت وغیرہ بھی معلوم ہوجائے گی

قوله : امام نسائی نے اپنے رسالہ "کتاب الضعفاء والمتروک” میں لکھا ہے "ومحمد بن الحسن ضعیف” اور میزان الاعتدال” میں ہے "لینه النسائی وغیرہ من قبل حفظه” اور "لسان المیزان” میں ہے "قال ابو داؤد لا یکتب حدیثه” [بحذفترجمہ اردو]

اقول

کم بخت دلخراش بہت ہے صدائے دل

کانوں پہ ہاتھ رکھ کے سنوں ماجرائے دل

"میزان الاعتدال” میں تلیین امام نسائی ذکر کرنے کے بعد ذہبی فرماتے ہیں”یروی عن مالك بن انس وغیرہ و کان من بحور العلم والفقه قویافی مالك اھ”[میزان جلد ثالث ص43] حدیث کی روایت امام مالک رحمه الله وغیرہ سے کرتےہیں ، علم و فقہ کے دریائے ناپیدا کنار تھے – روایات مالک میں قوی تھےناظرین "مقدمہ میزان الاعتدال” کی عبارت پیش نظر رکھیں کہ میری اس کتاب میں وہ لوگ ہیں جن میں مشد دین فی الجراچ نے ادنی لین کی وجہ سے کلام کیاہے ، حالانکہ وہ جلیل القدر اور ثقہ ہیں ، اگر ابن عدی وغیرہ ان کو اپنی اپنی کتابوں میں ذکر نہ کرتے تو میں بھی ان کے ثقہ ہونے کی وجہ سے اپنی اس کتاب میں ان کو ذکر نہ کرتا – امام ذہبی رحمه الله مالک میں ان کو قوی کہتے ہیں ، علم کے دریا ناپیدا کنار اور فقہ کے بحر بے پایاں ہیں – اس سےامام ذہبی رحمه الله کے نزدیک ممدوح اور ان کا ثقہ ہونا ظاہر ہے ، امام ذہبی رحمه الله فرماتے ہیں "ولم ارمن الرای ان احذف اسم احد ممن له ذکر بتلیین مافی کتب الأئمة المذکورین خوفا من ان یتعقب علی لا انی ذکرته لضعف فیه عندی اھ” میں نے اس خوف کی وجہ سے کہ کہیں لوگ میرے درپے نہ ہوجائیں مناسب نہیں سمجھا کہ جن حضرات کی تلیین کتب ائمہ مذکورین میں ہیں ان کو ذکر کروں اور ان کے ناموں کو حذف کردوں یہ بات نہیں ہے کہ میرےنزدیک ان میں کسی قسم کا ضعف تھا اس لئے میں نے ان کو اس کتاب میں ذکرکیا ہے ، حاشا و کلا – لہذا یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ امام محمد حافظ ذہبی کے نزدیک ضعیف ہیں اس لئے ان کو "میزان” میں ذکر کیا ہے اگر کوئی مدعی ہےتو ثابت کر دکھائے

حافظ ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں "ھو محمد بن الحسن بن فرقد الشیبانی مو لا ھم ولد بواسط‎ ‎ونشاء بالکوفة و تفقه‎ ‎علی ابی حنیفة و سمع الحدیث من الثوری و مسعر و عمرو بن ذر و مالك بن مغول والاوزاعی و مالك بن انس و ربیعة بن صالح و جماعة و عنه الشافعی وابو سلیمان الجوزجانی و ھشام الرازی و علی بن مسلم الطوسی و غیرھم ولی القضاء فی ایام الرشید وقال ابنعبد الحکم سمعت الشافعی یقول قال محمد اقمت علی باب مالك ثلاث سنین وسمعت منه اکثر من سبعمائة حديث و قال الربیع سمعت الشافعی یقول حملت عن محمد و قربعیر کتبا و قال ابن علی بن المدینی عن ابیه فی حق محمد بن الحسن صدوق اھ” [لسان المیزان یہ کتاب حیدر آباد میں مطبوع ہوئی ہے] محمدبن الحسن مقام واسطہ میں پیدا ہوئے اور کوفہ میں انہوں نے نشو و نما پائی- فن فقہ کو امام ابو حنیفہ رحمه الله سے حاصل کیا – سفیان ثوری ، مسعر ،عمرو بن ذر ، مالک بن مغول ، اوزاعی ، مالک بن انس ، ربیعہ بن صالح اورایک جماعت محدثین سے فن حدیث کو حاصل کیا – امام شافعی ابو سلیمان جوزجانی ، ہشام رازی ، علی بن مسلم الطوسی وغیرہ محدثین نے فن حدیث کے حصول میں امام محمد رحمه الله کی شاگردی حاصل کی ، ہارون رشید کی خلافت کےزمانہ میں قاضی مقرر کئے گئے تھے – امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام محمد رحمه الله فرمایا کرتے تھے کہ میں نے امام مالک رحمه الله کےیہاں تین [3] سال اقامت کی اور سات سو [700] سے زیادہ حدیثیں امام مالکرحمه الله سے سنیں – امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں کہ ایک اونٹ بھرکتابیں امام محمد رحمه الله کی مجھ کو پہنچیں – علی بن مدینی کے صاحبزادےکہتے ہیں کہ میرے والد محمد بن الحسن کو "صدوق” کہا کرتے تھے – جب ابن مدینی نے امام محمد کی توثیق کردی تو پھر اور کسی کی ضرورت ہی کیا ہے –

یہ وہی ابن مدینی ہیں جن کے سامنے امام بخاری امام شافعی رحمه الله فرماتےہیں کہ امام محمد رحمه الله فرمایا کرتے تھے کہ میں نے امام مالک رحمه الله کے یہاں تین [3] سال اقامت کی اور سات سو [700] سے زیادہ حدیثیں امام مالک رحمه الله سے سنیں – امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں کہ ایک اونٹ بھر کتابیں امام محمد رحمه الله کی مجھ کو پہنچیں – علی بن مدینی جیسے شخض زانوئے ادب کو تہ کیا اور ان کے فضل و کمال کو اقرار کئے بغیرچارہ کار نہ ہوا ، چناچہ گزرچکا ہے اور ظاہر ہے کہ لفظ "صدوق” الفاظ توثیق میں سے ہے ، چناچہ حافظ ذہبی”میزان” کے دیباچہ میں فرماتے ہیں”فاعلی العبارات فی الرواۃ المقبولین ثبت ، حجة و ثبت حافظ و ثقة متقن و ثقة ثم ثقة ثم صدوق و لابأس به الخ” [میزان جلد اول ص3] اور جب ثابت ہوالفظ "صدوق” توثیق ہے تو امام محمد رحمه الله کے مقبول اور ثقہ فی الحدیث ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا اور وہ بھی علی بن مدینی کی توثیق جوامام بخاری اور نسائی وغیرہ پر غالب ہے "قال الشافعی ما رأيت اعقل من محمد بن الحسن اھ” [انساب سمعانی] امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے امام محمد رحمه الله جیسا عاقل کوئی نہیں دیکھا

"وروی عنه ان رجلا ساله عن مسئلة فاجابه فقال الرجل خالفك الفقهاء فقال له الشافعی و ھل رأيت فقیها اللهم الا ان یکون رأیت محمد بن الحسن اھ”[انساب سمعانی] امام شافعی رحمه الله سے کسی نے کوئی مسئلہ دریافت کیا اس کا انہوں نے جواب دیا ، سائل نے کہا کہ فقہاء تو آپ کی اس مسئلہ میں آپ کی مخالفت کررہے ہیں تو انہوں نے فرمایا تو نے کیا کوئی کبھی فقیہ دیکھا، ہاں امام محمد رحمه الله کو دیکھا ہے تو بے شک ٹھیک ہے کہ وہ اس قابل ہیں ، اس سے ظاہر ہے کہ امام شافعی رحمه الله بھی امام محمد رحمه الله کی فقاہت فی الدین کا لوہا مانے ہوئے ہیں "وکان اذا حدثتهم عن مالك امتلاء منزله و کثر الناس حتی یضیق علیه الموضع اھ” [تہذیب الاسماء] جس وقت امام محمد رحمه الله حدیث کی روایت امام مالک رحمه الله سے کرتے تو ان کا مکان کثرت سامعین اور شاگردوں سے بھر جاتاتھا حتی کہ خود موضع جلوس بھی تنگ ہوجاتا تھا

اگر امام محمد رحمه الله کو حدیث دانی میں دخل نہ ہوتا تو کثرت ازدحام محدثین کی کیوں ہوتی ، اگر وہ ضعیف ہوتے یا حافظ حدیث نہ ہوتے تو یہ بڑےبڑے محدثین کیوں ان کی شاگردی کو مایہ ناز سمجھتے اور کیوں ان کے مکان کوشوق سماعت حدیث میں بھر دیا کرتے – اس کو تو وہی حضرات خوب سمجھ سکتے ہیں جن کو خدا نے عقل و ہوش عنایت کئے ہیں اور علم دین سے کچھ حصہ ملا ہے "عن یحیی بن معین قال کتبت الجامع الصغیر عن محمد بن الحسن اھ” [تاریخ خطیب وتہذیب الاسماء] یحیی بن معین کہتے ہیں کہ میں نے جامع صغیر کو روایۃ امام محمد سے لکھا ہے

"عن یحیی بن معین قال سمعت محمدا صاحب الرای فقیل سمعت ھذا الکتاب من ابی یوسف قال و الله ماسمعته منه وھو اعلم الناس به الا الجامع الصغیر فانی سمعته من ابی یوسف اھ” [مناقب کردری ص150] امام محمد رحمه الله سے یحیی بن معین رحمه الله کا روایت کرنا اور ان کی کتابوں کی سماعت کرنی اور ان کی شاگردی اختیار کرنی یہ جملہ امور امام محمد رحمه الله کی فضیلت اورصاحب علم اور عادل ، ضابط ، حافظ ، محدث ، فقیہ ، ثقہ و صدوق ہونے پر دال ہیں – "عن عبد الله بن علی قال سالت ابی عن محمد قال محمد صدوق اھ”[مناقب کردری ، جلد ثانی ص150] عبد الله کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والدعلی بن مدینی سے امام محمد کے بارے میں دریافت کیا تو کہا امام محمد صدوق ہیں "عن عاصم بن عصام الثقفی قال کنت عند ابی سلیمان الجوزجانی فاتاہ کتاب احمد بن حنبل بانك ان ترکت روایة کتب محمد جئنا الیك لنسمع منك الحدیث فکتب الیه علی ظهر رقعته ما صعیرك الینا یرفعنا ولا حسبة اھ”[مناقب کردری جلد ثانی ص153] اگر امام محمد صدوق اور ثقہ عادل حافظ ضابظ محدث نہ ہوتے تو امام احمد رحمه الله جیسا شخص ان کی کتابوں کی روایت کی تمنا نہ کرتا کیونکہ وہ ثقہ ہی سے روایت کرتے ہیں – نیز جو جواب ابوسلیمان جوزجانی نے امام احمد رحمه الله کو دیا وہ بھی امام محمد رحمه الله کے علم و فضل اور کمال پردال ہے ، چناچہ ظاہر ہے”وذکر السلامی عن احمد بن کامل القاضی قال کان محمد موصوفا بالروایة والکمال فی الرایوالتصنیف وله المنزلة الرفیعة و کان اصحابه یعظمونه جدا اھ” [مناقب کردری جلد ثانی ص153]

احمد بن کامل قاضی کہتے ہیں کہ امام محمد رحمه الله روایت حدیث اور کمال فی الفقہ اور وصف تصنیف کے جامع تھے – ان کا بڑا مرتبہ ہے ، ان کے اصحاب ان کی بہت تعظیم کرتے تھے – "وذکر الحلبی عن یحیی بن صالح قال قال یحیی بن اکثم القاضی رأیت مالکا و محمدا قلت ایهما افقه قال محمد اھ” [مناقب کردری جلد ثانی ص156] یحیی بن صالح کہتے ہیں کہ یحیی قاضی نے فرمایا کہ میں نے امام مالک رحمه الله کو بھی دیکھا اور امام محمد رحمه الله کو بھی- میں نے دریافت کیا کہ دونوں میں افقہ کون ہے تو جواب دیا کہ امام محمدافقہ ہیں – "وبه عن ابی عبید قال مارأیت اعلم بکتاب الله تعالی من محمد اھ” [مناقب کردری جلد ثانی ص156] ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے کتاب الله کا عالم امام محمد رحمه الله سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا – ” عن ادریس بنیوسف القراطیسی عن الامام الشافعی مارأیت رجلا اعلم بالحلال والحرام والناسخ والمنسوخ من محمد اھ” [مناقب کردری ص157] امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے امام محمد رحمه الله سے زیادہ کسی کو حلال و حرام اور ناسخ اور منسوخ کا عالم نہیں دیکھا

"عن ابراھیم الحربی قال سالت احمد بن حنبل من این لك ھذا المسائل الدقاق قال من کتب محمد بن الحسن اھ” مناقب کردری ص160] ابراہیم حربی نے امام احمد رحمه الله سے دریافت کیا کہ یہ مسائل دقیقہ آپ نے کہاں سے حاصل کئےتو انہوں نے جواب دیا کہ امام محمد رحمه الله کی کتابوں سے میں نے حاصل کئے ہیں – اس روایت کو خطیب نے اپنی تاریخ میں اور امام نووی نے "تہذیب الاسماء” میں بھی نقل کیا ہے – اسی طرح ابو عبید کے قول مذکور کو بھی امام نووی نے کتاب مذکور میں نقل کیا ہے ، غرض ناظرین کے سامنے "مشتے نمونہ از خروارے” امام محمد رحمه الله کے بارے میں ائمہ کے اقوال پیش کئےہیں جو امام محمد رحمه الله کے فضل و کمال ، علم و حفظ ، صدق و دیانت ،مفسر و محدث ، فقیہ ہونے پر شاہد عادل ہیں اگر ایسا شخص ضعیف ہو تو پھرقیامت نہیں تو اور کیا ہے – ناظرین ان اقوال سے جلالت شان امام محمد رحمه الله ظاہر ہے

قوله : یہ تو ہوا امام صاحب کے شاگردوں کا حال

اقول : جس کی کیفیت ناظرین نے معلوم کرلی

قوله : لیکن امام صاحب کا ایک مزید ارحال سنیئے

اقول:یہ سنا ہے کہ حضرت ناصح یہاں آنے کو ہیں میں سمجھتا جو کچھ مجھ سے فرمانے کو ہیں

اس کے متعلق پہلے بھی عرض کرچکا ہوں اور آئندہ بھی خدمت کرنے کے لئے تیارہوں ، فرمایئے اور جواب سنیئے

کشف الغمة بسراج الامة – ترجمہ [امام اعظم ابو حنیفہ رحمه الله اورمتعرضین] صفحہ نمبر 76 تا 81

مختصر علمی تشریح

یہ متن امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللہ کی حدیث و فقہ میں امامت کا ایک مضبوط اور دلائل سے مزین دفاع ہے، جس کے اہم علمی نکات درج ذیل ہیں:

  • کتابوں کی کثرت اور طنز کا جواب: معترض نے امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب "موطا” (موطا امام محمد) پر جو غیر مہذب طنز کیا تھا، اس کا جواب دیتے ہوئے ثابت کیا گیا ہے کہ انہوں نے صرف موطا نہیں بلکہ 999 کتب تصنیف کیں اور معترض کو چیلنج دیا گیا کہ وہ اس پائے کی ایک چھوٹی سی کتاب ہی لکھ کر دکھا دے۔
  • جرح کی حقیقت اور "میزان الاعتدال” کا اصول: معترض نے امام نسائی کی کتاب "کتاب الضعفاء والمتروک”، علامہ ذہبی کی "میزان الاعتدال” اور علامہ ابن حجر کی "لسان المیزان” سے امام محمد پر جرح پیش کی۔ جواب میں علامہ ذہبی کا اپنا قول پیش کیا گیا کہ وہ امام محمد کو "علم و فقہ کا سمندر” اور امام مالک کی روایات میں "قوی” مانتے تھے۔ میزان کا اصول واضح کیا کہ اس میں نام ہونے کا مطلب راوی کا ضعیف ہونا نہیں ہوتا، کیونکہ علامہ ذہبی نے بعض ثقہ ائمہ کا ذکر صرف دوسروں کے کلام کی وجہ سے کیا ہے۔
  • امام علی بن المدینی اور امام شافعی کی گواہی: امام بخاری کے استاد علی بن المدینی نے امام محمد کو "صدوق” (سچا اور ثقہ) کہا جو کہ توثیق کا اعلیٰ درجہ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا فرمان نقل کیا گیا کہ انہوں نے امام مالک سے 700 سے زائد حدیثیں امام محمد کے واسطے سے سنیں اور ان کی کتابوں کا ایک اونٹ بھر ذخیرہ اپنے ساتھ لے گئے۔
  • محدثین کا ازدحام اور جلیل القدر ائمہ کے اعترافات:
    • جب امام محمد حدیث بیان کرتے تو "تہذیب الاسماء” کے مطابق ان کا گھر سامعین سے ابل پڑتا تھا۔
    • جرح و تعدیل کے امام یحییٰ بن معین نے ان سے "الجامع الصغیر” کی روایت کی۔
    • امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے خود اعتراف کیا کہ ان کے پاس موجود باریک اور دقیق مسائل امام محمد کی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔
    • امام ابو عبید نے انہیں کتاب اللہ کا سب سے بڑا عالم، اور قاضی یحییٰ بن اکثم نے انہیں امام مالک سے بھی بڑا فقیہ قرار دیا۔

حاصل کلام: یہ تمام مستند کتابوں کے حوالے اور جلیل القدر محدثین کے اقوال پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ حدیث، فقہ اور تفسیر کے مسلمہ امام اور ثقہ راوی ہیں، ان پر ضعف کا داغ لگانا سراسر باطل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے