حدیث کے مقابلے میں امام کا قول؟ کیا فقہ حنفی حدیث کے خلاف ہے؟ اصولِ کرخی کی عبارات کی اصل حقیقت

امام ابوالحسن الکرخیؒ کی کتاب اصول کرخی کی عبارت پر کیے جانے والے منکرینِ حدیث کے اعتراض کی اصل حقیقت دلائل کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام ابوالحسن الکرخیؒ (وفات: 340ھ) فقہ حنفی کے بہت بڑے اور معتبر ائمہ میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ مشہور محدث و فقیہ امام طحاویؒ کے زمانے کے ہیں اور انہوں نے امام طحاویؒ کے ہی اساتذہ اور شیوخ سے علم دین حاصل کیا ہے۔

مشہور عالم امام عبدالرحمن بن علی بن الجوزیؒ (وفات: 596ھ) نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام "مناقب معروف الکرخی واخبارہ” ہے، اس کتاب میں انہوں نے امام ابوالحسن الکرخیؒ کے اعلیٰ اوصاف اور مناقب کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

امام ابوالحسن الکرخیؒ نے اصولِ فقہ (قانونی قواعد) پر ایک مختصر کتاب لکھی ہے، جس میں انہوں نے فقہ کے چند بنیادی اور اہم قاعدے جمع کیے ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے دو باتیں ایسی لکھی ہیں جنہیں اوپر اوپر سے دیکھنے پر ایسا لگتا ہے کہ جیسے (نعوذ باللہ) قرآن کریم اور احادیثِ رسول ﷺ کی اہمیت کو کم کیا جا رہا ہو۔ اسی ظاہری لفظوں کی وجہ سے عام اور ناواقف لوگ، بلکہ بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی اس بات کی گہرائی اور اصل حقیقت کو سمجھے بغیر، اور اس پر غور و فکر کیے بغیر فوراً ہی طعن و تشنیع اور برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ کسی بات کو سمجھے اور اس کی سچائی معلوم کیے بغیر فوراً اعتراض کر دینا روایتی طور پر کم عقلی اور فہم کی کمی کی نشانی ہے۔ آئیے ہم اس عبارت کے اصل معنی اور مقصد کو گہرائی سے سمجھتے ہیں تاکہ پڑھنے والوں کی صحیح رہنمائی ہو سکے اور اصل سچائی سامنے آ جائے۔

اصولِ کرخی کی وہ عبارات جن پر اعتراض کیا جاتا ہے:

امام ابوالحسن الکرخیؒ اپنی کتاب "اصول الکرخی” میں لکھتے ہیں:

’’ان کل آیتہ تخالف قول اصحابنافانھاتحمل علی النسخ او علی الترجیح والاولی ان تحمل علی التاویل من جھۃ التوفیق‘‘۔

ترجمہ: ’’ہر وہ آیت جو ہمارے اصحاب (فقہائے احناف) کے فیصلے یا قول کے خلاف نظر آئے گی، تو اسے یا تو منسوخ (جس کا حکم بدل گیا ہو) مانا جائے گا یا پھر اسے دوسری آیت پر ترجیح دینے پر محمول کیا جائے گا، اور سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس آیت کے معنی میں ایسی تاویل (وضاحت) کی جائے جس سے دونوں باتوں میں تال میل اور مطابقت پیدا ہو جائے‘‘۔ (حوالہ: اصول البزدوی مع اصول الکرخی، صفحہ: 374)

آگے مزید لکھتے ہیں:

’’ان کل خبریجی بخلاف قول اصحابنا فانہ یحمل علی النسخ اواعلی انہ معارض بمثلہ ثم صارالی دلیل آخر اوترجیح فیہ بمایحتج بہ اصحابنامن وجوہ الترجیح اویحمل علی التوفیق، وانمایفعل ذلک علی حسب قیام الدلیل فان قامت دلالۃ النسخ یحمل علیہ وان قامت الدلالۃ علی غیرہ صرناالیہ‘‘۔

ترجمہ: ’’ہر وہ حدیث جو ہمارے اصحاب کے فیصلے کے خلاف آئے گی، تو وہ یا تو منسوخ سمجھی جائے گی، یا پھر وہ اپنے جیسی ہی کسی دوسری مضبوط حدیث کے آمنے سامنے (معارض) ہوگی جس کی وجہ سے کسی دوسری دلیل کی طرف جانا پڑا، یا پھر اس حدیث میں ترجیح کی کوئی ایسی وجہ ہوگی جس سے ہمارے اصحاب نے دلیل پکڑی ہے، یا پھر دونوں احادیث میں تال میل (تطبیق) پیدا کی جائے گی۔ اور یہ سب کچھ دلیل کی مضبوطی دیکھ کر کیا جائے گا۔ اگر دلیل سے یہ ثابت ہو کہ مخالف حدیث منسوخ ہو چکی ہے تو اسے منسوخ مانا جائے گا، اور اگر اس کے علاوہ کسی دوسری صورت پر مضبوط دلیل ملے گی تو اسی بات کو اپنایا جائے گا‘‘۔ (حوالہ: اصول البزدوی مع اصول الکرخی، صفحہ: 374)

یہی وہ تحریریں ہیں جن کی اصل حقیقت کو سمجھے بغیر آج کے ناواقف علماء اور جاہل لوگ فقہ حنفی پر ہر وقت اعتراض کرتے رہتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فقہ حنفی قرآن و حدیث کے خلاف ہے۔ ایسا اعتراض کرنے والے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جن کا پورا علم صرف اردو کی چند کتابوں اور کچھ عربی کتابوں کے اردو ترجموں تک ہی محدود ہے۔ ایسے لوگ اپنے اس تھوڑے سے علم اور عقل کو استعمال کرتے ہوئے کنویں کے مینڈک کی طرح بس یہی سوچتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے سمجھ لیا ہے وہی آخری سچ ہے اور اس کے علاوہ دوسرا کوئی بھی نقطہ نظر قبول کرنے کے لائق ہی نہیں ہے۔

امام کرخیؒ کے قول کا صحیح اور حقیقی مطلب کیا ہے؟

اس کا پورا جواب نیچے تفصیل اور واضح دلائل کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے:

کسی بھی انسان کی بات کا صحیح مطلب یا تو وہ خود سب سے بہتر سمجھا سکتا ہے یا پھر اس کے شاگردوں کی زبانی سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ شاگرد اپنے استاد کے مقصد اور سوچ سے دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ واقف ہوتے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ استاد نے جو بات کہی یا لکھی ہے، اس میں کون سی بات عام (مطلق) ہے اور کون سی خاص (مقید) ہے۔ کون سی بات بظاہر تو عام لگ رہی ہے لیکن اصل میں وہ کسی خاص صورت کے لیے ہے۔

امام کرخیؒ کے شاگردوں کے بھی شاگرد، یعنی ابوحفص عمر بن محمد النسفیؒ (وفات: 537ھ) جو اپنے گہرے علمی تبحر اور فہم کے لیے مشہور ہیں اور جن کی کتابیں فقہ حنفی کا بہت بڑا ذریعہ مانی جاتی ہیں، انہوں نے "اصولِ کرخی” کے ان قوانین اور اصولوں کی باقاعدہ تشریح کی ہے۔ ان کی اس تشریح سے امام کرخیؒ کی اس عبارت کا اصل اور سچّا مفہوم بالکل صاف ہو جاتا ہے۔ وہ ان تمام اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے مثالوں کے ساتھ لکھتے ہیں:

پہلی مثال (آیت کی تاویل، نسخ اور ترجیح کے بارے میں):

امام نسفیؒ فرماتے ہیں کہ اس اصول کے مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص پر سفر یا اندھیرے میں قبلہ کی سمت چھپ جائے (پتہ نہ چلے) اور وہ خوب سوچ بچار اور کوشش (تحری) کے بعد ایک طرف رخ کر کے نماز پڑھ لے، اور اتفاق سے اس کی پیٹھ کعبہ کی طرف ہو جائے، تو ہمارے (احناف کے) نزدیک اس کی نماز ہو جائے گی۔ اگرچہ قرآن کی آیت کا ظاہر یہ کہتا ہے کہ "اپنے چہرے کعبہ کی طرف پھیرو”، لیکن ہمارے نزدیک اس آیت کی تاویل (معنی) یہ ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب تمہیں قبلہ کا علم ہو، اور جب سمت چھپ جائے تو خوب سوچ بچار کے بعد جس طرف بھی تمہارا گمان غالب ہو، وہی تمہارا قبلہ ہے۔

یا پھر آیت کو منسوخ سمجھا جائے گا جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "ولرسولہ ولذی القربی…” اس آیت سے بظاہر ثابت ہوتا ہے کہ مالِ غنیمت میں رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ داروں کا حصہ ہمیشہ رہے گا، لیکن ہم (احناف) کہتے ہیں کہ یہ حکم صحابہ کرامؓ کے اجماع (سب کی متفقہ رائے) سے منسوخ ہو چکا ہے۔

آیت کو ترجیح دینے کی مثال یہ ہے کہ قرآن کی آیت "والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا…” کا بظاہر تقاضا یہ ہے کہ جس حاملہ عورت کا شوہر فوت ہو جائے، اس کی عدت بچے کی پیدائش سے ختم نہیں ہوگی بلکہ اسے پورے چار مہینے دس دن ہی گزارنے ہوں گے، کیونکہ یہ آیت ہر فوت ہونے والے شوہر کی بیوی کے لیے عام ہے، چاہے وہ حاملہ ہو یا نہ ہو۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا دوسرا ارشاد ہے: "اولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن…” (حاملہ عورتوں کی عدت بچے کی پیدائش ہے) اس کا تقاضا یہ ہے کہ بچے کی پیدائش ہوتے ہی عورت کی عدت ختم ہو جائے گی، چاہے چار مہینے دس دن پورے ہوئے ہوں یا نہ ہوں۔ یہ آیت بھی عام ہے چاہے شوہر مرا ہو یا طلاق ہوئی ہو۔ لیکن ہم نے اس دوسری آیت کو اس لیے ترجیح دی کیونکہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا قول موجود ہے کہ یہ حاملہ والی آیت، پہلی آیت (چار ماہ دس دن والی) کے بعد نازل ہوئی ہے، اس لیے اس نے پہلی آیت کے حکم کو بدل (منسوخ کر) دیا ہے۔ جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے احتیاط اور تاریخ کے اشتباہ کی وجہ سے دونوں میں جمع کی صورت اختیار فرمائی (کہ جو مدت لمبی ہو وہ عدت مانی جائے)۔ (حوالہ: المصدر السابق)

دوسری مثال (حدیث کے نسخ، معارضہ اور تاویل کے بارے میں):

امام نسفیؒ آگے تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اسی اصول کی مثال یہ ہے کہ امام شافعیؒ فجر کی فرض نماز پڑھنے کے بعد اور سورج نکلنے سے پہلے فجر کی چوٹی ہوئی سنتیں پڑھنے کو جائز کہتے ہیں۔ ان کی دلیل حضرت قیس بن عمرو (عیسیٰ)ؓ سے منقول وہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فجر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا پڑھ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ فجر کی دو سنتیں ہیں جو میں پہلے نہیں پڑھ سکا تھا، تو آپ ﷺ نے یہ سن کر خاموشی اختیار فرمائی۔

میں (امام نسفی) کہتا ہوں کہ یہ حدیث نبی کریم ﷺ کے اس دوسرے عام اور واضح ارشاد سے منسوخ (بدل) چکی ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: "فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے”۔

احادیث کے آمنے سامنے آنے (معارضہ) کی مثال یہ ہے کہ حضرت انسؓ کی ایک حدیث ہے کہ آپ ﷺ فجر کی نماز میں ہمیشہ قنوت پڑھتے رہے یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یہ حدیث حضرت انسؓ ہی کی دوسری روایت کے بالکل سامنے آ جاتی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے صرف ایک مہینہ فجر میں قنوت پڑھی پھر اسے چھوڑ دیا۔ جب ایک ہی صحابی کی یہ دو روایتیں آپس میں ٹکرا گئیں تو یہ دونوں گر گئیں (ساقط ہو گئیں)۔ تو ہمارے پاس اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور دیگر صحابہ کی حدیث بچی کہ آپ ﷺ نے دو مہینے فجر کی نماز میں قنوتِ نازلہ پڑھی تھی جس میں عرب کے کافر قبیلوں کے لیے بددعا تھی، پھر آپ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔

اور حدیث میں تاویل (تطبیق) کی مثال یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ سے منقول ہے کہ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو "سمع اللہ لمن حمدہ، ربنا لک الحمد” دونوں کہتے تھے۔ یہ امام اور اکیلے نماز پڑھنے والے دونوں کے لیے ذکر کو جمع کرنے کی دلیل بنتی ہے۔ لیکن پھر آپ ﷺ سے یہ بھی منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم (مقتدی) ربنا لک الحمد کہو”۔ اب تقسیم کرنا تو شرکت کے خلاف ہے۔ تو ان دونوں احادیث میں تال میل اس تاویل کے ذریعے دیا جائے گا کہ دونوں ذکر (سمع اللہ اور ربنا لک الحمد) ایک ساتھ کہنا اکیلے نماز پڑھنے والے (منفرد) کے لیے ہے، اور تقسیم اس وقت ہوگی جب باجماعت نماز ہو رہی ہو (یعنی امام ایک جملہ کہے اور مقتدی دوسرا)۔ امام ابوحنیفہؒ سے بھی یہی منقول ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ دونوں کو جمع کرنا نفل نماز پڑھنے والے کے لیے ہے اور الگ الگ کہنا فرض نماز پڑھنے والوں کے لیے ہے۔ (حوالہ: المصدر السابق)

امام کرخیؒ کے اس قانون کا سچا اور صحیح مطلب امام نسفیؒ کی اس تشریح سے اتنا صاف اور واضح ہو جاتا ہے کہ کوئی بھی سمجھ سکتا ہے کہ امام کرخیؒ کا ظاہری مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اگر قرآن کی کوئی آیت یا حدیث سامنے ہو تو اس کے مقابلے میں صرف امام ابوحنیفہؒ کا قول ہی کافی سمجھ کر حدیث کو چھوڑ دیا جائے گا۔ بلکہ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امام کرخیؒ کا اصل مقصد یہ بتانا ہے کہ ائمہ احناف نے اگر قرآن پاک کی کسی آیت کے ظاہر کو ترک کیا ہے یا کسی حدیث پر عمل نہیں کیا، تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کی علمی تحقیق میں قرآن کی وہ آیت منسوخ ہو چکی تھی یا وہ اپنے ظاہری معنی پر نہیں تھی، جس کی گواہی دوسری آیات یا احادیث سے ملتی ہے۔ ائمہ احناف نے کسی بھی مسئلے میں جو راستہ بھی اختیار کیا ہے، اس کے لیے ان کے پاس قرآن و حدیث کے پکے دلائل موجود ہیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ اتنی وضاحت کے بعد کسی بھی عقل مند انسان کو بات سمجھنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔

امام کرخیؒ کی یہ بات کہ اگر ائمہ احناف نے کسی آیت یا حدیث کے ظاہر کو چھوڑا ہے تو اس لیے کہ یا تو وہ منسوخ ہے، یا اس کے سامنے دوسری حدیث موجود ہے، یا وہ اپنے ظاہری معنی پر نہیں ہے؛ اس کی ایسی درجنوں مثالیں دی جا سکتی ہیں جن میں قرآن و حدیث کے بالکل صاف الفاظ موجود ہونے کے باوجود تمام بڑے بڑے ائمہ کرام نے ان آیات و احادیث کے ظاہری معنی کو چھوڑ کر ان کی تاویلات (دوسرے معنی) کی ہیں۔ ان میں سے چند مثالیں نیچے پیش خدمت ہیں:

پہلی حدیث:

’’حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ "‏إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلاَةِ‏”‘‘۔

ترجمہ: ’’آدمی اور کفر و شرک کے درمیان فرق صرف نماز چھوڑنے کا ہے‘‘۔ (حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلاۃ، جلد 1، حدیث نمبر: 153)

دوسری حدیث:

’’ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "‏إِنَّ الْعَهْدَ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلاَةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ”‘‘۔

ترجمہ: ’’ہمارے اور ان کے درمیان بنیادی عہد نماز ہے، پس جس نے نماز چھوڑی، اس نے کفر کیا‘‘۔ (حوالہ: سنن النسائی، کتاب الصلاۃ، باب الحکم فی تارک الصلاۃ، جلد 1، حدیث نمبر: 464)

اوپر دی گئی احادیث میں نبی کریم ﷺ کا بالکل صاف اور واضح فیصلہ موجود ہے کہ فرض نماز چھوڑنے والا کافر ہے، چاہے وہ جان بوجھ کر چھوڑے یا سستی اور غفلت کی وجہ سے۔ اس کے باوجود بھی، آج دنیا کے تقریباً تمام مسالک اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، نماز چھوڑنے والے (تارکِ نماز) کو کافر نہیں بلکہ مسلمان ہی مانتے ہیں۔ ایسے شخص کا نکاح بھی پڑھایا جاتا ہے، مرنے پر اس کا جنازہ بھی پڑھا جاتا ہے، اسے مسلمانوں کے قبرستان میں ہی دفن کیا جاتا ہے اور اس کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کھانا بھی حلال سمجھا جاتا ہے۔

آج کے اس پرفتن دور میں تقریباً ہر مسلک میں ایسے لوگ بہت بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں جو صرف جمعہ، عیدین یا پھر صرف رمضان میں نمازیں پڑھتے ہیں، تو کیا ان تمام لوگوں کو کافر کہا جاتا ہے؟ ہرگز نہیں۔

تیسری حدیث:

’’حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الأَعْمَالِ تَرْكُهُ كُفْرٌ غَيْرَ الصَّلاَةِ‘‘۔

ترجمہ: ’’رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرامؓ نماز کے علاوہ اور کسی بھی عمل کے چھوڑنے کو کفر نہیں سمجھتے تھے‘‘۔ (حوالہ: جامع الترمذی، کتاب الایمان، باب ما جاء فی ترک الصلاۃ، جلد 5، حدیث نمبر: 2622)

اس اوپر دی گئی حدیث سے یہ بات پکی ثابت ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے اتنے واضح الفاظ کے باوجود بھی تمام صحابہ کرامؓ نماز چھوڑنے والے کو دائرہ اسلام سے خارج (کافر) نہیں سمجھتے تھے۔ تو کیا کوئی بھی مسلمان یہ کہنے کی ہمت کر سکتا ہے کہ (نعوذ باللہ) تمام صحابہ کرامؓ نے نبی کریم ﷺ کے فرمان کی مخالفت کی تھی؟ بالکل نہیں! کیونکہ تمام صحابہ کرامؓ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کا اصل اور حقیقی مطلب جانتے تھے، اسی لیے انہوں نے تارکِ نماز کو کافر نہیں سمجھا۔

امام کرخیؒ کی عبارت کا صحیح معنی اور مفہوم بھی بالکل یہی ہے کہ جس طرح صحابہ کرامؓ نے نبی کریم ﷺ کے واضح فرمان کو اس کے ظاہری لفظوں پر محمول نہیں کیا، بالکل اسی طرح ائمہ احناف نے بھی بعض آیات اور احادیث کو ان کے ظاہری لفظوں پر محمول نہیں سمجھا بلکہ ان کی اصل مراد کو دیکھا ہے۔

یہاں یہ بات بالکل صاف ہو گئی کہ امام کرخیؒ کی بات کا جو مقصد اور منشا ہے وہ اپنی جگہ سو فیصد درست ہے اور یہی بات ہر دور میں بڑے بڑے جلیل القدر علماء نے ائمہ کرام کی طرف سے کہی ہے۔ چاہے وہ امام ابن تیمیہؒ ہوں یا پھر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ۔

اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ امام ابن تیمیہؒ نے ائمہ کے دفاع میں "رفع الملام عن ائمۃ الاعلام” کے نام سے ایک پوری کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب میں وہ ائمہ کرام کے کسی حدیث یا قرآنی حکم کے بظاہر خلاف جانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’الأسباب التي دعت العلماء إلى مخالفة بعض النصوص، وجميع الأعذار ثلاثة أصناف‏:‏ أحدها‏:‏ عدم اعتقاده أن النبي صلى الله عليه وسلم قاله۔‏ الثاني‏:‏ عدم اعتقاده إرادة تلك المسألة ذلك القول۔‏ الثالث‏:‏ اعتقاده أن ذلك الحكم منسوخ۔‏ وهذه الأصناف الثلاثة تتفرع إلى أسباب متعددة‘‘۔

ترجمہ: ’’وہ تمام اسباب جن کی وجہ سے ائمہ کرام کا عمل بظاہر کسی حدیث یا نص کے خلاف نظر آتا ہے، ان کے تمام عذر بنیادی طور پر تین قسم کے ہو سکتے ہیں: پہلا عذر یہ کہ انہیں یہ یقین نہ ہو کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ایسا فرمایا بھی ہے (یعنی حدیث کے ثابت ہونے کا اختلاف)۔ دوسرا عذر یہ کہ ان کی نظر میں آپ ﷺ کی اس بات کا وہ مقصد اور مراد ہی نہ ہو جو دوسرے لوگ اس حدیث سے نکال رہے ہیں (یعنی حدیث کے سمجھنے کا اختلاف)۔ تیسرا عذر یہ کہ وہ یہ سمجھتے ہوں کہ حدیث سچی اور ثابت بھی ہے اور اس کا مطلب بھی وہی ہے، لیکن اب یہ حکم بعد کے کسی حکم سے منسوخ (بدل) ہو چکا ہے (یعنی حدیث پر عمل کرنے کا اختلاف)۔ اور ان تینوں بڑے عذروں کے آگے بہت سے ذیلی اسباب بنتے ہیں‘‘۔ (حوالہ: رفع الملام عن ائمۃ الاعلام، صفحہ: 9)

اس کے بعد امام ابن تیمیہؒ نے ان تینوں عذروں کی تفصیل لکھی ہے اور اس تشریح کے دوران وہ لکھتے ہیں:

’’السبب التاسع:‏ اعتقاده أن الحديث معارض بما يدل على ضعفه، أو نسخه، أو تأويله إن كان قابلا للتأويل بما يصلح أن يكون معارضا بالاتفاق مثل آية أو حديث آخر أو مثل إجماع‘‘۔

ترجمہ: ’’نواں سبب یہ ہے کہ امام کا یہ گمان ہو کہ یہ حدیث کسی ایسی دوسری دلیل کے سامنے آ گئی ہے جو اس حدیث کے کمزور ہونے، منسوخ ہونے یا اس کے معنی بدلنے (تاویل) پر دلالت کرتی ہے، بشرطیکہ وہ حدیث تاویل کے قابل ہو؛ اور وہ سامنے آنے والی دلیل کوئی ایسی چیز ہو جس کے مضبوط ہونے پر سب کا اتفاق ہو جیسے کوئی دوسری قرآنی آیت، دوسری حدیث یا پھر اجماعِ امت‘‘۔ (حوالہ: رفع الملام عن ائمۃ الاعلام، صفحہ: 30)

ابن تیمیہؒ کی بیان کردہ اس تشریح کو غور سے پڑھیے اور دیکھیے کہ امام کرخیؒ کے بیان میں اور امام ابن تیمیہؒ کے بیان میں کتنی گہری اور زبردست مطابقت ہے۔ امام کرخیؒ کی بات اور ابن تیمیہؒ کی بات میں کوئی فرق نہیں ہے، اور اگر کوئی معمولی فرق ہے تو وہ صرف اندازِ بیان اور الفاظ کے اسلوب کا ہے۔

امام کرخیؒ کا اندازِ بیان نفی والا (Negative Style) ہے یعنی: "ہر وہ آیت یا حدیث جو ہمارے اصحاب کے قول کے خلاف نظر آئے…”، جبکہ امام ابن تیمیہؒ کا اندازِ بیان اثبات والا (Positive Style) ہے۔ یعنی: "اگر کسی امام نے کسی حدیث پر عمل چھوڑا ہے تو اس کی وجہ اس کا منسوخ ہونا یا دوسری حدیث کے سامنے آنا ہے…”۔ اس اندازِ بیان کے فرق کے علاوہ اگر آپ مزید گہرائی سے دیکھیں اور پرکھیں تو دونوں باتوں کے مقصد میں آپ کو ذرہ برابر بھی فرق نہیں ملے گا۔

امام کرخیؒ کے بیان کردہ اس قاعدے کا ایک اور اہم مطلب یہ نکلتا ہے کہ انہوں نے اپنی اس تحریر میں لفظ "ہمارے اصحاب” استعمال کیا ہے، امام ابوحنیفہؒ کا نام خاص طور پر اکیلے نہیں لیا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایسا ہونا ناممکن ہے یا بہت ہی نایاب بات ہے کہ ائمہ احناف میں سے امام ابوحنیفہؒ، امام ابویوسفؒ، امام محمدؒ، امام زفرؒ اور اسی طرح کے تمام متقدمین ائمہ کے ائمہ، سب کے سب کسی ایسے فیصلے پر متفق ہو جائیں جس کے پیچھے قرآن و حدیث کی کوئی بھی دلیل موجود نہ ہو۔ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔

(حوالے اور مزید تفصیل کے لیے نیچے لنک پر کلک کریں)

DOWNLOAD PDF SCAN

rizvibhai69@gmail.com

View Comments

Recent Posts

فرقہ غیرمقلدین (نام نہاداہل حدیث وہابیہ) کی گمشدہ اور یتیم اسناد کاعلمی تعاقب

 فرقہ غیرمقلدین (نام نہاداہل حدیث وہابیہ) کی گمشدہ اور یتیم اسناد کاعلمی تعاقب فرقہ غیرمقلدین…

9 گھنٹے ago

جادو کہتے کس کو ہیں اور یہ ہوتا کیسے ہے ؟

    جادو ایک معروف نام ہے جو ہر معاشرے میں بخوبی جانا جاتا ہے…

9 گھنٹے ago

مرسل اتباع تابعی روایات اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں ہیں۔ تحقیق۔۔اقبال رضوی بھائی

مرسل اتباع تابعی روایات اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں ہیں۔ تحقیق۔۔اقبال رضوی بھائیکچھ شیعہ…

9 گھنٹے ago

شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ | Shan e Hazrat Abu Bakr Siddeeq سورہ توبہ 40

 شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ❤تفسیر❤{اِلَّا تَنْصُرُوْهُ:اگر تم اس (نبی) کی مدد نہیں کرو گے۔}اس…

9 گھنٹے ago

طب نبوی سے علاج: شہد اور قرآن سے شفاء

طب نبوی سے علاج: شہد اور قرآن سے شفاء اسلام نے انسان کی جسمانی، روحانی…

9 گھنٹے ago

سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ

سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تاریخی اعتراضات کا علمی جائزہ…

3 ہفتے ago