ارطغرل غازی، کورولش عثمان اور دیگر ترک ڈراموں کا شرعی حکم: ایک تفصیلی اور جامع علمی جائزہ

ارطغرل غازی، کورولش عثمان اور دیگر ترک ڈراموں کا شرعی حکم: ایک تفصیلی اور جامع علمی جائزہ

PDF WITH SCAN DOWNLOAD Click Here

ارطغرل غازی، کورولش عثمان اور دیگر ترک ڈراموں کا شرعی حکم: ایک تفصیلی اور جامع علمی جائزہ

دورِ حاضر میں میڈیا، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل اسکرینز نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ تفریح کے نام پر فلموں اور ڈراموں کا چلن اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اب یہ ہر گھر کی ضرورت سمجھا جانے لگا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں اسلامی دنیا بالخصوص پاکستان، ہندوستان اور دیگر ممالک میں ترکی کے تاریخی اور ثقافتی ڈراموں، جیسے "دیرلیش ارطغرل” (Diriliş: Ertuğrul)، "کورولش عثمان” (Kuruluş: Osman) اور "پائے تخت عبد الحمید” کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ ان ڈراموں نے مسلم نوجوانوں کے دلوں میں اپنی تاریخ، اسلاف کی بہادری اور اسلامی غیرت کا ایک نیا جذبہ پیدا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا ایک بہت بڑا طبقہ انہیں نہ صرف جائز بلکہ "اسلامی ڈرامے” قرار دے کر ثواب اور دینداری کی نیت سے دیکھتا ہے۔

دوسری طرف، علمائے دین، مفتیانِ عظام اور جلیل القدر فقہی مراکز (جیسے دارالعلوم دیوبند، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن، دارالافتاء دارالعلوم کراچی اور فتاویٰ کی دیگر معتبر کتابیں) ان ڈراموں کے دیکھنے کو شرعاً ناجائز اور ممنوع قرار دیتے ہیں۔ ایک عام مسلمان کے لیے یہ صورتحال اکثر الجھن کا باعث بنتی ہے کہ ایک چیز جو بظاہر اسلام کی سربلندی، نماز کی پابندی، توکل اور جہاد کا درس دے رہی ہے، اسے شریعت میں ناجائز کیوں کہا جا رہا ہے؟

اس تفصیلی مضمون میں ہم شریعتِ اسلامیہ کے رہنما اصولوں، فقہی قواعد اور مسلمہ ضوابط کی روشنی میں اس پورے معاملے کا احاطہ کریں گے تاکہ یہ بات واضح ہو سکے کہ جمہور علمائے امت کا فتویٰ کس قدر مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔

پسِ منظر: ترک ڈراموں کی مقبولیت اور ان کا اثر

ترک ڈراموں کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلمان برسوں سے ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کے اس گندے اور فحش مواد سے عاجز آ چکے تھے جہاں مسلمانوں کو ہمیشہ دہشت گرد، جاہل یا ظالم بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ ایسے میں جب "ارطغرل غازی” جیسے ڈرامے سامنے آئے، جن میں مسلمانوں کو مظلوموں کا داد رس، عادل، شجاع، نمازی اور اعلیٰ اخلاق کا مالک دکھایا گیا، تو امت نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ان ڈراموں میں کلمہ طیبہ کا ورد، اللہ اکبر کے نعرے، مساجد کے مناظر، صوفیائے کرام کی مجالس اور قرآن پاک کی تلاوت کو بہت خوبصورت انداز میں فلمایا گیا۔

عام طور پر عوام کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ ان ڈراموں کو دیکھنے سے ہمارے بچوں کو اپنی تاریخ کا پتہ چلتا ہے، ان میں جہاد کا شوق پیدا ہوتا ہے اور وہ مغربی فحش ڈراموں سے بچ جاتے ہیں۔ لیکن شریعتِ اسلامیہ کا یہ مزاج ہے کہ وہ صرف ظاہری فائدے کو نہیں دیکھتی، بلکہ یہ بھی دیکھتی ہے کہ اس فائدے کو حاصل کرنے کے لیے جو راستہ اختیار کیا گیا ہے، وہ کتنا پاکیزہ ہے۔

وہ اصولی فقہی قاعدہ جس پر اس حکم کی بنیاد ہے

مسلمانوں کے لیے یہ بات سمجھنا سب سے ضروری ہے کہ اسلام میں "الغاية تسوغ الوسيلة” (یعنی مقصد اگر اچھا ہو تو وہ غلط راستے کو جائز کر دیتا ہے) کا کوئی وجود نہیں ہے۔ عیسائیت یا دیگر بعض نظریات میں یہ جائز ہو سکتا ہے کہ "مقصد اچھا ہونا چاہیے، راستہ جیسا بھی ہو”، لیکن اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔

اسلام کا سنہری قاعدہ یہ ہے کہ "نیک مقصد کے لیے ذریعہ بھی نیک اور جائز ہونا ضروری ہے”۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ چوری کر کے یتیموں کی کفالت کرنا چاہتا ہے، یا سود کا پیسہ کما کر مسجد بنوانا چاہتا ہے، تو شریعت اس کے اس اچھے مقصد کی وجہ سے چوری یا سود کو جائز نہیں کہے گی۔ بالکل اسی طرح، اسلامی تاریخ کو جاننا، اسلاف کی محبت دل میں پیدا کرنا اور جہاد کا شوق ابھارنا یقیناً ایک پسندیدہ اور نیک مقصد ہے، لیکن اس مقصد کے لیے فلم، ڈرامہ، اداکاری اور موسیقی کا سہارا لینا، جو خود شریعت میں ممنوع ہیں، اس مقصد کو جائز نہیں بنا سکتا۔

شرعی خرابیاں جن کی بنا پر علمائے کرام منع فرماتے ہیں

جب مفتیانِ عظام کسی فلم یا ڈرامے پر غور کرتے ہیں، تو وہ اس کے اندر موجود تمام اجزاء کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ ارطغرل غازی، کورولش عثمان اور اس جیسے دیگر تمام ترک ڈراموں میں درج ذیل واضح شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں جن کی موجودگی میں انہیں جائز کہنا ممکن نہیں:

۱۔ موسیقی اور میوزک (Music) کا کثرت سے استعمال

ان ڈراموں کا کوئی بھی منظر موسیقی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ لڑائی کا منظر ہو، دکھ کا ہو، خوشی کا ہو یا دعا کا، پسِ منظر (Background) میں تیز یا دھیمی موسیقی لازمی چل رہی ہوتی ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں آلاتِ غنا اور موسیقی کو بالاتفاق حرام اور گناہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ (سورہ لقمان: ۶)

"اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو لغو باتوں (موسیقی، گانے بجانے) کو خریدتے ہیں تاکہ بغیر علم کے لوگوں کو اللہ کے راستے سے بہکائیں۔”

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ کی قسم کھا کر فرمایا تھا کہ "لہو الحدیث” سے مراد گانا بجانا اور موسیقی ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی موسیقی کی سخت ممانعت آئی ہے۔ جب ان ڈراموں میں مسلسل موسیقی موجود ہے، تو ان کا دیکھنا موسیقی سننے کے گناہ سے خالی نہیں ہو سکتا۔

۲۔ نامحرم مردوں اور عورتوں کا اختلاط اور بے پردگی

ان ڈراموں میں کام کرنے والی اداکارائیں اگرچہ بعض اوقات روایتی ترک لباس (جو کہ عام مغربی لباس سے بہتر ہوتا ہے) میں نظر آتی ہیں، لیکن وہ شرعی حجاب اور پردے کے اصولوں پر پورا نہیں اترتا۔ ان کے چہرے، بال، اور گلا اکثر نمایاں ہوتے ہیں۔ مزید برآں، ڈرامے کے اندر نامحرم مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے ساتھ گھلتے ملتے ہیں، خلوت (تنہائی) کے مناظر ہوتے ہیں، اور محبت و الفت کے جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔

شریعت کا حکم یہ ہے کہ مرد کے لیے کسی نامحرم عورت کو دیکھنا اور عورت کے لیے نامحرم مرد کو دیکھنا (سوائے شدید ضرورت کے، جیسے گواہی یا علاج) جائز نہیں ہے۔ قرآن پاک کا حکم ہے:

قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ (سورہ النور: ۳۰)

"آپ مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں۔”

جب ایک مسلمان گھنٹوں ان ڈراموں کو دیکھتا ہے، تو وہ مسلسل اپنی نظروں کے گناہ (زنائے چشم) میں مبتلا رہتا ہے۔ یہ کہنا کہ "ہم تو صرف جنگ دیکھ رہے ہیں، عورتوں کو نہیں دیکھ رہے”، عملی طور پر ایک دھوکہ ہے کیونکہ اسکرین پر سب کچھ یکجا سامنے آتا ہے۔

۳۔ اداکاری (Acting) کی حقیقت اور اس کا جھوٹ ہونا

اداکاری کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ ایک شخص وہ بن کر دکھائے جو وہ حقیقت میں نہیں ہے۔ یعنی ایک سچا اور پکا جھوٹا ماحول تیار کیا جاتا ہے۔ ایک اداکار جو حقیقت میں نہ ارطغرل ہے، نہ غازی ہے، نہ مجاہد ہے، وہ اس کا روپ دھار کر لوگوں کے سامنے آتا ہے۔

اس سے بھی بڑھ کر خطرناک بات یہ ہے کہ ان ڈراموں میں نکاح، طلاق، بیعت اور کفر و اسلام کے معرکوں کی اداکاری کی جاتی ہے۔ شریعت کا قاعدہ ہے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا مذاق یا اداکاری بھی حقیقت کا حکم رکھتی ہے، اور کچھ معاملات میں جھوٹ بولنا سخت گناہ ہے۔ اسلام میں جھوٹ اور فریب کی ہر شکل ممنوع ہے، اور ڈرامہ اپنی ذات میں ایک فرضی اور مصنوعی کہانی پر مبنی ہوتا ہے جسے حقیقت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

۴۔ مقدسات اور بزرگوں کی توہین کا پہلو

ان ڈراموں میں جلیل القدر بزرگوں، صوفیائے کرام (جیسے شیخ ابن العربی رحمہ اللہ) اور مجاہدین کے کردار دکھائے جاتے ہیں۔ ان بزرگوں کا کردار جو شخص ادا کر رہا ہوتا ہے، اس کی اپنی حقیقی زندگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو وہ عام طور پر فلمی دنیا کا حصہ ہوتا ہے، نماز و روزے سے دور ہوتا ہے، اور دیگر کئی گناہوں میں ملوث ہوتا ہے۔

جب ایک ایسا گناہ گار شخص کسی اللہ کے ولی یا بزرگ کا روپ دھار کر اسکرین پر آتا ہے، تلاوت کرتا ہے یا دعا مانگتا ہے، تو اس سے ان مقدسات اور الہیٰ شخصیات کی ایک طرح سے توہین اور بے ادبی ہوتی ہے۔ پبلک کے ذہن میں اس ولی اللہ کا وہ تقدس باقی نہیں رہتا جو ہونا چاہیے، بلکہ ان کا ذہن اس اداکار کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔

۵۔ تاریخی تحریف (Historical Distortion) اور فرضی قصے

یہ ڈرامے کوئی مستند ڈاکومنٹری (Documentary) نہیں ہیں، بلکہ یہ کمرشل ڈرامے ہیں جن کا مقصد پیسہ کمانا اور ویورشپ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ڈرامے کے مصنفین اور ڈائریکٹرز کہانی میں سسپنس، سنسنی اور تڑکا لگانے کے لیے اپنی طرف سے درجنوں فرضی رومانوی کہانیاں، جھوٹے سازشی کردار اور ایسے واقعات گھڑتے ہیں جن کا تاریخ کی کتابوں میں دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔

مسلمانوں کے اسلاف کی تاریخ ایک امانت ہے۔ اس امانت میں اپنی طرف سے جھوٹے قصے شامل کرنا اور اسے تفریح کا ذریعہ بنانا شرعی طور پر سخت ناپسندیدہ ہے۔ ان ڈراموں کو دیکھ کر لوگ فرضی باتوں کو سچی تاریخ سمجھ بیٹھتے ہیں، جو کہ سراسر گمراہی ہے۔

۶۔ وقت کا ضیاع اور فرائض سے غفلت

ارطغرل غازی اور کورولش عثمان جیسے ڈرامے سینکڑوں اقساط پر مشتمل ہیں۔ ایک ایک قسط دو دو گھنٹے کی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان اپنی زندگی کے سینکڑوں، بلکہ ہزاروں قیمتی گھنٹے اس اسکرین کے سامنے بیٹھ کر ضائع کر دیتا ہے۔

قیامت کے دن وقت کے ایک ایک سیکنڈ کا حساب ہونا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ (صحیح بخاری)

"دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ نقصان میں رہتے ہیں: ایک صحت اور دوسری فراغت (وقت)۔”

ان ڈراموں کی لت (Addiction) ایسی ہے کہ انسان ایک قسط کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری دیکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر اوقات جماعت کی نمازیں چھوٹ جاتی ہیں، راتوں کی نیند برباد ہوتی ہے، دین کا ضروری علم سیکھنے کا وقت نہیں ملتا اور انسان اپنے دنیاوی فرائض (اہل و عیال کے حقوق، نوکری، تعلیم) میں بھی کوتاہی کرنے لگتا ہے۔

جمہور علمائے امت اور معتبر دارالافتاء کے فتاویٰ

دنیا بھر کے معتبر اسلامی اداروں نے ان ڈراموں کے حکم پر تفصیلی فتاویٰ جاری کیے ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

  1. دارالعلوم دیوبند (ہند): دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء سے جب ارطغرل ڈرامے کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ فلم اور ڈرامہ سازی کا جو طریقہ کار ہے، اس میں نامحرم عورتوں کی نمائش، موسیقی اور دیگر کئی مفاسد شامل ہیں۔ شریعت میں فلم اور ڈرامہ دیکھنا جائز نہیں ہے، چاہے اس کا موضوع تاریخی یا اسلامی ہی کیوں نہ ہو۔
  2. جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن (کراچی): بنوری ٹاؤن کے فتوے کے مطابق، اسلام کے نام پر ڈرامے بنانا اور ان میں صحابہ یا اسلاف کی شبیہ (کردار) اختیار کرنا، موسیقی کا استعمال کرنا اور بے پردگی کو فروغ دینا شرعاً ممنوع ہے۔ انہوں نے عوام کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ ان ڈراموں کو دیکھنے سے پرہیز کریں۔
  3. مصر کا دارالافتاء (Global Fatwa Index): مصر کے سرکاری فتاویٰ کے مرکز نے بھی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی تھی جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ترکی ان ڈراموں کو اپنے سیاسی مقاصد اور دنیا بھر میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے، اور ان میں موجود تاریخی غلطیوں اور فرضی باتوں کی وجہ سے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

دیگر عام ترک ڈراموں کا شرعی حکم

یہاں تک تو بات تھی ان ڈراموں کی جنہیں "تاریخی یا اسلامی” کہا جاتا ہے۔ اب اتے ہیں ترکی کے عام ڈراموں کی طرف (جیسے رومانی، خاندانی، سسپنس یا کرائم ڈرامے، جو آج کل مختلف چینلز اور نیٹ فلکس وغیرہ پر اردو ڈبنگ کے ساتھ دکھائے جاتے ہیں)۔

ان عام ترک ڈراموں کا حکم تو ارطغرل سے بھی زیادہ سخت ہے۔ ان ڈراموں میں:

  • مغربی تہذیب کی بدترین اندھی تقلید دکھائی جاتی ہے۔
  • فحاشی، عریانی، اور بے پردگی انتہا درجے کی ہوتی ہے جہاں عورتیں انتہائی مختصر لباس میں نظر آتی ہیں۔
  • ناجائز تعلقات، میاں بیوی کی بے وفائی، طلاقوں کے معاملات اور عشق و محبت کی ایسی لغو کہانیاں دکھائی جاتی ہیں جو مسلم معاشرے کی حیا اور خاندانی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہیں۔
  • شراب نوشی، پارٹی کلچر اور غیر اسلامی طرزِ زندگی کو گلیمرائز (Glamorize) کر کے پیش کیا جاتا ہے، جسے دیکھ کر نئی نسل ان گناہوں کو عام اور معمولی سمجھنے لگتی ہے۔

اس لیے، علمائے امت کا اس بات پر مکمل اتفاق اور اجماع ہے کہ دیگر تمام عام ترک ڈرامے دیکھنا بالکل حرام، ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے۔ ان کا دیکھنا روح کو مرجھا دیتا ہے، دل سے ایمان کی حلاوت کو ختم کرتا ہے اور انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیتا ہے۔

اعتراضات اور ان کے جوابات (دفعِ شبہات)

عوام کی طرف سے جو اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں، ان کا علمی اور عقلی جواب درج ذیل ہے:

شبہ ۱: "ہم تو صرف اچھی چیزیں دیکھتے ہیں، برائیوں کو اگنور (Ignore) کر دیتے ہیں، اس سے ہمارا ایمان تازہ ہوتا ہے۔”

جواب: یہ شیطان کا ایک بہت بڑا دھوکہ ہے۔ ایمان کبھی بھی گناہ کے راستے سے تازہ نہیں ہو سکتا۔ جس چیز میں موسیقی، نامحرم عورتیں اور جھوٹ شامل ہو، وہ دل میں نور کیسے پیدا کر سکتی ہے؟ سچا ایمان قرآن کی تلاوت، نماز، ذکرِ الٰہی اور سچے علمائے کرام کی صحبت سے تازہ ہوتا ہے۔ گناہ کو دیکھ کر ایمان کا تازہ ہونا ایک وہم ہے، حقیقت نہیں۔

شبہ ۲: "اگر ہم یہ ڈرامے نہ دیکھیں، تو ہمارے بچے ہالی ووڈ یا بالی ووڈ کی گندی فلمیں دیکھیں گے۔ یہ ان کے مقابلے میں تو بہت بہتر متبادل (Alternative) ہے۔”

جواب: یہ استدلال ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ "اگر میں شراب نہیں پیوں گا تو زہر کھا لوں گا، اس لیے زہر سے بچنے کے لیے شراب پینا جائز ہے”۔ شریعت میں دو برائیوں میں سے ایک کو متبادل نہیں بنایا جاتا، بلکہ دونوں سے بچا جاتا ہے۔ اگر بچوں کو فلموں اور ڈراموں کی لت سے بچانا ہے، تو انہیں دین کی طرف لائیں، ان کی اچھی تربیت کریں، انہیں کھیل کود کے جائز ذرائع فراہم کریں، نہ کہ ایک گناہ سے بچانے کے لیے دوسرے گناہ کے سامنے بٹھا دیں۔

شبہ ۳: "ترکی کے صدر اور کئی بڑے لوگوں نے اس ڈرامے کی تعریف کی ہے اور اسے دیکھنے کا کہا ہے۔”

جواب: مسلمانوں کے لیے حلال اور حرام کا معیار کسی ملک کا صدر، بادشاہ یا کوئی مشہور شخصیت نہیں ہے، بلکہ شریعت کا معیار صرف اور صرف قرآن، حدیث اور فقہِ اسلامی ہے۔ اگر دنیا کا کوئی بڑا لیڈر کسی ایسی چیز کو اچھا کہتا ہے جس میں شرعی ممنوعات موجود ہوں، تو اس لیڈر کی بات کو دیوار پر مار دیا جائے گا اور شریعت کے حکم کو مقدم رکھا جائے گا۔

اسلامی تاریخ جاننے کا صحیح اور جائز متبادل کیا ہے؟

اگر کسی مسلمان کے دل میں واقعی یہ تڑپ ہے کہ وہ خلافتِ عثمانیہ کی تاریخ، ارطغرل غازی کی جدوجہد، سلطان محمد فاتح کی بہادری یا عثمان غازی کی زندگی کے بارے میں جانے، تو اسلام نے اس کا بہت بہترین، سچا اور گناہوں سے پاک راستہ دکھایا ہے، اور وہ ہے "مطالعہ کتب” (کتابیں پڑھنا)۔

ڈرامے دیکھنے کے بجائے درج ذیل کام کیے جا سکتے ہیں:

  1. مستند تاریخ کی کتابیں پڑھیں: خلافتِ عثمانیہ اور اسلامی تاریخ پر اردو اور عربی میں بہترین کتابیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر:
    • تاریخِ خلافتِ عثمانیہ (ڈاکٹر علی محمد صلابی)۔ یہ ایک انتہائی مستند اور علمی کتاب ہے جس میں سچی تاریخ بیان کی گئی ہے۔
    • سلاطینِ عثمانیہ اور تاریخِ اسلام (مولانا اکبر شاہ خان نجیب آبادی)۔
    • سلطنتِ عثمانیہ (عزیز احمد)۔
  2. آڈیو بکس اور مستند بیانات سنیں: اگر پڑھنے کا وقت نہیں ہے، تو معتبر علمائے کرام اور مؤرخین کے آڈیو لیکچرز سنیں جنہوں نے بغیر کسی ڈرامے اور موسیقی کے، صرف سچے تاریخی حقائق کو بیان کیا ہے۔

کتاب پڑھنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کا وقت ضائع نہیں ہوتا، اسے سچی معلومات ملتی ہیں، اس کے علم اور عقل میں اضافہ ہوتا ہے، اور وہ نظر کے زنا، موسیقی اور جھوٹ جیسے گناہوں سے بالکل محفوظ رہتا ہے۔

مفصل خلاصہ اور آخری بات

شریعتِ اسلامیہ کا یہ مزاج انتہائی حساس اور پاکیزہ ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں کو ہر اس راستے سے روکتی ہے جو بظاہر فائدہ مند نظر آئے لیکن اندر سے گناہوں کی دلدل ہو۔

  • ارطغرل غازی اور کورولش عثمان جیسے تاریخی ترک ڈرامے: اگرچہ ان کا مقصد مسلم اسلاف کی بہادری دکھانا ہے، لیکن موسیقی، نامحرم عورتوں کی موجودگی، اداکاری کا جھوٹ، تاریخی تحریف اور وقت کے زیاں جیسے واضح شرعی مفاسد کی وجہ سے جمہور علمائے امت کے نزدیک ان کا دیکھنا ناجائز ہے۔ احتیاط اور تقویٰ کا تقاضا یہی ہے کہ ان سے مکمل پرہیز کیا جائے۔
  • دیگر عام ترک ڈرامے: یہ ڈرامے عریانی، فحاشی، مغربی ثقافت کی ترویج اور خاندانی نظام کی تباہی پر مبنی ہونے کی وجہ سے بالاتفاق شریعت میں سخت حرام اور ممنوع ہیں۔

ایک سچے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو ان اسکرینز کے سامنے برباد کرنے کے بجائے اپنے دین کی اصلاح، سچے علم کے حصول، سنتِ نبوی ﷺ کے احیاء اور اپنی آخرت کی تیاری میں لگائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

rizvibhai69@gmail.com

Recent Posts

فرقہ غیرمقلدین (نام نہاداہل حدیث وہابیہ) کی گمشدہ اور یتیم اسناد کاعلمی تعاقب

 فرقہ غیرمقلدین (نام نہاداہل حدیث وہابیہ) کی گمشدہ اور یتیم اسناد کاعلمی تعاقب فرقہ غیرمقلدین…

11 گھنٹے ago

جادو کہتے کس کو ہیں اور یہ ہوتا کیسے ہے ؟

    جادو ایک معروف نام ہے جو ہر معاشرے میں بخوبی جانا جاتا ہے…

11 گھنٹے ago

مرسل اتباع تابعی روایات اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں ہیں۔ تحقیق۔۔اقبال رضوی بھائی

مرسل اتباع تابعی روایات اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں ہیں۔ تحقیق۔۔اقبال رضوی بھائیکچھ شیعہ…

11 گھنٹے ago

شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ | Shan e Hazrat Abu Bakr Siddeeq سورہ توبہ 40

 شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ❤تفسیر❤{اِلَّا تَنْصُرُوْهُ:اگر تم اس (نبی) کی مدد نہیں کرو گے۔}اس…

11 گھنٹے ago

طب نبوی سے علاج: شہد اور قرآن سے شفاء

طب نبوی سے علاج: شہد اور قرآن سے شفاء اسلام نے انسان کی جسمانی، روحانی…

11 گھنٹے ago

سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ

سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تاریخی اعتراضات کا علمی جائزہ…

3 ہفتے ago