یزید کے فاسق ہونے پر دلائل (قسط اول)یزید کے فاسق ہونے پر دلائل (قسط اول)

یزید بن معاویہ کا فسق و فجور: محدثین اور مورخین کی گواہی (قسط اول)

یزید بن معاویہ کے فاسق ہونے پر شرعی دلائل کی علمی تحقیق: قسط اول

دیکھیں بہت سی احادیث کو جمع کر کے ایک ہی مسلہ پر استدلال کرنا کوئی صرف میرا ذاتی طریقہ نہیں علماء کا شروع سے ہی یہ طریقہ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔آیئے چند ایک احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔حضرت سفینہ کی احآدیث میں ہے کہ خلافت تیس سال ہوگی ۔۔یہ رویت حسن درجہ کی ہے مگر میرے تحقیق کے مطابق اس کےشواھد تو مطابقات اتنے زیادہ ہیں کہ اس کو صحیح و مقبول کہنا سے کوئی انکار نہ کر سکتا ۔۔۔۔اس کئی طریق موجو ہیں جو میں نے جمع کیے ہیں آج صرف اشارۃ بات کرنا مقصود ہے۔۔۔ حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ . ح وعَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنِي حَمَّادٌ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ عَامًا , ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ الْمُلْكُ” , قَالَ سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَنَتَيْنِ , وَخِلَافَةَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَشْرَ سِنِينَ , وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اثْنَيْ عَشْرَ سَنَةً , وَخِلَافَةَ عَلِيٍّ سِتَّ سِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ. خلافت کے بعد ملوکیت ہوگی۔۔۔۔مسند بزار رقم3829 اور شرح اعتقاداھل سنہ والجماعتہ2625 میں ہے کہ نبوت رحمت ہوگی ۔۔خلافت ہوگی وہ رحمت ہے ۔۔اس کے بعد ملوکیت ہوگی۔۔

۔المعجم الکبیر 11137 میں ہے نبوت رحمت اس کے بعد خلافت رحمت اور اس کے بعد ملوکیت رحمت اس کے بعد امارت ہوگی رحمت اس کے بعد فساد ہوگا۔۔۔۔۔سنن ابی داود میں 4646 اور 4647 اور جامع ترمزی 2225میں ہے خلافت کے بعد ملوکیت ہوگی بعض دیگر روایات میں فتنہ کازکر ہے۔۔۔ اس رویت کا طریق مسند ابی یعلی 870 مسند ابی عبیدہ ابن جراح کی مسند میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرامایا یہ کام نبوت رحمت سے شروع ہوا۔پھر خلافت رحمت ہوگی پھر ملوکیت رحمت ہوگی اس کے فورا بعد ظلم جبر ہوگا ریشم شراب زنا کوحلال سمجھا جائے گا۔۔،،،نقطہ قابل غور ہے کہ امیر معاویہ پہلے اسلامی ملوک بادشاہ ہیں اور وہ ملوکیت رحمت ہے ۔۔اس کے بعد ظلم اور جبر ہے۔۔۔یہ تمام احادیث حکومت کے عنوان پہ ہیں۔۔۔۔جتنی بھی احادیث میں نے پیش کی ان میں سے ہر ایک میں خلافت حکمرانی کا ذکرہے۔پہلے خلافت پھر ملوکیت پھر ظلم فساد۔۔۔یہ حکمرانوں میں ابوبکر و عمر و عثمان و علی ؒ سب خلفاء ہوئے اور امیر معاویہ ؒ اسلام کے پہلے ملوک ہوئے اس کے جو بھی حکمران ہوا وہ حدیث کہہ رہی ہیں فساد ظلم ریشم و شراب و زنا حلال کرنے واالا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔مزید وضاحت کے لیے دیگر احادیث کو دیکھتے ہیں ۔۔۔۔ایک بات قطعی الثبوت و دلالہ ہے کہ ملوکیت رحمت ہے اس کے بعد فساد ہوگا ۔۔۔ملوکیت کے بعد فساد کی اخبار کا منکر احادیث کا منکر ہوگا۔

۔۔مرقاۃ المفاتح میں مشکوۃ المصابیح کی حدیث 5394 میں ابوداود اور ترمزی کے حوالے سے ہے کہ ثوبان ؒ روایت کرتے ہیں۔آقاﷺ نے فرمایا مجھے خوف ہے کہ میری امت میں گمراہ امام بن جایئں گے۔۔اب یہ واضع ہو گیا کہ ملوکیت رحمت کے بعد سردار و بادشاہ ظالم جابر امام مضلین ہوں گے ۔۔۔۔۔اب وہ گمراہ امام حاکم کب ہوں گے زمانہ کیا ہوگا یہ بھی دئکھتے ہیں۔۔مسند امام احمد بن حنبل میں حدیث نمبر11340 شعیب ارنووط نے کہا اسناد حسن ۔۔سعد بن مالک بن سنان بن ثعلبہ الخزرجی الخدری الأنصاری المعروف ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔۔آقا دوجہاں ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے ساٹھ سال کے بعد نماز ترک کی جائے گی گمراہی عام ہو جائے گی وہ لوگ شہوات کی اتباع کریں گے۔۔یہ حدیث مسند ابی یعلی کی حدیث 870 کی جیسی ہے جسکو ابوعبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ نے روایت کیا جسکا ذکر پہلے ہو چکا ہے ۔۔اب ساٹھ ھجری میں ایسا کون سا شخص حاکم بنا جو ظآلم جابر فاسق تھا اس سوال کا جواب خود تلاش کریں اور اپنے دل سے پوچھیں جو بھی ان احادیث صحیحہ کا مصداق ہے وہ جو بھی ہو ملعون صفت ہے کہ نہیں۔۔۔اس کو مزید دیکھتے ہیں اوراقبال رضؤی تمام قارئیں کی خدمت میں عرض گزار ہے کہ ہمارا مقصد کسی ایک فرقہ یا سوچ یا ساٹھ ھجری کے ایک شخص کو صحیح یا غلط ثابت کرنا ہرگز نہیں بلکہ رسول اللہﷺ کی احآدیث کو سمجھنے کی ادنی سی کوشش ہے۔۔۔اس مسلہ پر جلد ہماری کتاب لعن مزید فی شان یزید آ رہی ہے اور ہمارے آرٹیکل کے لیے ہماری ویپ سایئٹ المحقق ڈاٹ کام گوگل میں سرچ کریں یا یوٹیوب پر رضؤی بھائی آن لاین چینل پر دیکھیں۔۔بخآری مسلم کی ساٹھ ھجری اور بعض ستر ھجری والی احادیث کو بھی ہم زیر باعث لیتے ہیں ۔مسند احمد میں 8287 اور بخاری میں 7058 نمبر ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آقاﷺ نے فرامایا میری امت کی تباہی قریش کے لونڈوں کے ہاتھ سے ہوگی ۔۔بخآری 3605 اور 3606 نمبر میں ہے کہ حذیفہ ابن یمان ؒ فرماتے ہیں کہ وہ قریشی لونڈے بدعت کو اختیار کریں گے۔۔مصںف ابن ابی شیبہ میں امارہ الصبیان والی رویت مزید وضاحت کے ساتھ ہے اور ابوھریرہ ؒ گلیوں میں گھومتے پھرتے دعا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے ساٹھ ھجری کا زمانہ نہ دیکھانا اور اس سے قبل موت دینا ۔وہ بدعتی حکمرانوں کا فتنہ میں نہ دیکھوں۔۔۔اور ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کو یقینا آقا کریم ﷺ نے ان قریش بنو امیہ کے ظآلم حکمرانوں کا نام بھی بتایا ہوگا مگر قتل کے خوف سے یا کسی اور حکمت کی وجہ سے چھپایا ہو۔۔ یہ بات بھی میں نے خود سے نہیں کہی بلکہ قوی قراینہ موجود ہے۔۔۔جیسا کہ بخآری میں 120 نمبر ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے آقا دوجہان ﷺ نے علم کے دو ظرف عطا فرمائے جن میں سے ایک ظاہر کر دیا ہے اور دوسرا ظرف چھپادیا ہے اگر ظاہر کر دو تومیرا گلہ کاٹ دیا جائے ۔۔۔سوال یہ ہے کہ شرعی احکام کو چھپانا تو جائز نہیں اور نہ آقاﷺ یہ کسی کو اجازت دے سکتے ہیں کہ یہ قرآن و حدیث کا حکم قتل کے خوف سے کسی کو نہ بتانا۔۔۔۔آخر وہ کون سی ایسی خفیہ راز کی بات تھی آئیے علماء سے پوچھتے ہیں۔۔۔۔۔

فتح الباری میں اسی حدیث نمبر 120 کے تحت ابن حجراسقلانی ؒ لکھتے ہیں۔۔علماء کرام نے اس ذخیرۂ علم کو جس کو انہوں نے بیان نہیں فرمایا، ان احادیث پر محمول کیا ہے جن میں برے (ظالم اور سفاک) حکمرانوں کے ناموں کی تفصیل، ان کے احوال، اور ان کے ادوار یا عہد (کی برائیوں، ظلم اور سفاکیت) کی وضاحت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان میں سے بعض کو کنایتاً بیان کرتے تھے لیکن ان سے اپنی جان کو خطرہ لاحق ہونے کی وجہ سے (ان کی) صراحت نہ کرتے تھے جیسا کہ ان کا قول ہے: "میں سن 60 ہجری کے آغاز اور لونڈوں کی حکومت سے پناہ مانگتا ہوں”۔ یہ یزید بن معاویہ کی امارت و حکومت کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ یہ ہجرت کا ساٹھواں سال تھا، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی دعا قبول فرمائی اور وہ سن 60 ہجری سے ایک سال قبل ہی وفات پا گئے۔”ابن منیر نے کہا ہے: حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے اپنے قول:قطع،، ‘کاٹ دیا جائے گا۔’ سے یہ مراد لیا ہے کہ (اس دوسرے علم کو اگر وہ عام کر دیں تو) ظالم لوگ ان کا سر قلم کر دیں گے، جب وہ ان کے (قابلِ اعتراض) کاموں پر تنقید کرتے اور ان کی قباحت بیان کرتے ہوئے اور (حصولِ اقتدار کے لیے) ان کی جدوجہد کو باطل ٹھہراتے ہوئے سنیں گے۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ مخفی رکھی گئی احادیث اگر شرعی احکام میں سے ہوتیں تو ان کے لیے انہیں چھپانے کی گنجائش نہ تھی۔ اس لیے کہ پہلی حدیث میں انہوں نے وہ آیت بیان کی تھی”

عمدۃ القاری امام عینی ؒ اسی حدیث کی شرح میں کہتے ہیں ۔۔لاحتمل أن يملأ منها وعاءً. وبالثاني: ما كتمه من أخبار الفتن، كذلك. وقال ابن بطال: المراد من الوعاء الثاني أحاديث أشراط الساعة، وما عرف به النبي، عليه الصلاة والسلام، من فساد الدين على أيدي أغيلمة سفهاء من قريش، وكان أبو هريرة يقول: لو شئت أن أسميهم بأسمائهم، فخشي على نفسه فلم يصرح، وكذلك ينبغي لكل من أمر بمعروف إذ خاف على نفسه في التصريح أن يعرض، ولو كانت الأحاديث التي لم يحدث بها في الحلال والحرام ما وسعه كتمها بحكم الآية. ويقال: حمل الوعاء الثاني الذي لم ينبه على الأحاديث التي فيها تبيين أسامي أمراء الجور وأحوالهم وذمهم، وقد كان أبو هريرة يكني عن بعضهم ولا يصرح به خوفاً على نفسه منهم، كقوله: أعوذ بالله من رأس الستين وإمارة الصبيان، يشير بذلك إلى خلافة يزيد بن معاوية لأنها كانت سنة ستين من الهجرة، فاستجاب الله دعاء أبي هريرة، فمات قبلها بسنة.”تو یہ ممکن تھا کہ وہ اس سے ایک برتن بھر لیتے۔ اور دوسرے (برتن) سے مراد وہ فتنوں کی خبریں ہیں جنہیں انہوں نے اسی طرح پوشیدہ رکھا۔

اور ابن بطال نے کہا: دوسرے برتن سے مراد قیامت کی نشانیاں ہیں، اور وہ باتیں ہیں جن کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کے چند بیوقوف لونڈوں (نوجوانوں) کے ہاتھوں دین کے فساد کی پہچان کروائی تھی۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ‘اگر میں چاہوں تو ان کے نام لے کر تمہیں بتا دوں’، لیکن انہیں اپنی جان کا خوف تھا اس لیے انہوں نے کھل کر صراحت نہیں کی۔ اور اسی طرح ہر اس شخص کے لیے یہی مناسب ہے جو امر بالمعروف (نیکی کا حکم) کرے کہ جب اسے کھل کر بیان کرنے میں اپنی جان کا خوف ہو تو وہ کنایے و اشارے سے کام لے۔ اور اگر وہ احاديث جنہیں انہوں نے بیان نہیں کیا، حلال و حرام کے بارے میں ہوتیں تو (قرآنی) آیت کے حکم کے تحت ان کے لیے اسے چھپانے کی گنجائش نہ ہوتی۔

اور کہا جاتا ہے: دوسرے برتن، جس کے بارے میں انہوں نے وضاحت نہیں کی، اس سے مراد وہ احادیث ہیں جن میں ظالم امراء کے ناموں، ان کے احوال اور ان کی مذمت کا بیان تھا۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان میں سے بعض کا کنایے میں ذکر کرتے تھے اور ان سے اپنی جان کے خوف کی وجہ سے ان کا نام کھل کر واضح نہیں کرتے تھے، جیسے کہ ان کا یہ قول: ‘میں سن 60 ہجری کے آغاز اور لڑکوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں’۔ اس سے وہ یزید بن معاویہ کی خلافت کی طرف اشارہ کر رہے تھے کیونکہ وہ ہجرت کا ساٹھواں سال تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعا قبول فرما لی اور وہ اس (سال) سے ایک سال پہلے ہی وفات پا گئے۔”

امام کرمانی بخاری کی اسی حدیث کی شرح کرتے ہیں اس طرح کہ۔۔ والشراب وهو تحت الحلقوم والبلعوم قال ابن بطال البلعوم الحلقوم وهو مجرى النفس الى الرئة والمرىء مجرى الطعام والشراب الى المعدة فيتصل بالحلقوم وقال المراد من الوعاء الثاني أحاديث أشراط الساعة وما عرف به النبي صلى الله عليه وسلم من فساد الدين وتغير الأحوال والتضيع لحقوق الله تعالى كقوله صلى الله عليه وسلم يكون فساد هذا الدين على يدى أغيلمة سفهاء من قريش وكان أبو هريرة يقول لو شئت أن أسميهم بأسمائهم فخشي على نفسه فلم يصرح ولذلك ينبغي لمن أمر بالمعروف إذا خاف على نفسه في التصريح أن يعرض ولو كانت الأحاديث التي لم يحدث بها من الحلال والحرام””اور پانی (پینے کی جگہ) اور وہ حلقوم (حلق) اور بلعوم (تینٹوا) کے نیچے ہے۔ ابن بطال نے کہا: بلعوم ہی حلقوم ہے اور وہ پھیپھڑے کی طرف سانس کا راستہ ہے، اور مریء (خوراک کی نالی) معدے کی طرف کھانے اور پینے کا راستہ ہے جو حلقوم سے جڑا ہوا ہے۔

اور انہوں نے کہا: (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے) دوسرے برتن سے مراد قیامت کی نشانیاں ہیں، اور وہ باتیں ہیں جن کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین کے فساد، حالات کے بدل جانے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کو ضائع کیے جانے کی پہچان کروائی تھی۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: ‘اس دین کا فساد قریش کے چند بیوقوف لونڈوں (نوجوانوں) کے ہاتھوں ہوگا۔’

اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ‘اگر میں چاہوں تو ان کے نام لے کر تمہیں بتا دوں’، لیکن انہیں اپنی جان کا خوف تھا اس لیے انہوں نے کھل کر صراحت نہیں کی۔ اور اسی وجہ سے ہر اس شخص کے لیے یہی مناسب ہے جو امر بالمعروف (نیکی کا حکم) کرے کہ جب اسے کھل کر بیان کرنے میں اپنی جان کا خوف ہو تو وہ کنایے (اشارے) سے کام لے۔ اور اگر وہ احاديث جنہیں انہوں نے بیان نہیں کیا، حلال و حرام میں سے ہوتیں (تو وہ انہیں کبھی نہ چھپاتے)۔”

امام شھاب الدین قسطلانی ارشاد الساری میں اسی حدیث کی شرح کچھ یوں بیان کرتےہیں ،،”بالوعاء الأوَّل : ما حفظه من الأحاديث ، وبالثَّاني : ما كتمه من أخبار الفتن وأشراط السَّاعة ، وما أخبر به الرَّسولُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ من فساد الدِّين على يدي أغيلمةٍ من سفهاء قريش ، وقد كان أبو هريرة يقول : لو شئتُ أن أسمِّيَهم لَسَمَّيْتُهم ، أو المُراد : الأحاديث التي فيها تبيين أسماء أمراء الجور وأحوالهم وذمّهم ، وقد كان أبو هريرة يكنِّي عن بعض ذلك ولا يصرِّح خوفاً على نفسه منهم ؛ كقوله : أعوذ بالله من رأس السِّتِّين وإمارة الصِّبيان ، يشير إلى خلافة يزيد بن معاوية لأنَّها كانت سنة ستِّين من الهجرة ، واستجاب الله تعالى دعاء أبي هريرة ، فمات قبلها بسنةٍ ، وسيأتي ذلك مع مزيدٍ له في «كتاب الفتن» [ح : ٧٠٥٨] إن شاء الله تعالى ، أو المُراد به : علم”،،،”پہلے برتن سے مراد: وہ احادیث ہیں جو انہوں نے یاد رکھیں، اور دوسرے (برتن) سے مراد: وہ فتنوں کی خبریں اور قیامت کی نشانیاں ہیں جنہیں انہوں نے پوشیدہ رکھا، اور وہ باتیں ہیں جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی تھی کہ قریش کے چند بیوقوف لونڈوں (نوجوانوں) کے ہاتھوں دین کا فساد ہوگا۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ‘اگر میں چاہوں کہ ان کے نام لے کر تمہیں بتا دوں تو ضرور بتا دوں’۔

یا اس سے مراد: وہ احادیث ہیں جن میں ظالم حکمرانوں کے ناموں، ان کے احوال اور ان کی مذمت کی وضاحت تھی۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان میں سے بعض باتوں کو کنایے (اشارے) میں بیان کرتے تھے اور ان سے اپنی جان کے خوف کی وجہ سے کھل کر صراحت نہیں کرتے تھے؛ جیسے کہ ان کا یہ قول: ‘میں سن 60 ہجری کے آغاز اور لڑکوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں’۔

اس سے وہ یزید بن معاویہ کی خلافت کی طرف اشارہ کر رہے تھے کیونکہ وہ ہجرت کا ساٹھواں سال تھا، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعا قبول فرما لی، چنانچہ وہ اس (سال) سے ایک سال پہلے ہی وفات پا گئے۔ اور یہ روایت ان شاء اللہ تعالیٰ اپنی مزید تفصیل کے ساتھ آگے ‘کتاب الفتن’ [حدیث نمبر: 7058] میں آئے گی، یا اس سے مراد یہ ہے: علم۔۔۔”

امام قسطلانی مزید تفصیل کے ساتھ آگے ‘کتاب الفتن’ [حدیث نمبر: 7058] میں لکھتے ہیں "اللَّئَامِ (مِنْ قُرَيْشٍ) وَعِنْدَ أَحْمَدَ وَالنَّسَائِيِّ (٥) مِنْ رِوَايَةِ سِمَاكٍ عَنْ أَبِي ظَالِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «إِنَّ فَسَادَ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ»، وَبِزِيَادَةِ: «سُفَهَاءَ» تَقَعُ المُطَابَقَةُ بَيْنَ الحَدِيثِ وَالتَّرْجَمَةِ، وَعِنْدَ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ إِمَارَةِ الصِّبْيَانِ، قَالُوا: وَمَا إِمَارَةُ الصِّبْيَانِ (٦)؟ قَالَ: إِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ هَلَكْتُمْ – أَيْ: فِي دِينِكُمْ -، وَإِنْ عَصَيْتُمُوهُمْ أَهْلَكُوكُمْ» أَيْ: فِي دُنْيَاكُمْ، بِإِزْهَاقِ النَّفْسِ، أَوْ بِإِذْهَابِ المَالِ، أَوْ بِهِمَا، وَعِنْدَ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ: أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَمْشِي فِي السُّوقِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ؛ لَا تُدْرِكْنِي سَنَةَ سِتِّينَ وَلَا إِمَارَةَ الصِّبْيَانِ، قَالُوا: وَمَا إِمَارَةُ الصِّبْيَانِ (٧)؟ وَقَدِ اسْتَجَابَ اللَّهُ دُعَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَمَاتَ قَبْلَهَا بِسَنَةٍ، قَالَ فِي «الفَتْحِ»: وَفِي هَذَا إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ أَوَّلَ الأَغْيِلَمَةِ كَانَ فِي سَنَةِ سِتِّينَ، وَهُوَ كَذَلِكَ؛ فَإِنَّ يَزِيدَ ابْنَ مُعَاوِيَةَ اسْتُخْلِفَ فِيهَا، وَبَقِيَ إِلَى سَنَةِ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ فَمَاتَ، ثُمَّ وَلِيَ وَلَدُهُ (٨) مُعَاوِيَةُ وَمَاتَ بَعْدَ أَشْهُرٍ.”قریش کے کمینوں سے۔ اور امام احمد اور امام نسائی کے ہاں (5) سماک کی روایت سے، انہوں نے ابو ظالم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے (کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا): «میری امت کا فساد قریش کے بیوقوف لڑکوں کے ہاتھوں ہوگا»، اور لفظ «سفھاء» (بیوقوفوں) کے اضافے سے حدیث اور باب کے عنوان (ترجمۃ الباب) کے درمیان مطابقت پیدا ہوتی ہے۔

اور ابن ابی شیبہ کے ہاں ایک اور سند سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا): «میں لڑکوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، لوگوں نے عرض کیا: لڑکوں کی حکومت کیا ہے (6)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو تم ہلاک ہو جاؤ گے – یعنی اپنے دین کے معاملے میں – اور اگر تم ان کی نافرمانی کرو گے تو وہ تمہیں ہلاک کر دیں گے» یعنی تمہاری دنیا کے معاملے میں، جان لے کر یا مال برباد کر کے، یا ان دونوں طریقوں سے۔

اور ابن ابی شیبہ کے ہاں ہی (یہ بھی روایت) ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بازار میں چلتے ہوئے یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! مجھے سن 60 ہجری اور لڑکوں کی حکومت کا زمانہ نہ دکھانا۔ لوگوں نے پوچھا: لڑکوں کی حکومت سے کیا مراد ہے (7)؟ اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعا قبول فرما لی، چنانچہ وہ اس (سال) سے ایک سال پہلے ہی وفات پا گئے۔

صاحبِ فتح الباری (حافظ ابن حجر) نے «الفتح» میں کہا: اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لڑکوں میں سے پہلا لڑکا سن 60 ہجری میں (حکمران) بنا، اور معاملہ اسی طرح ہی ہے؛ کیونکہ یزید بن معاویہ کو اسی سال خلیفہ بنایا گیا تھا، اور وہ سن 64 ہجری تک رہا اور پھر مر گیا، اس کے بعد اس کا بیٹا (8) معاویہ (بن یزید) حکمران بنا اور وہ بھی چند مہینوں بعد فوت ہو گیا۔”

اسی طرح کا مفہوم مشکوۃ المصابیح کتاب علم کی حدیث نمبر271 کے تحت ملا علی قاری مرقاۃ المفاتح میں بیان کرتے ہیں اور اصواعق المحرقۃ میں ابن حجر الہثمی ص233 میں لکھتے ہیں "وكان مع أبي هريرة رضي الله عنه علم من النبي (ﷺ) بما مرَّ عنه (ﷺ) في يزيد ، فإنَّه كان يدعو : اللهمَّ إنِّي أعوذُ بكَ من رأس الستين ، وإمارة الصِّبيان . فاستجاب اللهُ له ، وتوفَّاهُ سَنَةَ تسعٍ وخمسين ، وكان وفاة معاوية وولاية ابنه سنة ستين ، فَعَلِمَ أبو هُريرةَ بولايةِ يزيدَ في هذه السَّنة ، فاستعاذَ منها لما علمه من قَبيح أحواله (٥) بواسطة إعلامِ الصادق المصدوق (ﷺ) بذلك .””اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم ﷺ کی طرف سے دیا گیا وہ علم تھا جو آپ ﷺ سے یزید کے بارے میں گزرا ہے، اسی لیے وہ دعا کیا کرتے تھے: ‘اے اللہ! میں سن ساٹھ (60 ہجری) کے آغاز اور لڑکوں کی حکومت سے تیری پناہ مانگتا ہوں’۔

پس اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور انہیں سن انسٹھ (59) ہجری میں وفات عطا کی، جبکہ حضرت معاویہ کی وفات اور ان کے بیٹے کی حکومت کا آغاز سن ساٹھ (60) ہجری میں ہوا۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس سال میں یزید کی ولایت و حکومت کا (پہلے سے) علم تھا، پس انہوں نے اس سے پناہ مانگی کیونکہ انہیں صادق و مصدوق ﷺ کی مخبری کے ذریعے یزید کے برے احوال کا علم ہو چکا تھا”

۔مسند احمد میں 8287 اور بخاری میں 7058 نمبر ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آقاﷺ نے فرامایا میری امت کی تباہی قریش کے لونڈوں کے ہاتھ سے ہوگی مشکوۃ کی 5388 کے تحت ملا علی قاری نے لکھا اس سے مراد یزید اور اس کے ساتھی ہیں اور مرقاۃ میں ہے کہ "3716 نمبر – (وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله ﷺ : «تعوَّذوا بالله من رأس السبعين») أي من فتنة تنشأ في ابتداء السبعين من تاريخ الهجرة أو وفاته عليه الصلاة والسلام . («وإمارة الصبيان») بكسر أوّله أي ومن حكومة الصغار («الجهال») كيزيد بن معاوية وأولاد الحكم بن مروان وأمثالهم، وأغرب الطيبي حيث قال قوله : وإمارة الصبيان، حال أي والحال أن الصبيان۔۔۔(اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ستر (70 ہجری) کے آغاز سے اللہ کی پناہ مانگو») یعنی اس فتنے سے جو تاریخِ ہجرت یا آپ علیہ الصلاة والسلام کی وفات سے سترویں سال کے آغاز میں پیدا ہو۔

(«اور لڑکوں کی حکومت سے») لفظ صبیان کے پہلے حرف (ص) کے زیر کے ساتھ، یعنی کم عمر («جاہلوں») کی حکومت سے، جیسے یزید بن معاویہ، اور حکم بن مروان کی اولاد اور ان جیسے دیگر لوگ۔ اور علامہ طیبی نے عجیب بات کہی ہے جہاں انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کا قول: ‘وإمارة الصبيان’ حال واقع ہو رہا ہے، یعنی حالت یہ ہوگی کہ لڑکے۔۔ان تمام اخبار سے معلوم ہوا ساٹھ ھجری میں جو فتنہ رسول اللہ ﷺ نے بتایا وہ یزید کے نام سے سامنے آیا ۔۔۔۔نماز کا تارک شرابی فاسق ظالم جابر یہ سب صحیح احآدیث سے معلوم ہوگیا۔۔علماء نے بھی اس فتنہ کو یزید لعنت اللہ علیہ کا نام ہی دیا۔ ۔۔اور درایت و نقل و عقل بھی صآف بتا رہی ہے کہ ساٹھ ھجری میں یزید ہی حاکم تھا ۔۔یا تو رسول اللہ ﷺ سے یہ خبر دینے میں غلطی ہوئی نعوذباللہ یا پھر یزید ہی ان احادیث کا مصداق ہے ۔ اب دیکھتے ہیں کہ علماٰء کا قول کہ یہ فتنہ یزید ہی ہے ۔۔تو جب صحیح نصوص سے واضع ہوگیا کہ ان حدیثوں سے مراد یزید ملعون ہے ۔۔سوال یہ ہے کہ اس کی تائید بھی کسی حدیث سے ہوتی ہے جواب ایسی کئ مرسل اثر صحابہ اور ضعیف احآدیث جو کہ شواھد اور متعبیات میں قبول ہوتی ہیں ان سے اس بات کی بلکل صراحت ہو جاتی ہے کہ علماء کا قول ان تمام صحیح احادیث کے تحت کہ وہ یزید ہی ملعون ہے بلکل صحیح قول ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے