سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بیعتِ امیرِ معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ منکرینِ کے دعوے کا علمی رد

سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بیعتِ امیرِ معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ منکرینِ کے دعوے کا علمی رد

‏اسلامی تاریخ کا یہ ایک مسلمہ اور ناقابلِ تردید واقعہ ہے کہ سنہ 41 ہجری میں سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد، اتحاد اور خون ریزی کے سدِ باب کے لئے نہ صرف صلح فرمائی بلکہ بیعت کرکے مسند خلافت کا اختیار سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا

‏اس تاریخی مصالحت کو تاریخ میں عام الجماعت یعنی اتحاد کا سال کہا جاتا ہے۔ بعض معترضین کم علمی یا عناد کی وجہ سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امام حسن رضی اللہ عنہ نے صرف صلح کی تھی، بیعت نہیں کی تھی

‏یہ دعویٰ نہ صرف مُکمل طور پر باطل ہے، بلکہ خود مکتبہ فکرِ شیعہ کی معتبر ترین احادیث، تاریخ اور مناظرے کی کتب کے صریح الفاظ اور نصوص کے خلاف ہے

‏ ذیل میں چار مایہ ناز شیعہ کتب کے اصل اسکینز اور متون کی روشنی میں اس بیعت کا قاطع اور مدلل ثبوت پیش کیا جا رہا ہے

‏بحار الأنوار میں ملا باقر مجلسی نے واضح طور پر لکھا کہ
‏”جب صلح مکمل ہو گئی تو معاویہ (رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ) نے امام حسن (رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ) سے التماس کی کہ وہ لوگوں کے مجمع میں گفتگو فرمائیں اور انکے علم میں لائیں کہ انہوں نے (امام حسن نے) معاویہ کی بیعت کرلی ہے اور حکومت کو ان کے سپرد کر دیا ہے۔ پس آپ (امام حسن) نے ان کی یہ بات قبول فرمائی اور خطبہ دیا

‏یہ عبارت صاف ظاہر کرتی ہے کہ صلح کا لازمی نتیجہ اور اختتام بیعت پر ہی ہوا تھا۔ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب مجمعِ عام میں بیعت کا اعلانیہ اقرار کرنے کی درخواست کی، تو امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے قبول فرمایا فَأَجَابَهُ إِلَى ذَلِكَ اور منبر پر تشریف لے گئے

‏شیخ الصدوق ابن بابویہ القمی اپنی کِتاب علل الشرائع میں اس کی صراحت کُچھ یوں بیان کی:
‏”انس بن سیرین سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں حسن بن علی علیہما السلام نے اس دن حدیث بیان کی جب ان سے گفتگو کی گئی، تو آپ نے فرمایا: اور بے شک میں نے یہ مناسب سمجھا کہ امتِ محمد ﷺ کے درمیان صلح کروا دوں اور میں اس کا سب سے زیادہ حق دار تھا، پس یقیناً ہم نے معاویہ کی بیعت کرلی ہے

‏یہاں کسی راوی یا مورخ کا کلام نہیں بلکہ خود امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنا ذاتی فرمان منقول ہے جس میں آپ نے خود فعلِ ماضی کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے صراحت فرمائی:
‏ فَإِنَّا بَايَعْنَا مُعَاوِيَةَ پس یقیناً ہم نے معاویہ کی بیعت کر لی ہے

‏طبرسی نے الاحتجاج میں اسکا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ
‏”ابو سعید عقیصا سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب حسن بن علی بن ابی طالب نے معاویہ بن ابی سفیان سے صلح فرمائی، تو لوگ آپ کے پاس آئے، پس ان میں سے کچھ لوگوں نے آپ (امام حسن) کو ان کی بیعت کرنے پر ملامت کی۔ تو آپ نے فرمایا ‏صلح کے فوراً بعد خود امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگ آئے اور انہوں نے لفظ بَيْعَتِهِ کہہ کر امام پر اعتراض کیا

‏ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے بیعت نہیں کی بلکہ اپنی بیعت کا دفاع کرتے ہوئے اسے امت کے حق میں سراسر خیر قرار دیا

‏کشف الغمة في معرفة الأئمة میں علی بن عیسیٰ اربلی نے لکھا کہ
‏پھر وہ (معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ) چلے اور کوفہ میں اترے، پس وہاں چند دن قیام کیا۔ پھر جب ان کی بیعت ہو گئی، تو وہ منبر پر چڑھے اور لوگوں کو خطبہ دیا ‏اسْتَتَبَّتْ بَيْعَتُهُ” (ان کی بیعت پکی اور نافذ ہو گئی) کا استعمال اس بات کا قطعی دستاویزی ثبوت ہے کہ فریقین کے مابین بیعت کا شرعی عمل مکمل ہو چکا تھا

‏چاروں مغلظ اور واضح اسکین صفحات سے یہ حقائق روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتے ہیں کہ ‏لفظ صلح کے ساتھ بايَعْنَا ہم نے بیعت کی اور البيعة کے الفاظ صراحت سے موجود ہیں۔

‏معترض کا یہ دعویٰ کہ بیعت سرے سے ہوئی ہی نہیں یہ تاویلات باطل ہو جاتا ہے کیونکہ وجودِ بیعت کا اعتراف خود شیعہ محدثین کو بھی ہے

Scan pages 👇🏻👇🏻👇🏻

ذیل میں آپ کے فراہم کردہ مواد کو کتابی، تحقیقی اور مسلسل (ایک ہی پیراگراف) انداز میں تقریباً 1000+ الفاظ میں ترتیب دیا گیا ہے۔ میں نے اصل استدلال برقرار رکھا ہے، زبان کو علمی بنایا ہے، اور غیر ضروری تکرار ختم کی ہے۔


سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت: منکرینِ بیعت کے دعوے کا علمی جائزہ

اسلامی تاریخ کا یہ ایک مسلمہ، متواتر شہرت رکھنے والا اور ناقابلِ تردید تاریخی واقعہ ہے کہ 41 ہجری میں سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد، مسلمانوں کے اتحاد، باہمی خونریزی کے خاتمے اور فتنہ و انتشار کے سدِّ باب کے لیے نہ صرف سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ صلح فرمائی بلکہ خلافت و حکومت کا اختیار ان کے سپرد کرتے ہوئے ان کی بیعت بھی کی، جس کے نتیجے میں امت ایک ہی امیر پر مجتمع ہوگئی اور اسی عظیم اتحاد کی وجہ سے اس سال کو تاریخِ اسلام میں عام الجماعۃ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود بعض معترضین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف صلح کی تھی، بیعت نہیں کی تھی، حالانکہ یہ دعویٰ نہ صرف اہلِ سنت کے تاریخی مصادر کے خلاف ہے بلکہ خود مکتبِ تشیع کی معتبر حدیثی اور تاریخی کتب بھی اس کی تردید کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شیعہ محدثین اور مورخین نے متعدد مقامات پر ایسے واضح الفاظ نقل کیے ہیں جن میں بیعت کا صریح ذکر موجود ہے اور جن کی موجودگی میں بیعت کے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ شیعہ محدث علامہ محمد باقر مجلسی نے بحار الأنوار میں اس تاریخی واقعہ کو نقل کرتے ہوئے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ جب صلح مکمل ہوگئی تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درخواست کی کہ وہ لوگوں کے مجمع میں تشریف لے جا کر یہ اعلان فرمائیں کہ انہوں نے معاویہ کی بیعت کر لی ہے اور حکومت ان کے سپرد کر دی ہے، چنانچہ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس درخواست کو قبول فرمایا اور مجمع عام میں خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس روایت میں صرف صلح کا ذکر نہیں بلکہ صریح الفاظ میں البيعة کا ذکر موجود ہے، اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی درخواست قبول کرتے ہوئے خود عوام کے سامنے اس حقیقت کا اعلان فرمایا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ صلح کا اختتام بیعت پر ہوا تھا۔ اگر بیعت سرے سے ہوئی ہی نہ ہوتی تو اس اعلان کی کوئی حیثیت باقی نہ رہتی۔ اسی طرح شیخ الصدوق ابو جعفر محمد بن علی بن بابویہ القمی نے اپنی مشہور کتاب علل الشرائع میں ایک نہایت اہم روایت نقل کی ہے جس میں راوی بیان کرتا ہے کہ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "إِنَّا بَايَعْنَا مُعَاوِيَةَ” یعنی "ہم نے معاویہ کی بیعت کر لی ہے۔” اس روایت کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہاں کسی مورخ یا شارح کا تجزیہ نہیں بلکہ خود سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنا ارشاد منقول ہے، اور آپ نے فعلِ ماضی بَايَعْنَا استعمال فرمایا ہے، جس کا معنی صاف اور واضح ہے کہ بیعت بالفعل انجام پا چکی تھی۔ جب خود امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے عمل کو "بیعت” قرار دے رہے ہوں تو بعد کے کسی شخص کے لیے اس کا انکار کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ اسی طرح شیخ طبرسی نے اپنی معروف کتاب الاحتجاج میں ابو سعید عقیصا کی روایت نقل کی ہے کہ جب امام حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے معاویہ بن ابی سفیان سے صلح فرمائی تو بعض لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بیعت کرنے پر ملامت کرنے لگے۔ روایت میں صاف الفاظ بَيْعَتِهِ وارد ہوئے ہیں، یعنی لوگوں نے امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی بیعت پر اعتراض کیا۔ اگر حقیقت میں بیعت ہوئی ہی نہ ہوتی تو اعتراض کرنے والوں کے لیے لفظ "بیعت” استعمال کرنے کا کوئی محل نہ تھا، اور اگر ان کا اعتراض غلط ہوتا تو امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً اس کی تردید فرماتے، لیکن اس کے برعکس آپ نے بیعت کا انکار نہیں کیا بلکہ اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے امتِ محمد ﷺ کے خون کو محفوظ رکھنے اور مسلمانوں کو اختلاف و تفرقہ سے بچانے کے لیے یہ اقدام کیا ہے، جس سے ثابت ہوا کہ آپ نے اپنے اس عمل کو درست، شرعی اور امت کے حق میں بہتر سمجھا۔ مزید برآں شیعہ عالم علی بن عیسیٰ اربلی نے کشف الغمة في معرفة الأئمة میں واقعۂ صلح کے بعد کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ تشریف لائے، چند روز وہاں قیام فرمایا، پھر "اسْتَتَبَّتْ بَيْعَتُهُ” یعنی ان کی بیعت مستحکم اور نافذ ہوگئی، اس کے بعد وہ منبر پر تشریف لے گئے اور لوگوں سے خطاب فرمایا۔ عربی زبان میں استتبت بيعته کا استعمال اسی وقت کیا جاتا ہے جب بیعت مکمل ہو کر عوام میں مستحکم ہو جائے۔ اگر بیعت کا کوئی وجود ہی نہ ہوتا تو اس تعبیر کا استعمال بے معنی ہوتا۔ ان تمام نصوص سے روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ شیعہ محدثین اور مورخین نے صرف صلح ہی کا ذکر نہیں کیا بلکہ بايعنا، البيعة، بيعته اور استتبت بيعته جیسے صریح الفاظ استعمال کیے ہیں، جو اس امر کا ناقابلِ انکار ثبوت ہیں کہ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کی تھی اور امت کے اجتماعی مفاد کے لیے خلافت کا اختیار ان کے سپرد فرمایا تھا۔ لہٰذا یہ دعویٰ کہ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف صلح کی تھی، بیعت نہیں کی تھی، نہ تاریخی اعتبار سے درست ہے، نہ حدیثی مصادر اس کی تائید کرتے ہیں، اور نہ ہی خود مکتبِ تشیع کی معتبر کتب اس کی گواہی دیتی ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جن کتابوں کو منکرین اپنے مذہبی مصادر کے طور پر تسلیم کرتے ہیں، انہی میں بیعت کا اعتراف موجود ہے، اس لیے بیعت کے انکار کی تمام تاویلات خود ان کے اپنے مستند مآخذ کے سامنے باطل ثابت ہو جاتی ہیں، اور یہ حقیقت بلا شبہ ثابت ہوتی ہے کہ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، امن اور خونریزی کے خاتمے کے لیے نہ صرف صلح فرمائی بلکہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت بھی کی، اور یہی وہ عظیم فیصلہ تھا جس کی برکت سے امت دوبارہ ایک پرچم تلے جمع ہوئی اور اس سال کو تاریخ نے بجا طور پر عام الجماعۃ کا نام دیا۔

rizvibhai69@gmail.com

Recent Posts

فرقہ غیرمقلدین (نام نہاداہل حدیث وہابیہ) کی گمشدہ اور یتیم اسناد کاعلمی تعاقب

 فرقہ غیرمقلدین (نام نہاداہل حدیث وہابیہ) کی گمشدہ اور یتیم اسناد کاعلمی تعاقب فرقہ غیرمقلدین…

10 گھنٹے ago

جادو کہتے کس کو ہیں اور یہ ہوتا کیسے ہے ؟

    جادو ایک معروف نام ہے جو ہر معاشرے میں بخوبی جانا جاتا ہے…

10 گھنٹے ago

مرسل اتباع تابعی روایات اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں ہیں۔ تحقیق۔۔اقبال رضوی بھائی

مرسل اتباع تابعی روایات اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں ہیں۔ تحقیق۔۔اقبال رضوی بھائیکچھ شیعہ…

10 گھنٹے ago

شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ | Shan e Hazrat Abu Bakr Siddeeq سورہ توبہ 40

 شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ❤تفسیر❤{اِلَّا تَنْصُرُوْهُ:اگر تم اس (نبی) کی مدد نہیں کرو گے۔}اس…

11 گھنٹے ago

طب نبوی سے علاج: شہد اور قرآن سے شفاء

طب نبوی سے علاج: شہد اور قرآن سے شفاء اسلام نے انسان کی جسمانی، روحانی…

11 گھنٹے ago

سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ

سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تاریخی اعتراضات کا علمی جائزہ…

3 ہفتے ago