رسول اللہ ﷺ کے حق میں "نورٌ من نورِ اللہ" کا صحیح مفہوم اور شبۂ شرک کا علمی ردرسول اللہ ﷺ کے حق میں "نورٌ من نورِ اللہ" کا صحیح مفہوم اور شبۂ شرک کا علمی رد

إن قول «نورٌ من نورِ الله» في حقِّ النبيِّ صلى الله عليه وآله وسلم لا يعني أبدًا أنه جزءٌ من ذات الله تعالى أو شريكٌ له في ألوهيته، تعالى الله عن ذلك علوًّا كبيرًا، وإنما المراد أن الله سبحانه وتعالى خلقه وشرَّفه وأكرمه بنورٍ عظيم، كما أضاف إلى نفسه أشياء كثيرة إضافةَ تشريفٍ وتكريمٍ لا إضافةَ جزءٍ أو اتحاد، وقد جاء عن الإمام الحسن البصري رحمه الله أنه سُئل: لِمَ كانت وجوه أهل قيام الليل مشرقةً؟ فقال: «لأنهم خلوا بالرحمن فألبسهم نورًا من نوره»، أي أن الله تعالى يفيض عليهم من فضله ورحمته وهدايته ونوره الذي يخلقه لعباده حتى يظهر أثر ذلك على وجوههم، ولم يفهم أحدٌ من علماء المسلمين أن الإمام الحسن البصري أراد أن هؤلاء العباد صاروا جزءًا من نور ذات الله سبحانه، فإذا كان هذا الوصف قد استُعمل في حق عبادٍ صالحين من هذه الأمة ولم يُعَدَّ شركًا، فمن باب أولى أن يُقال في حق سيد الخلق محمد صلى الله عليه وآله وسلم: «نورٌ من نورِ الله»، أي أنه نورٌ خلقه الله وشرَّفه به وجعله سببًا لهداية الخلق وإخراجهم من الظلمات إلى النور، لا أنه شريكٌ لله في ذاته أو صفاته، وقد وصفه الله تعالى بقوله: ﴿وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا﴾، وقال سبحانه: ﴿قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ﴾، وقد فسَّر جماعةٌ من أهل التفسير هذا النور بالنبي صلى الله عليه وآله وسلم، فدلَّ ذلك على أن إطلاق هذا اللفظ إذا أُريد به النور الذي خلقه الله وأكرم به نبيه فهو معنى صحيح موافق للكتاب والسنة ولغة العرب، ولا يتضمن أيَّ معنى من معاني الشرك، وإنما الشرك هو اعتقاد أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم جزءٌ من ذات الله أو شريكٌ له في شيءٍ من خصائص ربوبيته أو ألوهيته، وهذا لا يقول به أحدٌ من أهل السنة والجماعة، ولذلك يجب حمل كلام العلماء على معناه الصحيح، وعدم اتهام المسلمين بالشرك بسبب ألفاظٍ صحيحةٍ إذا فُهمت على الوجه الذي أراده أهل العلم.

 نور من نور اللہ  ذات مصطفی

اراکین و۔ممبران۔۔۔۔متوجہ ہوں۔۔۔۔خصوصا وہابی اور انکے پیٹی
بھائی۔۔۔۔دیوبندی بھی

ہمیشہ بحث کی جاتی ہے کہ "نور من نور اللہ” کہنے سے معاذ اللہ شرک ہوجاتا ہے۔۔۔۔😏

اس سلسلے میں ایک بہت اچھی دلیل ملی ۔۔۔اس جمعہ۔کو مسجد میں جمعہ کا خطبہ سنتے ہوئے امام۔مسجد سے ایک حوالہ سنا۔۔۔بعد از نماز۔میں نے جاکے امام مسجد سے ملاقات کی اور ان سے اس روایت کی بابت استفسار کیا۔۔۔۔

یاد رکھیے۔۔۔میں پاکستان میں نہیں بلکہ عرب ملک میں مقیم ہوں۔۔۔ اس لیے امام صاحب کو "بریلوی” کہہ کے جان چھڑانی ناممکن ہے۔۔۔خیر امام صاحب نے دوران خطبہ فرمایا۔۔۔

حضرت امام حسن البصری سے پوچھا گیا کہ تہجد گزاروں کے چہرے اس قدر  خوبصورت  ( روشن ) کیوں ہوتے ہیں؟امام حسن البصری نے ارشاد فرمایا "لانھم  خلوا بالرحمان فالبسہم ” نورا من نورہ””

 کہ تہجد گزار "الرحمان” کے ساتھ خلوت گزین ہوتے ہیں۔۔۔اس لیے وہ انہیں اپنے "انوار” میں سے "نور” پہنا (عطا کر) دیتا ہے۔۔۔۔بحوالہ
اختیار الاولی فی شرح حدیث اختصام الملا الاعلی صفحہ 90

کتاب کا سکرین شاٹ بھی موجود ہے۔۔۔😇
کتاب چھپی کویت میں اور تحقیق بھی "الدوسری” صاحب کی ہے۔۔

یہ امتی تہجد گزاروں کا حال ہے۔۔۔کہ اللہ انکو اپنے انوار میں سے نور عطا۔کرتا ہے۔۔۔۔جو انکے چہروں پہ واضح نظر آتا ہے۔۔۔

جنکے طفیل و وسیلہ سے تہجد عطا ہوئی وہ ذات اقدس و مقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو "نور من نور اللہ” ہی ہوں گے۔۔۔۔

اب وہابی اور دیوبندی۔۔۔دونوں مل کے امام حسن البصری کو "بریلوی” ثابت کریں۔۔۔یا پھر اپنی فضولیات سے پرہیز کرتے ہوئے۔۔۔” نور من نور اللہ” پہ واہیات کلام کرنا چھوڑ دیں۔۔۔۔

اسلاف کے عقائد واضح ہیں۔۔۔اور خود کو نام نہاد "سلفی” "موحد” "صرف مسلمان” وغیرہ وغیرہ کہنے والے۔۔۔۔اپنی عقلوں کو ہاتھ ماریں۔۔۔یا پھر اپنی فضولیات پہ ماتم۔کرنے کو تیار رہیں۔۔۔کیونکہ قبر میں اترتے ہی حساب شروع۔۔۔وہاں پہ مردے نہیں سنتے کی گردان بھی کام۔نہیں آنی

نورِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں "نورٌ من نورِ اللہ” کا جملہ اہلِ علم کے ہاں ایک معروف تعبیر ہے، جس کا مقصود ہرگز یہ نہیں کہ نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذاتِ باری تعالیٰ کا جز یا حصہ ہیں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نور، ہدایت، شرف اور تجلیات کے مظہر ہیں۔ عربی زبان میں "من” ہمیشہ جزئیت کے لیے نہیں آتا بلکہ کئی مواقع پر تشریف، تبعیضِ مجازی، ابتداء الغایہ، بیانِ سبب یا نسبت و انتساب کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی بنا پر اگر کسی صحیح اور معتبر روایت یا کسی امام کے قول میں یہ تعبیر وارد ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو "نوراً من نورہ” عطا فرماتا ہے تو اس سے ہرگز یہ لازم نہیں آتا کہ وہ بندہ الوہیت میں شریک ہوگیا یا اللہ تعالیٰ کے نورِ ذاتی کا کوئی حصہ اس میں منتقل ہوگیا، بلکہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی عطا، فضل، رحمت اور ہدایت کا نور ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کی ایک نہایت لطیف مثال حضرت امام حسن بصری رحمہ اللہ کے اس مشہور قول سے ملتی ہے کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ تہجد گزاروں کے چہروں پر اس قدر رونق اور نور کیوں ہوتا ہے تو انہوں نے فرمایا: "لأنهم خلوا بالرحمن فألبسهم نورًا من نوره” یعنی وہ رات کی تنہائیوں میں رحمن کے حضور کھڑے ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ انہیں اپنے نور میں سے ایک نور عطا فرما دیتا ہے۔ اس عبارت کا مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو ایسا روحانی نور، سکینت، وقار اور جلال عطا فرماتا ہے جو ان کے چہروں اور کردار میں نمایاں ہوجاتا ہے۔ اگر اس جملے کو ظاہری الفاظ پر محمول کرکے شرک قرار دیا جائے تو پھر معاذ اللہ امام حسن بصری رحمہ اللہ کے بارے میں بھی یہی اعتراض لازم آئے گا، حالانکہ پوری امت جانتی ہے کہ وہ تابعین کے عظیم امام، زہد و تقویٰ کے پیکر اور سلف صالحین کے اکابر میں سے ہیں، اور کسی مسلمان نے ان کے اس قول سے شرک کا مفہوم نہیں لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہلِ علم ہمیشہ ایسے الفاظ کو ان کے صحیح شرعی اور لغوی مفہوم میں سمجھتے ہیں، نہ کہ ان پر باطل لوازم قائم کرکے اہلِ ایمان پر شرک کے فتوے لگاتے ہیں۔ جب ایک عام امتی، جو راتوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے "نوراً من نورہ” کا مستحق ہوسکتا ہے، تو وہ ہستی جسے اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، جس کے ذریعے انسانیت کو ایمان، قرآن، ہدایت اور معرفتِ الٰہی نصیب ہوئی، جسے قرآن نے "سراجًا منيرًا” فرمایا، جس کے بارے میں ارشاد ہوا: ﴿قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ﴾ اور جس کی ذات کو محدثین، مفسرین اور فقہاء نے ہدایت و نور کا سرچشمہ قرار دیا، اس مبارک ذات کے لیے "نورٌ من نورِ اللہ” کہنا کس طرح شرک ہوسکتا ہے جبکہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی عطا، تخلیق اور تشریف ہی ہے، نہ کہ الوہیت یا ذات میں شرکت؟ حقیقت یہ ہے کہ اہلِ سنت کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں، مخلوق ہیں، خالق نہیں، محتاج ہیں، غنی بالذات نہیں، لیکن تمام مخلوق میں سب سے افضل، اشرف اور اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ آپ کا نور بھی اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے، آپ کی عظمت بھی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، آپ کا مقام بھی اللہ تعالیٰ کی بخشش ہے اور آپ کی ہر فضیلت اسی کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ لہٰذا "نورٌ من نورِ اللہ” کہنے والا ہرگز یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کا جز ہیں، بلکہ اس کا عقیدہ یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت و قدرت سے اپنے محبوب کو ایسا نور، ایسی ہدایت، ایسی برکت اور ایسی رفعت عطا فرمائی جس کی مثال پوری کائنات میں نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین کی عبارات میں نور، تجلی، اشراق، انوارِ الٰہیہ اور نورِ ایمان جیسے الفاظ کثرت سے ملتے ہیں، مگر کسی نے ان کا مفہوم شرک نہیں لیا بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی عطا اور اس کے فضل پر محمول کیا۔ اس لیے علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی اصطلاح یا تعبیر پر اعتراض کرنے سے پہلے اس کے قائل کا عقیدہ، اس کا سیاق، عربی زبان کے اصول اور اہلِ علم کی تشریحات کو دیکھا جائے، نہ کہ محض اپنے ذہن سے ایک باطل معنی فرض کرکے اس پر شرک کا حکم لگا دیا جائے۔ اگر "نوراً من نورہ” کا استعمال ایک تابعی امام کے لیے قابلِ قبول ہے اور اس پر کسی نے نکیر نہیں کی، تو پھر اسی اصول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں "نورٌ من نورِ اللہ” کہنا بھی اسی صحیح مفہوم پر محمول ہوگا، بشرطیکہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نورانیت، شرف، ہدایت اور قربِ الٰہی ہو، نہ کہ ذات یا صفاتِ الٰہیہ میں شرکت۔ یہی منہج قرآن، سنت، سلف صالحین اور اہلِ سنت کے ائمہ کا ہے کہ وہ الفاظ کو ان کے صحیح شرعی مفہوم کے ساتھ سمجھتے ہیں، افراط و تفریط سے بچتے ہیں، اور کسی مسلمان کے صحیح عقیدے کو محض ایک تعبیر کی بنیاد پر شرک قرار دینے سے اجتناب کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے