قرآن و حدیث کو سمجھنے میں سلفِ صالحین کے فہم کی اہمیت – عروہ بن زبیر اور ابن عباسؓ کا علمی مکالمہ

کیا قرآن و حدیث کو براہِ راست سمجھنا کافی ہے؟ سلفِ امت کے فہم کی ضرورت پر ایک تحقیقی جائزہ

فہمِ سلف کی پیروی کیوں ضروری ہے؟ عروہ بن زبیرؒ اور ابن عباسؓ کی روایت کی روشنی میں

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، طَالَمَا أَضْلَلْتَ النَّاسَ. قَالَ: وَمَا ذَاكَ يَا عُرَيَّةُ؟ قَالَ: الرَّجُلُ يَخْرُجُ مُحْرِمًا بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَإِذَا طَافَ زَعَمْتَ أَنَّهُ قَدْ حَلَّ، فَقَدْ كَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَنْهَيَانِ عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَ: أَهُمَا – وَيْحَكَ – أَتْبَعُ عِنْدَكَ أَمْ مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ وَمَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي أَصْحَابِهِ وَفِي أُمَّتِهِ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ: هُمَا كَانَا أَعْلَمَ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنِّي وَمِنْكَ. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: فَخَصَمَهُ عُرْوَةُ.

(رواه الطبراني في الأوسط، وإسناده حسن)

ترجمہ

حضرت عروہ بن زبیرؒ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پاس آئے اور کہا: "اے ابن عباس! آپ نے لوگوں کو بہت گمراہ کیا ہے۔” ابن عباسؓ نے فرمایا: "اے عریہ! وہ کیسے؟” عروہؒ نے کہا: "ایک آدمی حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر نکلتا ہے، پھر جب طواف کر لیتا ہے تو آپ کہتے ہیں کہ وہ احرام سے حلال ہوگیا، حالانکہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ اس سے منع کرتے تھے۔” ابن عباسؓ نے فرمایا: "افسوس! کیا تمہارے نزدیک ابوبکر و عمر کی بات زیادہ قابلِ اتباع ہے یا اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت؟” عروہؒ نے جواب دیا: "حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ مجھ سے اور آپ سے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو زیادہ جاننے والے تھے۔” ابن ابی ملیکہؒ کہتے ہیں: "اس جواب میں عروہؒ غالب آگئے۔”

یہ روایت اس بات کی نہایت اہم دلیل ہے کہ قرآن و حدیث کو سمجھنے میں سلفِ صالحین، صحابۂ کرام اور ائمۂ امت کے فہم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت ابن عباسؓ نے اصل دلیل قرآن و سنت کو قرار دیا، لیکن حضرت عروہ بن زبیرؒ نے اس نکتے کی طرف توجہ دلائی کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ جیسے اکابر صحابہ قرآن و سنت کے معانی کو ہم سب سے بہتر جانتے تھے۔ اس لیے جب کسی نص کے فہم میں اختلاف ہو تو اپنے ذاتی فہم پر اعتماد کرنے کے بجائے ان جلیل القدر اہلِ علم کے فہم کو ترجیح دی جائے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے قریب اور علومِ نبوت کے زیادہ واقف تھے۔

اسی لیے اہلِ سنت کا منہج یہ ہے کہ قرآن و حدیث کو صحابۂ کرام، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین کے فہم کی روشنی میں سمجھا جائے۔ جو شخص ان اکابر کے علمی ذخیرے اور فہم کو نظر انداز کرکے براہِ راست قرآن و حدیث سے مسائل اخذ کرنے لگے، وہ غلطی اور گمراہی کے خطرے میں پڑ جاتا ہے، کیونکہ ہر آیت اور ہر حدیث کا صحیح مفہوم جاننا، ناسخ و منسوخ، عام و خاص، مطلق و مقید اور دیگر اصولی مباحث سے واقفیت کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے ائمہ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ دین کو اہلِ علم سے سیکھا جائے اور خود ساختہ فہم پر اعتماد نہ کیا جائے۔

البتہ اس روایت سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ صحابی یا امام کا قول قرآن و حدیث پر مقدم ہے، بلکہ صحیح مفہوم یہ ہے کہ قرآن و حدیث کو سمجھنے میں اپنے ذاتی فہم کے مقابلے میں سلفِ امت کے فہم کو ترجیح دی جائے، کیونکہ وہ وحی کے معانی اور مقاصد کو ہم سے زیادہ جانتے تھے۔ یہی اہلِ سنت والجماعت کا معتدل اور محفوظ منہج ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے