حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو بلا کر شہید کرنے والے کون؟
محترم قارئینِ کرام! شیعہ مکتبہ فکر کی کتب کے مطابق، کوفہ کے تمام لوگ شیعہ تھے اور وہ تعداد اور طاقت کے لحاظ سے بہت مضبوط تھے۔ ایک روایت کے مطابق چالیس ہزار اور دوسری روایت کے مطابق تقریباً ایک لاکھ شیعوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی بیعت کا عزم ظاہر کیا۔ ہزاروں کوفی شیعوں نے آپ کو خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی، جس پر امام عالی مقام نے جوابی خطوط ارسال فرمائے اور جلد کوفہ پہنچنے کی خوشخبری دی۔
شیعہ کتب سے بیعت اور خطوط کے ثبوت
- بحار الانوار (44/337): کوفیوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ہم ایک لاکھ کی تعداد میں آپ کے ساتھ ہیں۔ شعبی کی روایت کے مطابق، چالیس ہزار کوفیوں نے آپ کی بیعت کی۔
- اعیان الشیعہ (جلد 1، البحث الثالث، صفحہ 26): اہلِ عراق میں سے بیس ہزار لوگوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی بیعت کی، لیکن پھر انہوں نے دھوکہ دیا، بیعت کا عہد گردنوں میں ہونے کے باوجود آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور آپ کو شہید کر دیا۔
- اعیان الشیعہ (جلد 1، صفحہ 589): حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اٹھارہ ہزار کوفیوں نے بیعت کی، جس پر انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ تمام کوفہ والے آپ کے ساتھ ہیں اور اٹھارہ ہزار بیعت کر چکے ہیں، لہٰذا خط ملتے ہی جلدی تشریف لائیں۔
- ناسخ التواریخ (جلد 2، صفحہ 262): کوفیوں کی طرف سے لگاتار اتنے خطوط آئے کہ مختلف اوقات میں ان کی کل تعداد بارہ ہزار تک پہنچ گئی۔
- مقتلِ ابی مخنف و قیامِ مختار (صفحہ 52): حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے امام حسین رضی اللہ عنہ سے کہا: "اے چچا زاد بھائی! آپ ایسے لوگوں کی طرف جا رہے ہیں جنہوں نے آپ کے والد کو شہید کیا اور بھائی کو دھوکہ دیا۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ آپ کے ساتھ بھی غداری کریں گے، میں آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ وہاں نہ جائیں۔” لیکن امام حسین رضی اللہ عنہ اس بات پر راضی نہ ہوئے اور عبداللہ بن زبیر سے فرمایا کہ کوفہ کے بزرگوں اور شیعوں نے مجھے خط لکھ کر وہاں آنے کی درخواست کی ہے۔ یہ سن کر عبداللہ بن زبیر وہاں سے چلے گئے۔
اس سے معلوم ہوا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھ کر کوفہ بلانے والے اور پھر دھوکہ دینے والے کوفی ہی تھے۔
شیعوں کے ہاتھوں اہل بیت کا قتل اور ائمہ کے بیانات
- روضۃ الکافی (کتاب الروضہ، جلد 8، صفحہ 140): رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "یہ تمہارے شیعہ ہیں، لہٰذا اپنی اولاد کو ان سے بچانا کہ یہ تمہاری اولاد کو قتل کریں گے۔”
- نفس المہموم (صفحہ 357): حضرت امام علی بن حسین (امام زین العابدین) رضی اللہ عنہما نے جب کوفہ کے لوگوں کو ماتم اور چیخ و پکار کرتے دیکھا تو فرمایا: "تم ہم پر روتے اور ماتم کرتے ہو، تو پھر ہمیں قتل کس نے کیا ہے؟”
دعوتِ کوفہ پر امام حسین رضی اللہ عنہ کا جواب
- اعیان الشیعہ (جلد 1، صفحہ 589): امام حسین رضی اللہ عنہ نے کوفیوں کو لکھا: "یہ خط حسین بن علی کا مومنوں، مسلمانوں اور شیعوں کے نام ہے۔ ہانی اور سعید تمہارے بے شمار خطوط لے کر میرے پاس آئے۔ میں تمہارے پیغامات سے واقف ہوا کہ تمہارا کوئی امام نہیں ہے اور تم نے مجھے بلایا ہے۔ میں اپنے بھائی، چچا زاد اور قابلِ اعتماد شخصیت مسلم بن عقیل کو بھیج رہا ہوں۔ اگر انہوں نے مجھے لکھا کہ تمہارے عقلمندوں اور بزرگوں کی رائے بھی وہی ہے جو خطوط میں ہے، تو میں ان شاء اللہ بہت جلد پہنچ جاؤں گا۔”
- ناسخ التواریخ (جلد 2، صفحہ 266): ایک ہی دن میں اٹھارہ ہزار کوفیوں نے حضرت مسلم رضی اللہ عنہ کی بیعت کی، جس پر انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو جلدی آنے کا خط لکھا۔
یزیدی حکومت کی دھمکیاں اور کوفیوں کی غداری
ابن زیاد کی دھمکیوں اور اموی حکومت کے لالچ میں آ کر کوفیوں نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ سے غداری کی، جس کا احوال حضرت مسلم نے امام حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچانے کی وصیت کی۔
- ناسخ التواریخ (جلد 2، صفحہ 273، 274): ابن زیاد نے دھمکی دی کہ جو بھی بغاوت کرے گا، اس کا خون اور مال ہمارے لیے حلال ہوگا۔ یہ سن کر کوفی ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی بیعت توڑ دی۔
- مقتل الحسین (صفحہ 45): ابن زیاد کی دھمکی کے بعد کوفی شیعہ اس طرح منتشر ہوئے کہ مغرب کی نماز کے وقت مسجد میں حضرت مسلم رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف 30 افراد باقی رہ گئے۔
- الارشاد (جلد 2، صفحہ 55): شام کے بعد حضرت مسلم رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک بھی کوفی نہ رہا اور سب نے انہیں گھروں سے نکال دیا۔ آپ نے ایک انجان عورت کے گھر پناہ لی اور فرمایا: "میں مسلم بن عقیل ہوں، ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا، دھوکہ دیا اور در بدر کر دیا۔”
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی آخری وصیت
- ناسخ التواریخ / ابصار العین (صفحہ 83): حضرت مسلم رضی اللہ عنہ نے محمد بن اشعث سے وصیت کی کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیجیں جو انہیں کہے: "اہلِ بیت سمیت واپس لوٹ جائیں اور کوفیوں کے دھوکے میں نہ آئیں؛ یہ آپ کے والد کے وہی لوگ ہیں جن سے جدائی کی تمنا انہوں نے موت کے ذریعے کی تھی۔ کوفیوں نے آپ کو اور مجھے جھٹلا دیا ہے۔”
کربلا میں امام حسین رضی اللہ عنہ کا کوفیوں سے خطاب
جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا کے قریب حضرت مسلم رضی اللہ عنہ کی شہادت اور کوفیوں کی بے وفائی کا پتہ چلا تو آپ نے فرمایا:
- موسوعہ کلمات الامام الحسین (صفحہ 422): "ہمارے شیعوں (حامیوں) نے ہمیں رسوا کیا اور دھوکہ دیا۔”
- موسوعہ کلمات الامام الحسین (صفحہ 483): "میں تو یہ سمجھ کر آ رہا تھا کہ انہوں نے دل و زبان سے بیعت کی ہے، لیکن معاملہ الٹ نکلا۔ ان پر شیطان غالب آ چکا ہے اور اب ان کا مقصد صرف مجھے اور میرے ساتھیوں کو قتل کرنا ہے۔”
یزیدی لشکر کی حقیقت: تمام کے تمام کوفی تھے
شیعہ کتب کے مطابق، امام حسین رضی اللہ عنہ کے مدمقابل جو یزیدی لشکر تھا، اس میں کوئی شامی یا حجازی نہیں تھا، بلکہ وہ سب کوفی ہی تھے جنہوں نے خطوط لکھ کر بلایا تھا۔
- ناسخ التواریخ (فارسی جلد 2، صفحہ 183 / جلد 6، کتاب 2، صفحہ 174): ابو مخنف کے مطابق ابن زیاد کا لشکر 80 ہزار سواروں پر مشتمل تھا اور وہ سب کے سب کوفی تھے۔ ان میں کوئی شامی یا حجازی نہیں تھا۔
- مرقع کربلا (صفحہ 20): لشکرِ ابن زیاد میں 80 ہزار کوفی سوار تھے، کوئی شامی یا حجازی شامل نہیں تھا۔
- جلاء العیون (جلد 2، صفحہ 453): علامہ مجلسی کے مطابق امام حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا میں ظہر کے وقت لشکرِ ابن زیاد کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا: "اے لوگو! میں خود نہیں آیا بلکہ تمہارے متواتر خطوط اور قاصدوں کے بلانے پر آیا ہوں۔ اگر تم اپنے عہد پر قائم ہو تو میں مطمئن ہو جاؤں، اور اگر بیزار ہو تو مجھے اپنے وطن واپس جانے دو۔”
- ناسخ التواریخ (جلد 6، کتاب 2، صفحہ 175): آپ نے لشکر کے قاصد قرہ بن قیس سے فرمایا کہ تمہارے شہر والوں نے اصرار کر کے بلایا تھا، اگر اب منظور نہیں تو مجھے واپس جانے دو۔
- ناسخ التواریخ (جلد 6، کتاب 2، صفحہ 159): ایک عراقی مسافر سے امام حسین رضی اللہ عنہ نے خطوط دکھاتے ہوئے فرمایا: "بنو امیہ نے مجھے قتل کی دھمکی دی اور کوفہ والوں نے مجھے بلایا، یہ ان کے خطوط ہیں، حالانکہ میرے اصل قاتل یہی لوگ ہیں۔”
- جلاء العیون (صفحہ 220): دوسرے دن عمر بن سعد چار ہزار منافقین کے ساتھ کربلا پہنچا، یہ اکثر وہی لوگ تھے جنہوں نے خطوط لکھ کر آپ کو عراق بلایا تھا۔
- فی رحاب ائمۃ اہلبیت (جلد 1، صفحہ 9): قاتلِ حسین ‘شمر ذی الجوشن’ اور شبث بن ربعی پکے کوفی تھے، جو جنگِ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑے تھے، مگر کربلا کے دن غدار بن کر امام حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑے۔
- ناسخ التواریخ (جلد 6، کتاب 2، صفحہ 166 بحوالہ نور العین): حضرت سکینہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ رو رہے تھے اور اصحاب سے فرما رہے تھے کہ جن لوگوں نے دل و زبان سے بیعت کی تھی، اب شیطان کے بہکاوے میں آ کر خدا کو بھول چکے ہیں اور ان کا مقصد صرف میرا اور میرے ساتھیوں کا قتل ہے۔
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا تاریخی بیان
- جلاء العیون (جلد 1، صفحہ 379): حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی مکاریوں سے دل برداشتہ ہو کر فرمایا تھا: "خدا کی قسم! میرے لیے اس جماعت سے معاویہ (رضی اللہ عنہ) بہتر ہے۔ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم شیعہ ہیں، لیکن انہوں نے میرا قتل کرنا چاہا اور میرا مال لوٹ لیا۔ اگر میں معاویہ سے صلح کر کے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جان بچا لوں تو وہ اس سے بہتر ہے کہ یہ لوگ مجھے قتل کر دیں اور میرے اہل و عیال ضائع ہو جائیں۔ خدا کی قسم! اگر میں معاویہ سے جنگ کرتا، تو یہی لوگ مجھے پکڑ کر معاویہ کے حوالے کر دیتے۔”
اہل بیت اطہار کے خطبات اور کوفیوں کی مذمت
امام حسین رضی اللہ عنہ نے شہادت سے قبل نوحہ اور ماتم کرنے سے سختی سے منع فرمایا تھا:
- بحار الانوار (45/3): آپ نے فرمایا: "جب میں شہید ہو جاؤں تو اپنے کپڑے مت پھاڑنا، چہرہ زخمی نہ کرنا اور ہائے مصیبت کہہ کر نوحہ و ماتم مت کرنا۔”
کربلا کے بعد جب اسیرانِ اہل بیت کو کوفہ لایا گیا، تو کوفیوں کے رونے پر اہل بیت نے سخت خطبات دیے۔
- جلاء العیون (جلد 2، صفحہ 503-504) / ناسخ التواریخ (جلد 6، کتاب 2، صفحہ 243): حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا: "اے اہل کوفہ! اے مکارو اور غدارو! تم ہم پر روتے ہو حالانکہ تم ہی نے ہمیں قتل کیا ہے۔ تمہارا عیب کبھی نہیں دھل سکتا۔ تم نے رسول اللہ ﷺ کے جگر گوشے کو قتل کیا، تم پر وائے ہو!”
- جلاء العیون (جلد 2، صفحہ 505): حضرت سیدہ فاطمہ بنتِ حسین رضی اللہ عنہا نے بھی کوفیوں کو لعن طعن کی، جس پر کوفیوں نے رو کر کہا کہ ہمارے دل جل گئے ہیں، اب خاموش ہو جائیں۔
- جلاء العیون (جلد 2، صفحہ 505-506) / ناسخ التواریخ (جلد 6، کتاب 2، صفحہ 246): حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے ہودج سے فرمایا: "اے اہل کوفہ! تمہارا منہ سیاہ ہو، تم نے میرے بھائی کو بلا کر مدد کیوں نہ کی؟ انہیں قتل کیا اور ان کا مال لوٹ لیا۔” یہ سن کر کوفی عورتوں نے بال کھول لیے اور منہ پر طمانچے مارنے لگیں، ایسا ماتم برپا ہوا جو پہلے کبھی نہ دیکھا گیا تھا۔
- جلاء العیون (جلد 2، صفحہ 506-507): حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نے میرے والد کو خطوط لکھ کر فریب نہیں دیا اور بیعت کر کے ان سے جنگ نہ کی؟ تم پر ہلاکت ہو! تم کس منہ سے رسول اللہ ﷺ کا سامنا کرو گے؟” جب لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کے فرمانبردار ہیں، تو آپ نے فرمایا: "ہیہات! اے غدارو مکارو! میں تمہارے جھوٹے قول و قرار پر بھروسا نہیں کر سکتا، ابھی ہمارے دل کے زخم تازہ ہیں۔”
- ناسخ التواریخ (جلد 6، کتاب 2، صفحہ 243): امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے کمزور آواز میں فرمایا: "تم ہم پر نوحہ اور ماتم کرتے ہو، تو پھر ہمیں قتل کس نے کیا ہے؟”
- جلاء العیون (جلد 2، صفحہ 507) / ناسخ التواریخ (جلد 6، کتاب 2، صفحہ 248): حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے روتی ہوئی عورتوں سے کہا: "اے زنانِ کوفہ! تمہارے مردوں نے ہمارے مردوں کو قتل کیا اور ہمیں قیدی بنایا، پھر تم کیوں روتی ہو؟ قیامت کے دن خدا ہمارا اور تمہارا فیصلہ کرے گا۔”
ان تقاریر سے دو باتیں ثابت ہیں:
- امام حسین رضی اللہ عنہ کے قاتل وہی کوفی تھے جنہوں نے آپ کو بلا کر بیعت کی تھی۔
- سب سے پہلے ماتم کرنے والے خود یہی کوفی قاتل تھے، جبکہ اہل بیت نے ماتم اور چیخ و پکار کو سخت ناپسند فرمایا۔ (ایسا ہی مواد ناسخ التواریخ جلد 3، صفحہ 32 پر بھی موجود ہے)۔
کوفہ کی تاریخی حیثیت اور صحابہ کرام کا ردعمل
اگر لاکھوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کچھ کی اولادیں نافرمان نکلیں تو اس سے صحابہ کی شان پر کوئی حرف نہیں آتا، جیسے حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا نافرمان تھا۔
- مجالس المومنین (مجلس اول، صفحہ 35): اہلِ کوفہ کا شیعہ ہونا ایک ثابت شدہ حقیقت ہے، کسی کوفی کو سنی ثابت کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔
- مجالس المومنین (مجلس اول، صفحہ 36): حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ خدا کا حرم ہے، مدینہ رسول اللہ ﷺ کا حرم ہے اور کوفہ امیر المومنین (حضرت علی) کا حرم ہے۔
- جلاء العیون (جلد 1، صفحہ 227): کوفہ وہ زمین ہے جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت کو ابتدائے آفرینش سے قبول کیا تھا۔
- ناسخ التواریخ (جلد 6، کتاب 2، صفحہ 130): سلیمان بن صرد خزاعی نے کوفیوں کو مخاطب کر کے کہا تھا: "تم امام حسین اور ان کے والد حضرت علی کے شیعہ ہو”۔
واقعہ حرہ: مدینہ منورہ کے صحابہ کی قربانی
جب مدینہ منورہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو معلوم ہوا کہ کوفیوں نے غداری کر کے امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ہے، تو انہوں نے یزید کی بیعت توڑ دی اور اس کے سخت مخالف ہو گئے۔ یزید نے مدینہ پر لشکر بھیجا جس نے صحابہ اور ان کی اولاد کا قتلِ عام کیا، جسے واقعہ حرہ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کوفیوں کی طرح غداری نہیں کی بلکہ حق پر جانیں قربان کر دیں۔
- مقتل الحسین (جلد 1، صفحہ 81): تمام مورخین کا اجماع ہے کہ واقعہ حرہ میں شامی فوج نے صحابہ اور ابناءِ مہاجرین و انصار کی ایک بہت بڑی تعداد کو شہید کیا۔
- بہج الصباغہ شرح نہج البلاغہ (صفحہ 20): واقعہ حرہ کے دن قریش، انصار، مہاجرین صحابہ اور معزز لوگوں میں سے 1700 (ایک ہزار سات سو) افراد شہید ہوئے۔
ایک اعتراض کا جواب
اعتراض: صحابہ کرام اور ان کی اولادیں کربلا کے بعد تو یزید کے خلاف نکلیں، مگر کربلا سے پہلے امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیوں نہ گئیں؟
جواب: واضح رہے کہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ جنگ کے ارادے سے نہیں نکلے تھے کہ اہل مکہ یا اہل مدینہ عسکری طور پر ساتھ جاتے۔ آپ کوفیوں کے کثیر خطوط اور دعوت پر بیعت لینے اور کوفہ کو مرکز بنانے کے لیے اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت فرما رہے تھے۔ اس لیے مدینہ کے لوگ اس وقت ساتھ نہیں گئے تھے، مگر شہادت کی خبر ملتے ہی انہوں نے یزید کے خلاف تاریخی مزاحمت کی اور اپنی جانیں قربان کیں۔