حدیث کے مقابلے میں امام کا قول؟کیا فقہ حنفی حدیث کے خلاف ہے؟ اصولِ کرخی کی عبارات کی اصل حقیقت
’’ان کل آیتہ تخالف قول اصحابنافانھاتحمل علی النسخ او علی الترجیح والاولی ان تحمل علی التاویل من جھۃ التوفیق‘‘۔
ترجمہ: ’’ہر وہ آیت جو ہمارے اصحاب (فقہائے احناف) کے فیصلے یا قول کے خلاف نظر آئے گی، تو اسے یا تو منسوخ (جس کا حکم بدل گیا ہو) مانا جائے گا یا پھر اسے دوسری آیت پر ترجیح دینے پر محمول کیا جائے گا، اور سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس آیت کے معنی میں ایسی تاویل (وضاحت) کی جائے جس سے دونوں باتوں میں تال میل اور مطابقت پیدا ہو جائے‘‘۔ (حوالہ: اصول البزدوی مع اصول الکرخی، صفحہ: 374)
’’ان کل خبریجی بخلاف قول اصحابنا فانہ یحمل علی النسخ اواعلی انہ معارض بمثلہ ثم صارالی دلیل آخر اوترجیح فیہ بمایحتج بہ اصحابنامن وجوہ الترجیح اویحمل علی التوفیق، وانمایفعل ذلک علی حسب قیام الدلیل فان قامت دلالۃ النسخ یحمل علیہ وان قامت الدلالۃ علی غیرہ صرناالیہ‘‘۔
ترجمہ: ’’ہر وہ حدیث جو ہمارے اصحاب کے فیصلے کے خلاف آئے گی، تو وہ یا تو منسوخ سمجھی جائے گی، یا پھر وہ اپنے جیسی ہی کسی دوسری مضبوط حدیث کے آمنے سامنے (معارض) ہوگی جس کی وجہ سے کسی دوسری دلیل کی طرف جانا پڑا، یا پھر اس حدیث میں ترجیح کی کوئی ایسی وجہ ہوگی جس سے ہمارے اصحاب نے دلیل پکڑی ہے، یا پھر دونوں احادیث میں تال میل (تطبیق) پیدا کی جائے گی۔ اور یہ سب کچھ دلیل کی مضبوطی دیکھ کر کیا جائے گا۔ اگر دلیل سے یہ ثابت ہو کہ مخالف حدیث منسوخ ہو چکی ہے تو اسے منسوخ مانا جائے گا، اور اگر اس کے علاوہ کسی دوسری صورت پر مضبوط دلیل ملے گی تو اسی بات کو اپنایا جائے گا‘‘۔ (حوالہ: اصول البزدوی مع اصول الکرخی، صفحہ: 374)
’’حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ "إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلاَةِ”‘‘۔
ترجمہ: ’’آدمی اور کفر و شرک کے درمیان فرق صرف نماز چھوڑنے کا ہے‘‘۔ (حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلاۃ، جلد 1، حدیث نمبر: 153)
’’ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "إِنَّ الْعَهْدَ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلاَةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ”‘‘۔
ترجمہ: ’’ہمارے اور ان کے درمیان بنیادی عہد نماز ہے، پس جس نے نماز چھوڑی، اس نے کفر کیا‘‘۔ (حوالہ: سنن النسائی، کتاب الصلاۃ، باب الحکم فی تارک الصلاۃ، جلد 1، حدیث نمبر: 464)
’’حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الأَعْمَالِ تَرْكُهُ كُفْرٌ غَيْرَ الصَّلاَةِ‘‘۔
ترجمہ: ’’رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرامؓ نماز کے علاوہ اور کسی بھی عمل کے چھوڑنے کو کفر نہیں سمجھتے تھے‘‘۔ (حوالہ: جامع الترمذی، کتاب الایمان، باب ما جاء فی ترک الصلاۃ، جلد 5، حدیث نمبر: 2622)
’’الأسباب التي دعت العلماء إلى مخالفة بعض النصوص، وجميع الأعذار ثلاثة أصناف: أحدها: عدم اعتقاده أن النبي صلى الله عليه وسلم قاله۔ الثاني: عدم اعتقاده إرادة تلك المسألة ذلك القول۔ الثالث: اعتقاده أن ذلك الحكم منسوخ۔ وهذه الأصناف الثلاثة تتفرع إلى أسباب متعددة‘‘۔
ترجمہ: ’’وہ تمام اسباب جن کی وجہ سے ائمہ کرام کا عمل بظاہر کسی حدیث یا نص کے خلاف نظر آتا ہے، ان کے تمام عذر بنیادی طور پر تین قسم کے ہو سکتے ہیں: پہلا عذر یہ کہ انہیں یہ یقین نہ ہو کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ایسا فرمایا بھی ہے (یعنی حدیث کے ثابت ہونے کا اختلاف)۔ دوسرا عذر یہ کہ ان کی نظر میں آپ ﷺ کی اس بات کا وہ مقصد اور مراد ہی نہ ہو جو دوسرے لوگ اس حدیث سے نکال رہے ہیں (یعنی حدیث کے سمجھنے کا اختلاف)۔ تیسرا عذر یہ کہ وہ یہ سمجھتے ہوں کہ حدیث سچی اور ثابت بھی ہے اور اس کا مطلب بھی وہی ہے، لیکن اب یہ حکم بعد کے کسی حکم سے منسوخ (بدل) ہو چکا ہے (یعنی حدیث پر عمل کرنے کا اختلاف)۔ اور ان تینوں بڑے عذروں کے آگے بہت سے ذیلی اسباب بنتے ہیں‘‘۔ (حوالہ: رفع الملام عن ائمۃ الاعلام، صفحہ: 9)
’’السبب التاسع: اعتقاده أن الحديث معارض بما يدل على ضعفه، أو نسخه، أو تأويله إن كان قابلا للتأويل بما يصلح أن يكون معارضا بالاتفاق مثل آية أو حديث آخر أو مثل إجماع‘‘۔
ترجمہ: ’’نواں سبب یہ ہے کہ امام کا یہ گمان ہو کہ یہ حدیث کسی ایسی دوسری دلیل کے سامنے آ گئی ہے جو اس حدیث کے کمزور ہونے، منسوخ ہونے یا اس کے معنی بدلنے (تاویل) پر دلالت کرتی ہے، بشرطیکہ وہ حدیث تاویل کے قابل ہو؛ اور وہ سامنے آنے والی دلیل کوئی ایسی چیز ہو جس کے مضبوط ہونے پر سب کا اتفاق ہو جیسے کوئی دوسری قرآنی آیت، دوسری حدیث یا پھر اجماعِ امت‘‘۔ (حوالہ: رفع الملام عن ائمۃ الاعلام، صفحہ: 30)
فرقہ غیرمقلدین (نام نہاداہل حدیث وہابیہ) کی گمشدہ اور یتیم اسناد کاعلمی تعاقب فرقہ غیرمقلدین…
جادو ایک معروف نام ہے جو ہر معاشرے میں بخوبی جانا جاتا ہے…
مرسل اتباع تابعی روایات اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں ہیں۔ تحقیق۔۔اقبال رضوی بھائیکچھ شیعہ…
شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ❤تفسیر❤{اِلَّا تَنْصُرُوْهُ:اگر تم اس (نبی) کی مدد نہیں کرو گے۔}اس…
طب نبوی سے علاج: شہد اور قرآن سے شفاء اسلام نے انسان کی جسمانی، روحانی…
سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تاریخی اعتراضات کا علمی جائزہ…
View Comments
اس پی ڈی ایف میں بہت کچھ دلائل ہیں