العربی: قال الحافظ ابن حجر رحمه الله: «وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَمْشِي فِي السُّوقِ وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ لَا تُدْرِكْنِي سَنَةَ سِتِّينَ وَلَا إِمَارَةَ الصِّبْيَانِ، وَفِي هَذَا إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ أَوَّلَ الْأُغَيْلِمَةِ كَانَ فِي سَنَةِ سِتِّينَ، وَهُوَ كَذَلِكَ فَإِنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ اسْتُخْلِفَ فِيهَا، وَبَقِيَ إِلَى سَنَةِ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ فَمَاتَ، ثُمَّ وَلِيَ وَلَدُهُ مُعَاوِيَةُ وَمَاتَ بَعْدَ أَشْهُرٍ، وَإِنَّ الْمُرَادَ بَعْضُ قُرَيْشٍ وَهُمُ الْأَحْدَاثُ مِنْهُمْ لَا كُلُّهُمْ، وَالْمُرَادُ أَنَّهُمْ يُهْلِكُونَ النَّاسَ بِسَبَبِ طَلَبِهِمُ الْمُلْكَ وَالْقِتَالَ لِأَجْلِهِ فَتَفْسُدُ أَحْوَالُ النَّاسِ وَيَكْثُرُ الْخَبْطُ بِتَوَالِي الْفِتَنِ، وَقَدْ وَقَعَ الْأَمْرُ كَمَا أَخْبَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْمُرَادُ بِاعْتِزَالِهِمْ أَنْ لَا يُدَاخِلُوهُمْ وَلَا يُقَاتِلُوا مَعَهُمْ وَيَفِرُّوا بِدِينِهِمْ مِنَ الْفِتَنِ، وَيُؤْخَذُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ اسْتِحْبَابُ هِجْرَانِ الْبَلْدَةِ الَّتِي يَقَعُ فِيهَا إِظْهَارُ الْمَعْصِيَةِ، وَقَالَ مَرْوَانُ: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ مِنْ أُغَيْلِمَةٍ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ بَنِي فُلَانٍ وَبَنِي فُلَانٍ لَفَعَلْتُ، وَالَّذِي يَظْهَرُ أَنَّ الْمَذْكُورِينَ مِنْ جُمْلَتِهِمْ وَأَنَّ أَوَّلَهُمْ يَزِيدُ كَمَا دَلَّ عَلَيْهِ قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ: رَأْسُ السِّتِّينَ وَإِمَارَةُ الصِّبْيَانِ، فَإِنَّ يَزِيدَ كَانَ غَالِبًا يَنْتَزِعُ الشُّيُوخَ مِنْ إِمَارَةِ الْبُلْدَانِ الْكِبَارِ وَيُوَلِّيهَا الْأَصَاغِرَ مِنْ أَقَارِبِهِ».

ترجمہ: حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ بازار میں چلتے ہوئے دعا کرتے تھے: "اے اللہ! مجھے ساٹھ ہجری کا سال اور بچوں کی حکومت نہ دکھانا۔” اس میں اشارہ ہے کہ کم عمر حکمرانوں کا آغاز ساٹھ ہجری میں ہوا، اور ایسا ہی ہوا کیونکہ اسی سال یزید بن معاویہ خلیفہ بنایا گیا، پھر 64 ہجری میں اس کا انتقال ہوا اور اس کے بعد اس کا بیٹا معاویہ چند ماہ کے لیے حکمران بنا۔ حدیث میں قریش کے تمام افراد مراد نہیں بلکہ ان میں سے بعض نوجوان لوگ مراد ہیں، اور ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ اقتدار کی طلب اور اس کے لیے ہونے والی لڑائیوں کے باعث لوگوں کو مصیبتوں اور ہلاکت میں مبتلا کریں گے، جس سے لوگوں کے حالات بگڑ جائیں گے اور مسلسل فتنوں کی وجہ سے اضطراب اور فساد بڑھ جائے گا، اور واقعہ بھی ویسا ہی پیش آیا جیسا رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی۔ ان سے الگ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے معاملات اور لڑائیوں میں شریک نہ ہوا جائے بلکہ اپنے دین کو فتنوں سے محفوظ رکھا جائے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسے علاقے کو چھوڑ دینا مستحب ہے جہاں علانیہ گناہ کیے جاتے ہوں۔ مروان نے کہا: "ان کم عمر حکمرانوں پر اللہ کی لعنت ہو۔” اس پر حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا: "اگر میں چاہوں تو ان خاندانوں کے نام بھی بتا سکتا ہوں۔” پھر حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ بظاہر ان لوگوں میں یزید بھی شامل تھا بلکہ سب سے پہلے اسی کا دور مراد معلوم ہوتا ہے، کیونکہ ابو ہریرہؓ نے ساٹھ ہجری اور بچوں کی حکومت کا خاص ذکر کیا تھا، اور یزید کا طریقہ یہ تھا کہ وہ بڑے شہروں کی گورنری سے بزرگ اور تجربہ کار افراد کو ہٹا کر اپنے کم عمر رشتہ داروں کو ان عہدوں پر مقرر کر دیتا تھا۔ (فتح الباری، ج 13، ص 10)۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے