جنابِ سید ابو القاسم خوئی کی منقولہ عبارت کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اگر کسی فی نفسہٖ جائز اور مشروع عمل سے کسی مومن، حتیٰ کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی تکلیف پہنچ جائے، تو محض اس تکلیف کی وجہ سے وہ عمل از خود حرام قرار نہیں پاتا۔ ان کے نزدیک حرمت کا مدار شرعی دلیل پر ہے، نہ کہ صرف کسی کے رنجیدہ یا ناراض ہونے پر، جب تک وہ ناراضی خود کسی شرعی ممنوع فعل کا نتیجہ نہ ہو۔ اسی بنا پر انہوں نے اس روایت کے ضمن میں یہ اصول بیان کیا کہ اگر بالفرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ کیا ہوتا، تو چونکہ نکاح اپنی اصل کے اعتبار سے جائز عمل ہے، اس لیے صرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے رنجیدہ ہونے سے اس عمل کو حرام قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اس سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر کوئی ملامت لازم آتی ہے۔
یہ اصول اپنی نوعیت میں نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ فقہ کے اس معروف قاعدے کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ مباحات اپنی اصل پر باقی رہتے ہیں جب تک ان کی حرمت پر مستقل شرعی دلیل قائم نہ ہو۔ اگر ہر ایسی صورت میں، جہاں کسی صالح یا مؤمن شخص کو کسی جائز عمل سے اذیت یا رنج پہنچے، اس عمل کو حرام قرار دے دیا جائے، تو بہت سے ایسے اعمال بھی ممنوع قرار پائیں گے جنہیں شریعت نے جائز رکھا ہے۔ اسی لیے فقہاء اصلِ اباحت اور نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں احکام متعین کرتے ہیں، نہ کہ صرف جذبات یا وقتی رنج کی بنیاد پر۔
اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے جب مسئلۂ فدک کا جائزہ لیا جائے تو استدلال کی نوعیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فدک کا مطالبہ فرمایا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث «لا نورث، ما تركناه صدقة» کی بنا پر اسے بطورِ وراثت دینے سے انکار کیا۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اس فیصلے سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رنج پہنچا، تو جنابِ خوئی کے مذکورہ اصول کے مطابق صرف اس رنج یا ناراضی کی بنیاد پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو موردِ ملامت قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ان کا فیصلہ ان کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی بیان کردہ شرعی ہدایت پر مبنی تھا، نہ کہ کسی ذاتی عناد، ظلم یا حق تلفی پر۔ جس طرح ایک جائز نکاح کو محض سیدہ کے رنجیدہ ہونے کی وجہ سے ناجائز قرار نہیں دیا جا سکتا، اسی طرح اگر ایک خلیفہ اپنے فہم کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث پر عمل کرے، تو محض اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ناراضی کو اس کے جرم یا گناہ کی قطعی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔
یہاں ایک اہم علمی نکتہ یہ بھی ہے کہ اصولِ فقہ میں کسی بھی واقعے کا حکم اس کی علت پر مبنی ہوتا ہے۔ اگر علت شرعی ہو تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جذبات سے اصل حکم تبدیل نہیں ہوتا۔ اسی لیے فقہاء نے بارہا تصریح کی ہے کہ قاضی، مفتی یا حاکم اگر دلیلِ شرعی کے مطابق فیصلہ کرے اور اس فیصلے سے کسی فریق کو رنج پہنچے، تو محض اس رنج سے فیصلہ باطل یا حرام نہیں ہو جاتا۔ یہی اصول جنابِ خوئی کی عبارت میں بھی کارفرما نظر آتا ہے۔
البتہ یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ اس استدلال کا مقصد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مقام و مرتبہ میں کسی قسم کی کمی بیان کرنا نہیں، بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ شریعت میں احکام کا مدار نصوص اور دلائل پر ہوتا ہے، نہ کہ صرف کسی شخصیت کے رنج یا ناراضی پر، جب متعلقہ عمل اپنی اصل میں مشروع اور جائز ہو۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اہلِ بیت کی سردار خاتون، رسول اللہ ﷺ کے جگر کا ٹکڑا اور امت کی عظیم ترین خواتین میں سے ہیں، اور ان کی محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ تاہم فقہی احکام کے اثبات یا نفی میں شخصیات کے احترام کے ساتھ ساتھ اصولِ استدلال کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
اس بنا پر اگر کوئی شخص جنابِ خوئی کے اسی اصول کو قبول کرتا ہے تو پھر علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس اصول کا اطلاق تمام مشابہ مسائل پر یکساں کرے۔ اگر ایک طرف یہ کہا جائے کہ جائز نکاح کی وجہ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے رنجیدہ ہونے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر کوئی ملامت لازم نہیں آتی، تو دوسری طرف اسی اصول کی روشنی میں یہ کہنا بھی دشوار ہوگا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ صرف اس بنا پر موردِ الزام ہیں کہ ان کے ایک شرعی اجتہادی فیصلے سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رنج پہنچا۔ علمی تحقیق کا تقاضا یہی ہے کہ اصول ایک ہو تو اس کے نتائج بھی یکساں ہوں، ورنہ استدلال میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی اس عبارت کا بنیادی علمی پہلو اور قابلِ غور نکتہ ہے۔
فرقہ غیرمقلدین (نام نہاداہل حدیث وہابیہ) کی گمشدہ اور یتیم اسناد کاعلمی تعاقب فرقہ غیرمقلدین…
جادو ایک معروف نام ہے جو ہر معاشرے میں بخوبی جانا جاتا ہے…
مرسل اتباع تابعی روایات اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں ہیں۔ تحقیق۔۔اقبال رضوی بھائیکچھ شیعہ…
شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ❤تفسیر❤{اِلَّا تَنْصُرُوْهُ:اگر تم اس (نبی) کی مدد نہیں کرو گے۔}اس…
طب نبوی سے علاج: شہد اور قرآن سے شفاء اسلام نے انسان کی جسمانی، روحانی…
سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تاریخی اعتراضات کا علمی جائزہ…