قبرستانوں اور مزارات کی زیارت کے لیے سفر کرنے کی حالت میں قصر (نماز مختصر پڑھنے) کا حکم

قبرستانوں اور مزارات کی زیارت کے لیے سفر کرنے کی حالت میں قصر (نماز مختصر پڑھنے) کا حکم

امام أبو محمد عبد الله بن أحمد بن محمد بن قدامة رحمہ الله لکھتے ہیں:

[فَصْلٌ حُكْم الْقَصْر إذَا سَافَرَ لِزِيَارَةِ الْقُبُورِ وَالْمَشَاهِدِ]

(١٢٤٣) فَصْلٌ: فَإِنْ سَافَرَ لِزِيَارَةِ الْقُبُورِ وَالْمَشَاهِدِ. فَقَالَ ابْنُ عَقِيلٍ: لَا يُبَاحُ لَهُ التَّرَخُّصُ؛ لِأَنَّهُ مَنْهِيٌّ عَنْ السَّفَرِ إلَيْهَا، قَالَ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إلَّا إلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَالصَّحِيحُ إبَاحَتُهُ، وَجَوَازُ الْقَصْرِ فِيهِ؛ لَانَ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – كَانَ يَأْتِي قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا، وَكَانَ يَزُورُ الْقُبُورَ، وَقَالَ: «زُورُوهَا تُذَكِّرْكُمْ الْآخِرَةَ» .

وَأَمَّا قَوْلُهُ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ” لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إلَّا إلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ ” فَيُحْمَلُ عَلَى نَفْيِ التَّفْضِيلِ، لَا عَلَى التَّحْرِيمِ، وَلَيْسَتْ الْفَضِيلَةُ شَرْطًا فِي إبَاحَةِ الْقَصْرِ، فَلَا يَضُرُّ انْتِفَاؤُهَا

ترجمہ:”[فصل: قبرستانوں اور مزارات کی زیارت کے لیے سفر کرنے کی حالت میں قصر (نماز مختصر پڑھنے) کا حکم]

(۱۲۴۳)

فصل: اگر کوئی شخص قبروں اور مزارات کی زیارت کے لیے سفر کرے، تو اس بارے میں ابنِ عقیلؒ کا کہنا ہے:

اس کے لیے قصر (نماز مختصر پڑھنا) کی رخصت جائز نہیں،

کیونکہ ایسے سفر سے منع کیا گیا ہے،

جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«سفر کا ارادہ کسی جگہ کے لیے نہ باندھا جائے مگر تین مسجدوں کے لیے»۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے (یعنی بخاری و مسلم دونوں نے روایت کی ہے)۔

اور صحیح قول یہ ہے کہ

ایسا سفر مباح (جائز) ہے،

اور اس میں قصر کرنا بھی جائز ہے؛

کیونکہ نبی ﷺ قباء تشریف لے جاتے تھے، کبھی سواری پر اور کبھی پیدل،

اور آپ ﷺ قبروں کی زیارت بھی فرماتے تھے،

اور فرمایا:

«انہیں (قبروں کو) زیارت کیا کرو، یہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہیں»۔

اور جہاں تک نبی ﷺ کے اس فرمان کا تعلق ہے کہ

"سفر کا ارادہ کسی جگہ کے لیے نہ باندھا جائے مگر تین مسجدوں کے لیے”،

تو اس کا مطلب حرمت نہیں بلکہ فضیلت کی نفی ہے،

یعنی صرف وہی تین مسجدیں عبادت کے اعتبار سے افضل ہیں،

ورنہ دیگر جگہوں کا سفر کرنا حرام نہیں۔

اور فضیلت کا پایا جانا قصر کی اباحت (جواز) کے لیے شرط نہیں،

لہٰذا اگر وہ فضیلت نہ بھی ہو تو کوئی نقصان نہیں۔“

(المغني لابن قدامة ج 2 ص 195)

rizvibhai69@gmail.com

Share
Published by
rizvibhai69@gmail.com

Recent Posts

اسرار النجوم علم النجوم | Isarar-Un-Nujoom

  اسلامی کتب خانہ آپ کے مطالعہ اور علمی تحقیقات کی پیاس پورا کرنے کے لئے…

2 دن ago

Israr e Ajeeba Book PDF Free Download | اسرار عجیبہ کتاب

Israr e Ajeeba Book PDF Free Download | اسرار عجیبہ کتاب اسلامی کتب خانہ آپ…

2 دن ago

عامل کامل عملیات و تعویزات و سحر علوم الکاش برنی

عامل کامل عملیات الکاش برنی کتاب "عامل کامل عملیات الکاش برنی" ایک جامع اور عملی رہنمائی فراہم…

2 دن ago

ارشاد الطالبین و ارشاد السالکین عملیات ۔کوہ قاف کتاب ڈاؤن لوڈ

  کوہ قاف اور کالا پانی یہ کتابیں ہیں جو کہ عام حالات میں مارکیٹ…

2 دن ago

الجامع المعروف بسنن الترمذی ابو عیسی التِّرْمذِی

الجامع" والمعروف بـ "سنن الترمذي" أحد أمهات كتب الحديث النبوي الشريف،  سنن الترمذي أو جامع…

2 دن ago