پیشِ نظر تحریر میں قرآنِ مجید کے دلائل، صحابہ کرام کے آثار اور ائمہ دین کے مستند حوالوں سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کی عطا سے انبیاء و اولیاء سے مدد طلب کرنا، ان کا وسیلہ پکڑنا اور حالتِ غیبت یا بعد از وفات انہیں پکارنا شرک نہیں بلکہ عینِ توحید اور سنتِ اسلاف ہے۔

دلیل نمبر 1: حضرت سلیمان علیہ السلام کا دربار اور ما فوق الاسباب مدد

قرآنِ مجید میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس کے تخت کا واقعہ (سورۃ النمل، آیات 38 تا 40) مدد، تصرف، اور ما فوق الاسباب قوت کی ایک مبرہن مثال ہے۔

1. غیر حاضر مخلوق سے مدد کی طلب

جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا ارادہ فرمایا تو درباریوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:

قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا > "سلیمانؑ نے کہا: اے درباریو! تم میں سے کون اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لاتا ہے؟” (النمل: 38)

یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات (جو کہ غائب مخلوق ہیں) اور انسانوں دونوں سے مدد طلب فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسباب سے بالاتر مدد طلب کرنا شرک نہیں ہوتا۔

2. آصف بن برخیا کا تصرف اور علم

دربار میں موجود ایک صالح انسان (آصف بن برخیا) نے عرض کیا:

قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ > "اس نے کہا جس کے پاس کتاب کا علم تھا: میں وہ تخت آپ کے پاس لا دیتا ہوں قبل اس کے کہ آپ کی پلک جھپکے۔” (النمل: 40)

جب تخت لمحے بھر میں حاضر ہو گیا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: "هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي” (یہ میرے رب کا فضل ہے)۔ اس واقعے سے درج ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں:

  • عطائی علمِ غیب: آصف بن برخیا کو اللہ کی عطا سے یہ علم تھا کہ تخت کہاں ہے اور اسے کیسے لانا ہے۔
  • قدرتِ تصرف: سینکڑوں میل دور موجود بھاری تخت کو پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کر دینا کائناتی نظام پر تصرف کی دلیل ہے جو اللہ اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے۔
  • سماعتِ بعید (دور سے سننا): عقلی و منطقی اصول ہے کہ جو شخص مادی اسباب کے بغیر اتنی دور سے تخت لا سکتا ہے، وہ دور کی آواز سننے کی صلاحیت بھی بدرجہ اولیٰ رکھتا ہے۔

3. "حاضر اور غائب” کی خود ساختہ تقسیم کا رد

بعض لوگ کہتے ہیں کہ زندہ اور حاضر سے مدد مانگنا جائز ہے، مگر غائب سے مانگنا شرک ہے۔ قرآن و حدیث میں شرک کی تعریف "اللہ کے ساتھ کسی کو مستقل بالذات مؤثر ماننا” ہے، نہ کہ حاضر و غائب کی بنیاد پر۔ اگر غیر اللہ سے مانگنا بذاتِ خود شرک ہوتا، تو حاضر سے مانگنا بھی شرک ہوتا۔

دلیل نمبر 2: قمیصِ یوسف علیہ السلام سے شفاء اور جمادات کا وسیلہ

قرآنِ مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کا اپنی قمیص بھیجنے کا واقعہ غیر اللہ کے وسیلے سے برکت اور شفاء حاصل کرنے کی صریح دلیل ہے۔

1. قرآنی نص

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے فرمایا:

اذْهَبُوا بِقَمِيصِي هَذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا > "میری یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو، ان کی بینائی واپس آجائے گی۔” (یوسف: 93)

جب قمیص حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر ڈالی گئی تو قرآن گواہی دیتا ہے: "فَارْتَدَّ بَصِيرًا” (ان کی بینائی لوٹ آئی)۔

2. علمی نکات

  • قمیص ایک بے جان چیز (جماد) ہے، مگر ایک نبی کے جسم سے منسوب ہونے کی وجہ سے شفاء کا ذریعہ بن گئی۔
  • حضرت یوسف علیہ السلام نے براہِ راست دعا کے بجائے قمیص کو سبب بنایا اور حضرت یعقوب علیہ السلام (جو خود نبی تھے) نے اس وسیلے کو قبول فرمایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات اور نسبتوں سے مدد لینا عینِ سنتِ انبیاء ہے۔

دلیل نمبر 3: صحابہ کرام، تابعین اور ائمہ دین کے آثار

حالتِ غیبت اور بعد از وفات پکارنے (استغاثہ) کے جواز پر کتبِ حدیث و تاریخ سے درج ذیل مستند آثار پیشِ خدمت ہیں:

1. غائب سے سماعت و امداد (واقعہ "ساریہ الجبل”)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں منبر پر خطبہ دیتے ہوئے ایران کے میدانِ جنگ میں موجود سپہ سالار کو پکارا: "یا ساریہ! الجبل” (اے ساریہ! پہاڑ کی طرف ہو جاؤ)۔ حضرت ساریہ نے سینکڑوں میل دور سے اس آواز کو سنا اور عمل کیا۔

  • حوالہ جات: مشکوٰۃ المصابیح (حدیث: 3794)، البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)، فتح الباری (ابن حجر)۔

2. مصیبت میں نامِ نبی کا وسیلہ (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا پاؤں سن ہو گیا، تو انہوں نے پکارا: "یا محمداہ” (اے محمد ﷺ!)، تو ان کا پاؤں فوراً ٹھیک ہو گیا۔

  • حوالہ: الادب المفرد للامام البخاری (حدیث: 964)۔

3. میدانِ جنگ میں استغاثہ (حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)

جنگِ یمامہ میں جب مسلمانوں کو شدید مشکل پیش آئی، تو سیف اللہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کی طرف متوجہ ہو کر پکارا: "یا محمداہ، یا نصر اللہ!”۔

  • حوالہ: البدایہ والنہایہ (ابن کثیر، ج 6، ص 324)۔

4. بعد از وفات توسل کا طریقہ (عہدِ عثمانی کا واقعہ)

ایک حاجت مند شخص کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مشکل پیش آئی، تو اسے یہ دعا سکھائی گئی: "یا محمد، إنی أتوجہ بک إلی ربی…” (اے محمد ﷺ! میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں)۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نے ‘نشر الطیب’ میں اسے بعد از وفات توسل کی قوی دلیل قرار دیا ہے۔

  • حوالہ: سنن ابن ماجہ، معجم الکبیر للطبرانی۔

5. مزارِ اقدس پر فریاد (حضرت بلال بن حارث المزنی رضی اللہ عنہ)

عہدِ فاروقی میں جب قحط پڑا، تو صحابیِ رسول حضرت بلال بن حارث رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کی قبرِ انور پر حاضر ہو کر عرض کیا: "یا رسول اللہ! استسق لأمتک فإنہم قد ہلکوا” (اے اللہ کے رسول! اپنی امت کے لیے بارش کی دعا کیجیے، وہ ہلاک ہو رہی ہے)۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا: "وہذا حدیث صحیح” (یہ حدیث بالکل صحیح ہے)۔

  • حوالہ: مصنف ابن ابی شیبہ (حدیث: 32538)، فتح الباری۔

6. غیبی بندوں سے مدد مانگنے کی نبوی تعلیم

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی کسی جنگل یا ویرانے میں راستہ کھو جائے یا مدد چاہے، تو وہ یوں پکارے: ’یا عباد اللہ أغیثونی‘ (اے اللہ کے غیبی بندو! میری مدد کرو)۔”

  • حوالہ: مجمع الزوائد للیثمی (10/132)، شعب الایمان للبیہقی، الاذکار للامام النووی۔

7. مزارِ اقدس سے برکت (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا)

مدینہ منورہ میں قحط کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ روضۂ رسول ﷺ کے پاس جائیں اور وہاں سے استسقاء (بارش کی طلب) کریں۔ چنانچہ ایسا کرنے سے شدید بارش ہوئی۔

  • حوالہ: سنن دارمی (1/56)، وفاء الوفاء۔

8. اعرابی کا قبرِ انور پر استغفار اور حاجت روائی

امام ابن قدامہ مقدسی اور دیگر ائمہ نے نقل کیا ہے کہ ایک دیہاتی (اعرابی) نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں نے گناہ کیے ہیں اور اللہ کے اس فرمان (ولو أنہم إذ ظلموا أنفسہم جاؤوک…) کے تحت آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں تاکہ آپ میرے لیے استغفار فرمائیں۔” اس کے جانے کے بعد بشارت ہوئی کہ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی ہے۔

  • حوالہ: المغنی لابن قدامہ، دلائل النبوۃ للبیہقی۔

عقیدۂ توسل، استغاثہ اور ما فوق الاسباب مدد: قرآن و سنت کی روشنی میں

پیشِ نظر تحریر میں قرآنِ مجید کے دلائل، صحابہ کرام کے آثار اور ائمہ دین کے مستند حوالوں سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کی عطا سے انبیاء و اولیاء سے مدد طلب کرنا، ان کا وسیلہ پکڑنا اور حالتِ غیبت یا بعد از وفات انہیں پکارنا شرک نہیں بلکہ عینِ توحید اور سنتِ اسلاف ہے۔

دلیل نمبر 1: حضرت سلیمان علیہ السلام کا دربار اور ما فوق الاسباب مدد

قرآنِ مجید میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس کے تخت کا واقعہ (سورۃ النمل، آیات 38 تا 40) مدد، تصرف، اور ما فوق الاسباب قوت کی ایک مبرہن مثال ہے۔

1. غیر حاضر مخلوق سے مدد کی طلب

جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا ارادہ فرمایا تو درباریوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:

قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا > "سلیمانؑ نے کہا: اے درباریو! تم میں سے کون اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لاتا ہے؟” (النمل: 38)

یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات (جو کہ غائب مخلوق ہیں) اور انسانوں دونوں سے مدد طلب فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسباب سے بالاتر مدد طلب کرنا شرک نہیں ہوتا۔

2. آصف بن برخیا کا تصرف اور علم

دربار میں موجود ایک صالح انسان (آصف بن برخیا) نے عرض کیا:

قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ > "اس نے کہا جس کے پاس کتاب کا علم تھا: میں وہ تخت آپ کے پاس لا دیتا ہوں قبل اس کے کہ آپ کی پلک جھپکے۔” (النمل: 40)

جب تخت لمحے بھر میں حاضر ہو گیا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: "هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي” (یہ میرے رب کا فضل ہے)۔ اس واقعے سے درج ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں:

  • عطائی علمِ غیب: آصف بن برخیا کو اللہ کی عطا سے یہ علم تھا کہ تخت کہاں ہے اور اسے کیسے لانا ہے۔
  • قدرتِ تصرف: سینکڑوں میل دور موجود بھاری تخت کو پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کر دینا کائناتی نظام پر تصرف کی دلیل ہے جو اللہ اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے۔
  • سماعتِ بعید (دور سے سننا): عقلی و منطقی اصول ہے کہ جو شخص مادی اسباب کے بغیر اتنی دور سے تخت لا سکتا ہے، وہ دور کی آواز سننے کی صلاحیت بھی بدرجہ اولیٰ رکھتا ہے۔

3. "حاضر اور غائب” کی خود ساختہ تقسیم کا رد

بعض لوگ کہتے ہیں کہ زندہ اور حاضر سے مدد مانگنا جائز ہے، مگر غائب سے مانگنا شرک ہے۔ قرآن و حدیث میں شرک کی تعریف "اللہ کے ساتھ کسی کو مستقل بالذات مؤثر ماننا” ہے، نہ کہ حاضر و غائب کی بنیاد پر۔ اگر غیر اللہ سے مانگنا بذاتِ خود شرک ہوتا، تو حاضر سے مانگنا بھی شرک ہوتا۔

دلیل نمبر 2: قمیصِ یوسف علیہ السلام سے شفاء اور جمادات کا وسیلہ

قرآنِ مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کا اپنی قمیص بھیجنے کا واقعہ غیر اللہ کے وسیلے سے برکت اور شفاء حاصل کرنے کی صریح دلیل ہے۔

1. قرآنی نص

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے فرمایا:

اذْهَبُوا بِقَمِيصِي هَذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا > "میری یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو، ان کی بینائی واپس آجائے گی۔” (یوسف: 93)

جب قمیص حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر ڈالی گئی تو قرآن گواہی دیتا ہے: "فَارْتَدَّ بَصِيرًا” (ان کی بینائی لوٹ آئی)۔

2. علمی نکات

  • قمیص ایک بے جان چیز (جماد) ہے، مگر ایک نبی کے جسم سے منسوب ہونے کی وجہ سے شفاء کا ذریعہ بن گئی۔
  • حضرت یوسف علیہ السلام نے براہِ راست دعا کے بجائے قمیص کو سبب بنایا اور حضرت یعقوب علیہ السلام (جو خود نبی تھے) نے اس وسیلے کو قبول فرمایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات اور نسبتوں سے مدد لینا عینِ سنتِ انبیاء ہے۔

دلیل نمبر 3: صحابہ کرام، تابعین اور ائمہ دین کے آثار

حالتِ غیبت اور بعد از وفات پکارنے (استغاثہ) کے جواز پر کتبِ حدیث و تاریخ سے درج ذیل مستند آثار پیشِ خدمت ہیں:

1. غائب سے سماعت و امداد (واقعہ "ساریہ الجبل”)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں منبر پر خطبہ دیتے ہوئے ایران کے میدانِ جنگ میں موجود سپہ سالار کو پکارا: "یا ساریہ! الجبل” (اے ساریہ! پہاڑ کی طرف ہو جاؤ)۔ حضرت ساریہ نے سینکڑوں میل دور سے اس آواز کو سنا اور عمل کیا۔

  • حوالہ جات: مشکوٰۃ المصابیح (حدیث: 3794)، البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)، فتح الباری (ابن حجر)۔

2. مصیبت میں نامِ نبی کا وسیلہ (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا پاؤں سن ہو گیا، تو انہوں نے پکارا: "یا محمداہ” (اے محمد ﷺ!)، تو ان کا پاؤں فوراً ٹھیک ہو گیا۔

  • حوالہ: الادب المفرد للامام البخاری (حدیث: 964)۔

3. میدانِ جنگ میں استغاثہ (حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ)

جنگِ یمامہ میں جب مسلمانوں کو شدید مشکل پیش آئی، تو سیف اللہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کی طرف متوجہ ہو کر پکارا: "یا محمداہ، یا نصر اللہ!”۔

  • حوالہ: البدایہ والنہایہ (ابن کثیر، ج 6، ص 324)۔

4. بعد از وفات توسل کا طریقہ (عہدِ عثمانی کا واقعہ)

ایک حاجت مند شخص کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مشکل پیش آئی، تو اسے یہ دعا سکھائی گئی: "یا محمد، إنی أتوجہ بک إلی ربی…” (اے محمد ﷺ! میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں)۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نے ‘نشر الطیب’ میں اسے بعد از وفات توسل کی قوی دلیل قرار دیا ہے۔

  • حوالہ: سنن ابن ماجہ، معجم الکبیر للطبرانی۔

5. مزارِ اقدس پر فریاد (حضرت بلال بن حارث المزنی رضی اللہ عنہ)

عہدِ فاروقی میں جب قحط پڑا، تو صحابیِ رسول حضرت بلال بن حارث رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کی قبرِ انور پر حاضر ہو کر عرض کیا: "یا رسول اللہ! استسق لأمتک فإنہم قد ہلکوا” (اے اللہ کے رسول! اپنی امت کے لیے بارش کی دعا کیجیے، وہ ہلاک ہو رہی ہے)۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا: "وہذا حدیث صحیح” (یہ حدیث بالکل صحیح ہے)۔

  • حوالہ: مصنف ابن ابی شیبہ (حدیث: 32538)، فتح الباری۔

6. غیبی بندوں سے مدد مانگنے کی نبوی تعلیم

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی کسی جنگل یا ویرانے میں راستہ کھو جائے یا مدد چاہے، تو وہ یوں پکارے: ’یا عباد اللہ أغیثونی‘ (اے اللہ کے غیبی بندو! میری مدد کرو)۔”

  • حوالہ: مجمع الزوائد للیثمی (10/132)، شعب الایمان للبیہقی، الاذکار للامام النووی۔

7. مزارِ اقدس سے برکت (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا)

مدینہ منورہ میں قحط کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ روضۂ رسول ﷺ کے پاس جائیں اور وہاں سے استسقاء (بارش کی طلب) کریں۔ چنانچہ ایسا کرنے سے شدید بارش ہوئی۔

  • حوالہ: سنن دارمی (1/56)، وفاء الوفاء۔

8. اعرابی کا قبرِ انور پر استغفار اور حاجت روائی

امام ابن قدامہ مقدسی اور دیگر ائمہ نے نقل کیا ہے کہ ایک دیہاتی (اعرابی) نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں نے گناہ کیے ہیں اور اللہ کے اس فرمان (ولو أنہم إذ ظلموا أنفسہم جاؤوک…) کے تحت آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں تاکہ آپ میرے لیے استغفار فرمائیں۔” اس کے جانے کے بعد بشارت ہوئی کہ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی ہے۔

  • حوالہ: المغنی لابن قدامہ، دلائل النبوۃ للبیہقی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے