حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت 

DOWNLOAD PDF

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کا مسئلہ اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی اہم، حساس اور دور رس اثرات کا حامل موضوع ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف خلفائے راشدین کے مابین مثالی تعلقات اور یگانگت کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ امت مسلمہ کے اتحاد اور استحکام کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔ اس تاریخی واقعے کو کتبِ احادیث، سیرت اور تاریخ کی روشنی میں تفصیلی اور جامع انداز میں سمجھنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی کا ازالہ ہو سکے۔

تاریخی پس منظر اور سقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ

جب کائنات کے سب سے عظیم رہبر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو وہ لمحہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے تاریخ کا سب سے بڑا صدمہ اور آزمائش تھا۔ ایسے نازک موڑ پر، جب ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کا عمل بھی مکمل نہیں ہوا تھا، انصارِ مدینہ نے سقیفہ بنی ساعدہ میں ایک اجلاس بلایا تاکہ امت کی قیادت کا فیصلہ کیا جا سکے۔ مدینہ کے حالات اور ارتداد کے ممکنہ فتنوں کو بھانپتے ہوئے، حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم وہاں پہنچے۔ طویل بحث و مباحثے اور مشاورت کے بعد، انصار اور مہاجرین کی موجودگی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت، ان کی قربانیوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں ان کی امامتِ نماز کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی گئی۔

دوسری طرف، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تیمار داری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل و کفن اور تدفین کے امور میں مصروف ہونے کی وجہ سے اس فوری مشاورت میں شریک نہ ہو سکے۔ یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس نے وقتی طور پر ایک منفرد صورتحال کو جنم دیا۔

بیعت میں تاخیر کی حقیقی وجہ

مستند تاریخی اور حدیثی روایات (جیسے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم) سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت میں جو چند ماہ (تقریباً چھ ماہ) کی تاخیر ہوئی، اس کی وجہ کوئی سیاسی اختلاف، خلافت کا لالچ یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت سے انکار نہیں تھا۔ بلکہ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ اتنا بلند تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ اتنے بڑے فیصلے میں ان سے بھی مشورہ لیا جانا چاہیے تھا۔ وہ بیعت کے معاملے میں اپنے آپ کو نظرانداز کیے جانے پر تھوڑا رنجیدہ تھے۔

اس کے ساتھ ہی، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے صدمے سے شدید نڈھال اور بیمار تھیں، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تمام تر وقت ان کی دیکھ بھال اور دلجوئی میں گزر رہا تھا۔ جب تک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حیات رہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی تمام تر توجہ ان پر مرکوز رکھی اور عوامی معاملات سے خود کو دور رکھا، جسے معاشرے نے بھی ان کے خاندانی مقام کی وجہ سے بخوشی قبول کیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کا پُر وقار واقعہ

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ عوامی سطح پر امت کے اتحاد کو مزید مضبوط کریں۔ چنانچہ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ ان کے گھر تشریف لائیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اکیلے ہی ان کے ہاں تشریف لے گئے۔

اس ملاقات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہایت خلوص اور احترام کے ساتھ گفتگو کا آغاز کیا۔ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا:

"اے ابو بکر! ہم آپ کی فضیلت اور اللہ نے جو مقام آپ کو عطا کیا ہے، اس کا انکار نہیں کرتے۔ نہ ہی ہم اس خیر و برکت پر آپ سے حسد کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کو دی ہے۔ لیکن ہمارا رنج صرف اس بات پر تھا کہ خلافت کے فیصلے میں ہماری موجودگی اور مشورے کو ضروری نہیں سمجھا گیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریبی قرابت داری کی وجہ سے ہمارا بھی ایک حق تھا۔”

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ باتیں سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے انتہائی محبت سے فرمایا:

"اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا مجھے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ عزیز ہے۔ رہی بات مشورے کی، تو اس وقت حالات کی سنگینی اور فتنے کا خوف ایسا تھا کہ فوری فیصلہ کرنا امت کے مفاد میں تھا، میرا مقصد آپ کی کسرِ شان یا حق تلفی ہرگز نہیں تھا۔”

ان دونوں عظیم ہستیوں کے مابین یہ گفتگو اتنی مخلصانہ تھی کہ دلوں کے تمام غبار سیکنڈوں میں دھل گئے۔

مسجدِ نبوی میں علانیہ بیعتِ عامہ

اس نجی ملاقات کے بعد، اسی دن ظہر کی نماز کے وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور خطبہ صدارت کے دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت میں تاخیر کا عذر بیان کیا اور ان کے بلند مقام و مرتبہ کا ذکر کیا۔

اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل اور اسلام کے لیے ان کی اولیت کا اعتراف کیا اور مجمعِ عام کے سامنے منبر کی طرف بڑھے۔ انہوں نے تمام صحابہ کرام کی موجودگی میں انتہائی خوش دلی، اخلاص اور رغبت کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اس منظر کو دیکھ کر مسجدِ نبوی میں موجود تمام مسلمانوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے اور سب نے یک زبان ہو کر کہا: "اصبت یا ابا الحسن” (اے ابو الحسن! آپ نے بالکل درست اور حق فیصلہ کیا)۔ تمام مسلمان اس بات پر بے حد خوش تھے کہ امت کا شیرازہ بکھرنے سے بچ گیا اور تمام جلیل القدر صحابہ ایک ہی پرچم تلے جمع ہو گئے۔

بیعت کے بعد کے مثالی تعلقات اور باہمی تعاون

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ بیعت محض ایک رسمی کارروائی نہیں تھی، بلکہ انہوں نے اپنی زندگی کے ہر موڑ پر اس بیعت کی لاج رکھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب بھی کوئی مشکل ترین شرعی، سیاسی یا فوجی مسئلہ درپیش آتا، حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمیشہ ان کے سب سے بڑے مشیر اور دستِ راست بن کر سامنے آتے۔

فتنہ ارتداد کا خاتمہ: جب منکرینِ زکوٰۃ اور جھوٹے مدعیانِ نبوت نے سر اٹھایا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلیفہ وقت کے فیصلوں کی بھرپور تائید کی اور مدینہ کے دفاع کے لیے مستعد رہے۔

شرعی مشاورت: پیچیدہ فقہی مسائل میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمیشہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علم و حکمت پر بھروسہ کرتے اور ان کی رائے کو اولیت دیتے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ طرزِ عمل اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اہل بیت اور خلفائے راشدین کے درمیان کوئی ذاتی یا دنیاوی عداوت نہیں تھی۔ وہ سب ایک دوسرے کے احترام، دینِ اسلام کی سربلندی اور امتِ مسلمہ کی خیر خواہی کے جذبے سے سرشار تھے۔

حاصل کلام

خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنا ایک مسلمہ اور تاریخی حقیقت ہے، جو مستند اسلامی ماخذ سے ثابت ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اسلام میں امت کا اتحاد، یکجہتی اور باہمی پیار و محبت کسی بھی ذاتی رائے یا وقتی ملال سے کہیں زیادہ مقدم ہے۔ ان عظیم ہستیوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ دنیاوی جاہ و جلال کے طلبگار نہیں تھے، بلکہ ان کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا اور دینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا تحفظ تھا۔ آج کے دور میں بھی امتِ مسلمہ کے لیے ان کا یہ باہمی احترام اور اتحاد ایک بہترین مشعلِ راہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے