سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص پر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا دوٹوک مؤقفسیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص پر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا دوٹوک مؤقف

امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ آپ ان لوگوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو یہ کہے کہ سیدنا معاویہ رضی الله عنہ کاتب وحی ہیں نہ ہی خال المومنین ، بلکہ تلوار کے زور پر اُنہوں نے خلافت غصب کی؟ امام صاحب نے فرمایا :ان کا یہ قول بہت بُرا اور پھینک دینے کے قابل ہے ، ایسوں سے لوگوں کو بچنا چاہیے ان کے پاس بیٹھنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔بلکہ لوگوں کے سامنے اِن کا یہ معاملہ بیان کرنا چاہیئے۔

(السنة لابی بکر الخلال جلد 1، ص 340 )

اللہ اکبر! امام احمد بن حنبل جیسے جلیل القدر بزرگ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرنے والوں کے اقوال کو کس طرح بُرا کہا ، اور نصیحت بھی فرمائی کہ ایسے اقوال جو کسی صحابی کی شان میں و تنقیص کا باعث بنیں انہیں پھینک دو ، اور ایسے لوگوں کی صحبت بھی ترک کردو ، بلکہ ایسوں کے باطل عقائد و نظریات دوسرے لوگوں کو بتاؤ ، تاکہ وہ ان سے اپنا ایمان بچا سکیں

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص کا شرعی حکم

اہلِ سنت والجماعت کا یہ متفقہ اصول ہے کہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، بالخصوص کبار صحابہ، کا ادب و احترام ایمان کا تقاضا اور ان کی تنقیص، سب و شتم یا ان کی فضیلت کا انکار ایک نہایت سنگین جرم ہے۔ اسی وجہ سے ائمۂ اہلِ سنت نے ہر دور میں ان لوگوں کی سخت مذمت فرمائی جنہوں نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت، فضیلت یا مناقب پر حملہ کیا۔ ان ائمہ میں امام اہلِ سنت، محدثِ کبیر، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مقام نہایت بلند ہے۔ آپ کا شمار ان اکابر ائمہ میں ہوتا ہے جنہوں نے عقیدۂ اہلِ سنت کو فتنوں کے دور میں مضبوطی سے قائم رکھا اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے احترام کے بارے میں واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ سے ایسے لوگوں کے بارے میں دریافت کیا گیا جو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ کہتے تھے کہ وہ نہ کاتبِ وحی تھے، نہ خال المؤمنین تھے، بلکہ انہوں نے تلوار کے زور پر خلافت حاصل کی، تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس قول کو محض ایک تاریخی رائے قرار نہیں دیا بلکہ اسے انتہائی قبیح، مردود اور قابلِ نفرت قرار دیا۔ چنانچہ امام ابو بکر خلال نے کتاب السنۃ میں نقل کیا ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: "ما تقول فيمن قال: إن معاوية ليس بكاتب وحي، ولا خال المؤمنين، وإنما أخذ الخلافة بالسيف غصباً؟” تو امام احمد رحمہ اللہ نے جواب دیا: "هذا قول سوء رديء، يجانبون هؤلاء القوم، ولا يجالسون، ويبين أمرهم للناس.” (السنۃ للخلال، ج 1، ص 340) یعنی "یہ نہایت برا اور ردی قول ہے، ایسے لوگوں سے دور رہا جائے، ان کی مجلس میں نہ بیٹھا جائے، بلکہ لوگوں کے سامنے ان کا معاملہ بیان کیا جائے۔” امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا یہ فتویٰ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، خصوصاً سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، کی تنقیص یا ان کی ثابت شدہ فضائل کا انکار اہلِ سنت کے نزدیک کوئی معمولی اختلافی مسئلہ نہیں، بلکہ ایسا باطل نظریہ ہے جس سے مسلمانوں کو خبردار کرنا ضروری ہے۔ غور کیجیے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے ان لوگوں کے جواب میں تاریخی مناظرے یا سیاسی بحث کا انداز اختیار نہیں فرمایا، بلکہ سب سے پہلے ان کے قول کو "قول سوء” اور "رديء” قرار دیا، یعنی ایسا برا اور گھٹیا قول جو اہلِ ایمان کی زبان پر نہیں آنا چاہیے۔ پھر آپ نے صرف اس قول کی تردید پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی ہدایت بھی دی کہ ایسے لوگوں کی صحبت اختیار نہ کی جائے، ان کے ساتھ نشست و برخاست سے اجتناب کیا جائے، کیونکہ انسان اپنے ساتھی کے دین پر ہوتا ہے اور باطل شبہات آہستہ آہستہ دلوں میں سرایت کر جاتے ہیں۔ مزید برآں امام احمد رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ان لوگوں کا معاملہ عوام کے سامنے واضح کیا جائے تاکہ مسلمان ان کے افکار سے دھوکا نہ کھائیں۔ یہ دراصل اہلِ سنت کے اس اصول کی تطبیق ہے کہ جب کوئی شخص صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں گمراہ کن نظریات پھیلائے تو اس کی حقیقت کو لوگوں پر واضح کرنا دین کی خیر خواہی اور مسلمانوں کی حفاظت کا تقاضا ہے۔ یہاں ایک اور اہم نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دو ایسے اوصاف کا ذکر کیا جن پر اہلِ سنت کا اتفاق ہے، یعنی کاتبِ وحی ہونا اور خال المؤمنین ہونا۔ کاتبِ وحی ہونے کی فضیلت اس اعتبار سے نہایت عظیم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی وحی لکھنے کی خدمت پر مامور فرمایا، اور یہ منصب صرف انہی صحابہ کو ملا جن پر آپ ﷺ کو کامل اعتماد تھا۔ اسی طرح ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حقیقی بہن تھیں، اس نسبت سے وہ اہلِ سنت کے نزدیک خال المؤمنین کہلاتے ہیں۔ لہٰذا ان فضائل کا انکار دراصل ان تاریخی حقائق کا انکار ہے جو امت میں معروف اور ثابت ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا یہ موقف اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ اہلِ سنت کے نزدیک صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلافات کو بنیاد بنا کر کسی صحابی کی عدالت، دیانت یا فضیلت پر حملہ کرنا جائز نہیں۔ اگر کسی شخص کا مقصد محض علمی تحقیق نہیں بلکہ صحابۂ کرام کی تنقیص، ان کے مناقب کا انکار یا ان کے خلاف عوام میں نفرت پیدا کرنا ہو تو ایسے شخص کے نظریات کو رد کرنا اور مسلمانوں کو اس کے شر سے آگاہ کرنا اہلِ سنت کا منہج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے ائمہ، مثلاً قاضی عیاض، امام نووی، حافظ ابن حجر، امام ذہبی، قاضی ابو یعلی اور دیگر اکابر علماء نے بھی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تنقیص کو سخت گمراہی قرار دیا اور ان کے ادب و احترام کو عقیدۂ اہلِ سنت کا لازمی حصہ بیان کیا۔ لہٰذا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا یہ ارشاد صرف ایک شخص یا ایک دور کے لیے نہیں بلکہ ہر اس زمانے کے لیے ایک اصولی ہدایت ہے جس میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، خصوصاً سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، کی شخصیت کو مشکوک بنانے، ان کے فضائل کا انکار کرنے یا ان کی شان میں گستاخی کرنے کی کوشش کی جائے۔ ایسے باطل نظریات کو علمی دلائل سے رد کرنا، عوام کو ان کے خطرات سے آگاہ کرنا اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے احترام و محبت کو فروغ دینا درحقیقت اہلِ سنت والجماعت کے اسی منہج کی پیروی ہے جسے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ جیسے جلیل القدر امام نے اپنے قول و عمل سے واضح فرمایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے