کتب اہل سنت میں فضائل حضرت سیّدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں اقوال

حضرت سیّدنا امیر معاویہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے بارے میں صحابہ ٔکرام و اہلبیتِ اطہار رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  کے فرامین آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے عظیم المرتبت ہونے کی ایک اور روشن دلیل ہیں۔چنانچہ آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے بارے صحابۂ کرام و اہلبیت اطہار  رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  کے اقوال ملاحظہ فرمائیے:

(۱)حق کے ساتھ فیصلہ کرنے والے

فاتح ِمصر حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں:میں نے امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے بعد حق کے ساتھ فیصلہ کرنے والا حضرت سیدنا امیرِ معاویہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے بہتر نہیں دیکھا۔(1)

(۲)ایسا سردار نہیں دیکھا

حضرت سیدنا  عبداللہ  بن عمر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:میں نے  رسول اللہ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے بعد حضرت سیدنا امیر معاویہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسا کوئی سردار نہیں دیکھا۔(2) 

(۳)نماز میں سب سے زیادہ مشابہت

حضرت سیدنا ابو درداء  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں :میں نےحضرت سیّدنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے علاوہ کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جس کی نماز نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نمازسے زیادہ مشابہت رکھتی ہو۔ (3) 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(۴)حکومتِ معاویہ کو بُرا نہ سمجھو

اميرالمؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے جنگِ صَفَّین سے واپسی پرفرمایا:(حضرت)معاویہ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) کی حکومت کو برا نہ سمجھو،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی قسم! جب وہ نہیں ہوں گے توسر کٹ کٹ کر اَنْدرائِن کے پھلوں کی طرح زمین پر گریں گے۔(4)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(۵)وہ صحابیٔ رسول اور فقیہ ہیں

حضرت سیدنا  عبد اللہ  بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے جن الفاظ میں حضرت سیّدنا امیر معاویہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی مدح فرمائی ہے ا ن سے آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے چنانچہ ایک موقعہ پر آپ کی فقاہت کا اعتراف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”حضرت معاویہ فقیہ ہیں۔ “(5)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(۶)مناسب ترین شخصیت

حضرت سیّدنا عبداللہ  بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نےفرمایا:میں نے ( خلفائے راشدین کے بعد) حضرت معاویہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے زیادہ حکومت کے مناسب کوئی نہیں دیکھا۔(6) 

(۷)امیرِ معاویہ جنّتی ہیں

حضرت سیّدنا عوف بن مالک اشجعی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں:مىں اَرِىحا کے اىک ایسے گرجا میں قَیْلولہ کر رہا تھا کہ جو اب مسجد میں تبدیل ہو چکا ہے۔ میں اچانک گھبرا کر اُٹھ بیٹھا۔میں نے دیکھا وہاں اىک شىر موجود تھا جو میری جانب بڑھ رہا تھا،میں نے ہتھىاراٹھانے کا ارادہ کىاتو شىر نے کہا: ”رُک جائىے مىں تو آپ کو اىک پىغام دىنے آىا ہوں۔ “میں نے پوچھا: تجھے کس نے بھىجا ہے؟ شىر نے کہا:  اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  نے مجھے آپ کے پاس بھىجا ہے کہ آپ کو خبر دوں کہ حضرت سیدنا معاوىہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  جنتى ہیں۔“مىں نے پوچھا:کون معاوىہ ؟ تو شیر نے کہا: حضرت معاوىہ بن ابى سفىان  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  ۔(7)

(۸)مصطفٰے کریم کے سامنے لکھنے والے

حضرت   سیّدنا عبداﷲ  بن عمرو  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں:حضرت سیّدنا امیر معاویہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نبیٔ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے سامنے بیٹھ کر لکھا کرتے تھے۔(8)

(۹)ایسی حکومت کوئی نہیں کرے گا

حضرت سیّدنا کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں:جیسی حکمرانی حضرت سیّدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے کی ہے ویسی حکومت اس امت کا کوئی بھی فرد نہیں کرے گا۔(9)

(۱۰)امیرِ معاویہ کاذکر خیر سے ہی کرو

حضر ت سیّدنا عُمیر بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں: لَاتَذكُرُوامُعاوِيَةَ اِلَّابِخَير یعنی حضرت امیر معاویہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا ذکر صرف خیر و بھلائی سے ہی کرو۔(10)

(۱۱)سب سےزیادہ حلیم وبُردبار

ایک موقعے پر حضرت سیّدنا  عبد اللہ  بن عمر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے ارشاد فرمایا:حضرت سیّدنا امیر معاویہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ لوگوں میں سب سے زیادہ حلیم و بُردبار تھے ۔(11)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شانِ امیر معاویہ بزبان عُلماء و اولیا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جس طرح دیگر صحابۂ کرام  عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   کی شان جلیل القدر علما و اولیا نے بیان فرمائی ہے اسی طرح حضرت سیدنا امیر معاویہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی شان کا اظہار بھی اپنے قول اور عمل دونوں سے فرمایا ہے بلکہ آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے بارے میں بد گوئی کرنے والے کو سزا دے کر بدمذہبیت کے ناسور کا مکمل سد ِّباب فرمایا ہے ۔یقینا  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پسندیدہ اور انعام یافتہ بندوں کےفرامین ہمارے لیے مینارہ ٔ نو ر بھی ہیں اورراہ ِ نجات بھی ۔

(۱)آپ کا بے مثال عدل وانصاف

حضرت سیّدناامام اَعْمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنےحضرت سیّدنا عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے عدل وانصاف کا ذکر ہوا تو آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے ارشاد فر مایا :کاش! آپ لوگ حضرت سیّدنا امیر معاویہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا زمانہ دیکھ لیتے۔“لوگوں نے عرض کی:”کیا آپ اُن کے حلم کی بات کررہے ہیں؟ آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےارشادفرمایا:نہیں!خدا  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!میں اُن کے عدل کی بات کر رہاہوں۔“(یعنی آپ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   کا عدل وانصاف بھی بے مثال تھا ) (12)

(۲)اگر تم سیّدنا امیر معاویہ کو دیکھ لیتے۔۔۔

حضرت سیّدنا مجاہد  عَلَیْہ   رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدْ  نے فرمایا: اگر تم حضرت معاویہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو دیکھتے تو کہتے یہی مہدی یعنی ہدایت یافتہ ہیں۔(13) 

(۳)طعن کی جرأت

حضرت سیّدناامام ابو توبہ ربیع بن نافع  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : حضرت امیر معاویہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  صحابۂ کرام  عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے درمیان پردہ ہیں جو یہ پردہ چاک کرے گا وہ دوسرے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم   پر اعتراضات کرنے میں جری ہو جائے گا ۔(14) 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(۴)شاتمِ صحابی کو سزا

حضرت سیّدنا ابراہیم بن میسرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :میں نے نہیں دیکھا کہ حضرت سیّدنا عمر بن عبدالعزیز  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اپنے دور حکومت میں حضرت سیّدنا امیر معاویہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو برا بھلا کہنے والے کے علاوہ کسی اور کو بھی کوڑے لگائے ہوں۔(15)   حضرت سیّدناعمر بن عبدالعزیز  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے خود اس شخص کو تین کوڑے مارےجس نے آپ کے سامنےحضرت سیّدنا امیر معاویہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  پر سب و شتم کیا۔(16) 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(۵)تابعی کا صحابی سے مقابلہ کرتے ہو؟

حضرت سیّدنا معافی بن عمران  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں کسی نے سوال کیا:حضرت سیّدنا امیر معاویہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  افضل ہیں یا حضرت سیّدنا عمر بن عبدالعزیز  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ؟یہ سوال سنتے ہی آپ کے چہرے پر جلال کے آثار نمودار ہوئے اورنہایت سختی سے ارشاد فرمایا : کیا تم ایک تابعی کا صحابی سے مقابلہ کرتے ہو؟حضرت سیّدنا معاویہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  تو نبیٔ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے صحابی،آپ کے سسرالی رشتہ دار،آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے کاتب اور  اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی طرف سے عطاکردہ وحی کے امین تھے (17) 

1 تاریخ ابن عساکر ، معاویۃ بن صخر ۔۔ الخ ،۵۹ / ۱۶۱

2 معجم کبیر ، و مما اسند عبداللہ بن عمر ۔۔۔ الخ ، ۱۲ / ۳۸۷، حدیث:۱۳۴۳۲

3 مجمع الزوائد ، کتاب المناقب ، باب ماجاءفی معاویۃ ۔۔ الخ ،۹ / ۵۹۵،حدیث:۱۵۹۲۰

4 دلائل النبوۃ للبیھقی ، جماع ابواب اخبارالنبی صلی اللہ علیہ وسلم بالکوائن بعدہ ۔۔ الخ ، باب ما جاء في إخبار النبي صلى اللہ عليه وسلم بالفتن التيالخ ، ۶ / ۴۶۶، طبقات ابن سعد ، معاویۃ بن ابی سفیان ،۶ / ۲۰ مکتبۃ الخانجی ، سیر اعلام النبلاء ، معاویۃ بن ابی سفیان ،۴ / ۳۰۲، البدایۃ والنھایۃ ، سنۃ ستین من الھجرۃ النبویۃ ، و ھذہ ترجمۃ معاویۃ ۔۔ الخ ، ۵ / ۶۳۴، تاریخ ابن عساکر ، معاویۃ بن صخر ۔۔۔ الخ ،۵۹ / ۱۵۲

5 بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب ذکر معاویۃ ،۲ / ۵۵۰ ،حدیث :۳۷۶۵ ملتقطاً

6 مصنف عبدالرزاق ، الجامع للامام معمر ، باب ذکرالحسن ،۱۰ / ۳۷۱، حدیث:۲۱۱۵۱، سیر اعلام النبلاء ، معاویۃ بن ابی سفیان ،۴ / ۳۰۸، التاریخ الکبیر ، باب معاوية ، معاوية بن ابي سفيان .. الخ ، ۷ / ۲۰۴، رقم:۱۴۰۵

7 معجم کبیر ، من اسمہ معاویہ ،۱۹ / ۳۰۷،حدیث:۶۸۶، معجم الصحابۃ ، من روی عن النبی من اسمہ معاویۃ ، معاوية بن ابی سفيان ،۵ / ۳۶۷،رقم:۲۱۹۱

8 مجمع الزوائد ، کتاب المناقب ، باب ماجا ء فی معاویۃ ۔۔ الخ ، ۹ / ۵۹۶،حدیث:۱۵۹۲۴

9 طبقات ابن سعد ، معاویۃ بن ابی سفیان ،۶ / ۲۰ مکتبۃ الخانجی ، سیر اعلام النبلاء ، معاویۃ بن ابی سفیان ۔۔الخ،۴ / ۳۰۸

10 ترمذی ، کتاب المناقب ، باب مناقب معاویۃ بن ابی سفیان ،۵ / ۴۵۵ ، حدیث:۳۸۶۹ مختصراً ، التاريخ الكبير ، باب معاویۃ ، معاویۃ بن ابی سفیان ۔۔۔ الخ ،۷ / ۲۰۴ ،رقم:۱۴۰۵

11 السنۃ للخلال ، ذکر ابی عبد الرحم ٰ ن ۔۔ الخ ،۱ / ۴۴۳،رقم:۶۸۱

12 السنۃللخلال ، ذكرابی عبدالرحم ٰ ن معاويةبن ابی سفيان ۔۔ الخ ،۱ / ۴۳۷، رقم:۶۶۷

13 السنۃللخلال ، ذكرابی عبدالرحم ٰ ن معاويةبن ابی سفيان ۔۔الخ ،۱ / ۴۳۸، رقم:۶۶۹

14 البدایۃ و النھایۃ ، سنۃ ستین من الھجرۃ النبویۃ ، و ھذہ ترجمۃ معاویۃ ۔۔۔ الخ ،۵ / ۶۴۳

15 شرح اصول اعتقاداھل السنّۃ ، باب جماع فضائل الصحابۃ ، سیاق ماروی عن السلف فی اجناس العقوبات ۔۔ الخ ،۲ / ۱۰۸۴،رقم:۲۳۸۵

16 الاستیعاب ، معاویۃ بن ابی سفیان ،۳ / ۴۷۵

17 البدایۃ و النھایۃ ، سنۃ ستین من الھجرۃ النبویۃ ، و ھذہ ترجمۃ معاویۃ ۔۔۔ الخ ،۵ / ۶۴۳

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام میں سے ایک جلیل القدر صحابی ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہوا۔ اسلامی تاریخ میں آپؓ کو ایک خاص لقب “خالُ المؤمنین” (مؤمنوں کا ماموں) کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

یہ لقب اس نسبت کی وجہ سے دیا جاتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے، اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ تھیں۔ اس نسبت سے آپؓ کو اہلِ ایمان کی عزت و احترام میں “خال المؤمنین” کہا جاتا ہے۔

اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن “امہات المؤمنین” ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ” (النبی ﷺ کی بیویاں مؤمنوں کی مائیں ہیں)

اس اصول کے تحت ازواجِ مطہرات کے قریبی رشتہ داروں کو احتراماً مختلف القابات سے یاد کیا جاتا ہے، جن میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا لقب “خال المؤمنین” بھی شامل ہے۔

اہلِ سنت کا موقف یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک معزز صحابی ہیں، جنہوں نے اسلام کی خدمت کی اور امتِ مسلمہ کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بارے میں ادب و احترام لازم ہے اور ان کی شان میں کسی قسم کی گستاخی یا بدگمانی اہلِ ایمان کے طریقے کے خلاف ہے۔

معاویہ انت منی و انا منک — روایت کی روشنی میں مختصر تحقیق

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک روایت بعض کتبِ حدیث و آثار میں نقل کی جاتی ہے جس میں یہ الفاظ آئے ہیں: “معاویہ انت منی و انا منک” یعنی “اے معاویہ! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں”۔ یہ روایت بعض اہلِ علم نے حضرت امیر معاویہؓ کی فضیلت اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ ان کے قریبی تعلق کے طور پر ذکر کی ہے، اور اسے کتاب السنہ ابن خلال سمیت بعض آثار میں بیان کیا گیا ہے، تاہم محدثین کے ہاں اس روایت کی سند اور درجۂ صحت پر تفصیلی کلام پایا جاتا ہے، اس لیے اسے عقائد یا قطعی احکام کی بنیاد بنانے کے بجائے فضائل کے باب میں احتیاط کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت، نبی ﷺ کی صحبت، اور اسلام کے لیے ان کی خدمات مسلم ہیں، جبکہ ایسی روایات کے بارے میں اہلِ علم کا طریقہ یہ ہے کہ وہ سند کی تحقیق کے ساتھ ساتھ صحابہ کرامؓ کے بارے میں حسنِ ادب اور خاموشی و احترام کو اختیار کرتے ہیں

اہلِ علم کے ہاں یہ اصول معروف ہے کہ مناقب و فضائل کے باب میں ضعیف حدیث کو بعض شرائط کے ساتھ قابلِ قبول سمجھا جا سکتا ہے۔ محدثین کی ایک بڑی جماعت، جیسے امام احمد بن حنبل، امام نووی اور امام ابن حجر رحمہم اللہ، نے یہ وضاحت کی ہے کہ اگر کوئی حدیث عقائد یا حلال و حرام کے بنیادی احکام ثابت نہ کر رہی ہو بلکہ صرف کسی نیک عمل کی ترغیب، فضیلت یا منقبت بیان کر رہی ہو تو ایسی ضعیف روایت کو سخت شرائط کے ساتھ ذکر کیا جا سکتا ہے، مثلاً یہ کہ وہ بہت زیادہ شدید ضعیف نہ ہو، کسی مضبوط اصل کے خلاف نہ ہو، اور اس پر مکمل اعتماد کے بجائے “رجاء و فضیلت” کے طور پر عمل کیا جائے۔ اسی اصول کی روشنی میں سیرت و مناقب کی کتب میں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل میں ضعیف روایات بھی نقل کی جاتی ہیں، مگر اہلِ سنت کا منہج یہ ہے کہ ایسی روایات کو قطعی اور یقینی دلیل نہیں بنایا جاتا بلکہ صرف فضائل کے باب میں بطورِ تذکرہ لیا جاتا ہے، جبکہ اصل اعتماد ہمیشہ صحیح اور حسن احادیث پر کیا جاتا ہے

rizvibhai69@gmail.com

Share
Published by
rizvibhai69@gmail.com

Recent Posts

اسرار النجوم علم النجوم | Isarar-Un-Nujoom

  اسلامی کتب خانہ آپ کے مطالعہ اور علمی تحقیقات کی پیاس پورا کرنے کے لئے…

2 دن ago

Israr e Ajeeba Book PDF Free Download | اسرار عجیبہ کتاب

Israr e Ajeeba Book PDF Free Download | اسرار عجیبہ کتاب اسلامی کتب خانہ آپ…

2 دن ago

عامل کامل عملیات و تعویزات و سحر علوم الکاش برنی

عامل کامل عملیات الکاش برنی کتاب "عامل کامل عملیات الکاش برنی" ایک جامع اور عملی رہنمائی فراہم…

2 دن ago

ارشاد الطالبین و ارشاد السالکین عملیات ۔کوہ قاف کتاب ڈاؤن لوڈ

  کوہ قاف اور کالا پانی یہ کتابیں ہیں جو کہ عام حالات میں مارکیٹ…

2 دن ago

الجامع المعروف بسنن الترمذی ابو عیسی التِّرْمذِی

الجامع" والمعروف بـ "سنن الترمذي" أحد أمهات كتب الحديث النبوي الشريف،  سنن الترمذي أو جامع…

2 دن ago