إسماعيل حقي بن مصطفى الإستانبولي الحنفي 1127ھ فرماتے ہیں

 بعض بڑے (عارفین) نے کہا ہے کہ ہر سعید (نیک بخت) کے ساتھ نبی ﷺ کی روحِ اقدس سے ایک لطیف (حصہ) ہوتا ہے، جو اس پر نگران و حاضر (رَقِيبٌ عَتِيدٌ) کی طرح ہے۔ پس اس کا اس نیک بخت سے منہ موڑ لینا، یعنی توجہ نہ دینا، اس کے لیے بے ادبی اور گناہ کا سبب بنتا ہے۔ اور جب وہ رُوحِ محمدی، جو ہمیشہ حضرت آدمؑ کے ساتھ رہتی تھی، قبض کر لی گئی، تو ان پر وہی آثار ظاہر ہوئے جو نسیان (بھول) اور اس کے نتائج ہیں۔

(روح البيان جلد 09 صفحہ 19)

متن کی تفصیلی اور علمی تشریح

تفسیر روح البیان کی اس عبارت میں تصوف کے دو بڑے اصولوں کو بیان کیا گیا ہے: "حقیقتِ محمدیہ” اور "انعکاسِ روحانی”۔

ہر سعید کے ساتھ لطیفۂ محمدی کا ہونا: عارفین فرماتے ہیں کہ کائنات میں جتنے بھی نیک بخت (سعید) انسان ہیں، ان کے ایمان، تقویٰ اور نیکی کا اصل سرچشمہ رسول اللہ ﷺ کی روحِ مبارک کا فیض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مومن کے دل اور روح میں نبی کریم ﷺ کی روحانیت کا ایک "لطیفہ” (ایک نوری عکس یا روحانی حصہ) ودیعت فرما رکھا ہے۔

رقیب و عتید سے تشبیہ: جیسے انسان کے ساتھ دو فرشتے (رقیب اور عتید) ہر وقت حاضر اور نگران رہتے ہیں، اسی طرح یہ لطیفۂ محمدی مومن کے باطن پر نگران رہتا ہے۔ یہ مومن کو نیکی کی طرف راغب کرتا ہے اور گناہوں سے بچاتا ہے۔

منہ موڑنے کا نتیجہ (بے ادبی و گناہ): جب کوئی انسان گناہ کی طرف مائل ہوتا ہے، تو دراصل اس کے باطن میں موجود وہ نوری توجہ مدہم پڑ جاتی ہے یا وہ لطیفہ اس سے ناراض ہو کر (حجابات کی وجہ سے) منہ موڑ لیتا ہے۔ چونکہ نیکی کا سبب وہ نوری توجہ تھی، اس لیے اس توجہ کے ہٹتے ہی انسان گناہ اور غفلت کی وادی میں جا گرتا ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کی مثال: علامہ اسماعیل حقی رحمہ اللہ نے اس کی دلیل حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے سے دی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب تک نورِ محمدی حضرت آدم علیہ السلام کی پشت یا باطن میں پوری جلوہ گری کے ساتھ موجود تھا، وہ لغزش سے محفوظ رہے۔ لیکن جب مصلحتِ خداوندی کے تحت (زمین پر خلافت کے ظہور کے لیے) وہ خاص روحانی کیفیت یا روحِ محمدی کا اثر عارضی طور پر پوشیدہ یا قبض کیا گیا، تو حضرت آدم علیہ السلام سے وہ نسیان (بھول) سرزد ہوئی جس کا ذکر قرآن میں ہے: $وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ$ (اور یقیناً ہم نے آدم کو پہلے ایک حکم دیا تھا، تو وہ بھول گیا)۔

ثابت شدہ نتائج: رسول اللہ ﷺ کی روحِ مبارک کا ہر مومن کے ساتھ حاضر ہونا

اس عارفانہ متن سے جو نتائج قطعی طور پر ثابت ہوتے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

الف۔ نبوت کا روحانی احاطہ اور دوامی حاضری

اس متن سے یہ صریح نتیجہ نکلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی صرف مادی دنیا یا ایک خاص زمانے تک محدود نہیں ہے۔ آپ ﷺ کی روحِ انور کو اللہ تعالیٰ نے وہ وسعت اور طاقت عطا فرمائی ہے کہ وہ بیک وقت کائنات کے ہر حصے، اور خاص طور پر ہر مومن اور نیک بخت انسان کے باطن میں "حاضر و نگران” ہے۔ یہ حاضری "حاضریِ نورانی و روحانی” ہے، جیسے سورج ایک جگہ ہو کر بھی پوری دنیا کے مکانوں میں اپنی دھوپ اور روشنی کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔

ب۔ مومن کے ایمان کی بقا حضور ﷺ کی روحانی توجہ سے ہے

نتائج کے اعتبار سے ہر مومن کا ایمان دراصل حضور ﷺ کی اسی باطنی حاضری اور نگرانِ باطن (رقیب عتید) کا مرہونِ منت ہے۔ اگر آپ ﷺ کی روحِ مبارک کا وہ لطیفہ اور نورانی حصہ مومن کے ساتھ ہر وقت حاضر نہ ہو، تو مومن شیطان اور نفس کے حملوں سے کبھی نہیں بچ سکتا۔ مومن کا ہر لمحہ گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی نوری وجود اس کے باطن میں اس کی دستگیری فرما رہا ہے۔

ج۔ قرآنِ پاک کی آیات سے مطابقت

عارفین کا یہ استدلال قرآنِ مجید کی ان آیات کے عین مطابق ہے جہاں رسول اللہ ﷺ کی مومنین کے ساتھ دائمی قربت اور حاضری کا ذکر ہے۔ مثلاً:

آیتِ کریمہ: $النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ$ (یہ نبی مومنوں کے ساتھ ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب اور اولیٰ ہیں)۔ جان سے زیادہ قریب وہی ہو سکتا ہے جو باطن میں حاضر ہو۔

آیتِ کریمہ: $وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ$ (اور جان لو کہ تم میں رسول اللہ موجود ہیں)۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس میں خطاب ہر دور کے مومنین سے ہے کہ آپ ﷺ کی روحانیت اور نور تمہارے اندر جلوہ گر ہے۔

د۔ معراجِ باطن اور گناہوں کا سبب

اس متن سے یہ اصولی نتیجہ بھی برآمد ہوتا ہے کہ انسان کا گناہ گار ہونا یا اولیاء اللہ کے مقام پر پہنچنا، اس لطیفۂ محمدی کی قربت اور دوری پر منحصر ہے۔ جب مومن کثرت سے درود شریف پڑھتا ہے اور سنت پر چلتا ہے، تو اس کے باطن میں موجود حضور ﷺ کی روح کا وہ لطیفہ (حصہ) مزید روشن ہو جاتا ہے، جس سے اسے کشف و شہود اور معراجِ باطن حاصل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، غفلت اور بدعتی طریقے اس لطیفے کو محجوب (چھپا) دیتے ہیں، جس سے انسان کا باطن اندھیرا ہو جاتا ہے۔

خلاصۂ کلام

تفسیر روح البیان کے اس متن سے یہ عقیدہ بالکل واضح اور مبرہن ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی روحِ اقدس کائنات کے ہر مومن کے ساتھ ہر وقت حاضر، ناظر اور نگران ہے۔ آپ ﷺ کا نوری وجود ہر نیک بخت کے باطن کی حفاظت فرماتا ہے، اور جب تک یہ نوری نگرانِ باطن (رقیب عتید کی طرح) انسان پر اپنی توجہ رکھتا ہے، انسان محفوظ رہتا ہے۔ یہ صوفیانہ تحقیق عشقِ رسول ﷺ اور تعظیمِ مصطفیٰ ﷺ کا ایک اعلیٰ ترین علمی شاہکار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے