کیا صحابۂ کرامؓ نے میلاد نہیں منایا؟ میلاد کو بدعت کہنے والوں کے لیے اہم سوال

میلاد بدعت ہے؟ پھر صحابۂ کرامؓ کی محبتِ رسول ﷺ کا معیار کیا تھا؟

صحابۂ کرامؓ نے میلاد نہیں منایا؟ اعتراض کا علمی جائزہ

میلادِ مصطفیٰ ﷺ بدعت یا محبتِ رسول ﷺ؟ فیصلہ آپ خود کریں

سب سے پہلے تو اصول طے کرنا ہوگا کہ کیا ہروہ عمل جو صحابہ نے کیا وہی حجت ہوگا یا جو صحابہ نے نہیں کیا وہ حرام ہے وہ نہیں کرسکتے۔۔۔یہ اصول مجھے کہیں قرآن و حدیث میں نہیں مل سکا کہ جو صحابہ نے عمل نہیں کیا وہ کرنا حرام ہے۔۔

ایسے ہزار کام ہیں جو شریعت اسلامیہ میں کیے جا رہے ہیں اور مسلمان متفقہ مانتے ہیں مگر وہ کام نہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ اکرام نے اور تابعین او اتبع تابعین نے نہیں کیے مگر  ہم کرتے ہیں ۔۔

ہم کہتے ہیں اگر رسول اللہ ﷺ نے اگر کوئی کام اگر نہ کیا تو فقط نہ کرنا منع کی دلیل نہیں ۔۔جب تب اس پر منع کی دلیل وارد نہ ہو

جمع قرآن ایک بدعت حسنہ

اس بات پر دلیل بخاری کی حدیث4986  ہے۔۔کتاب فضائل القرآن

باب: قرآن مجید کے جمع کرنے کا بیان

حدیث نمبر4986

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عِنْدَهُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي، فَقَالَ:” إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ بِالْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ. قُلْتُ لِعُمَرَ: كَيْفَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ: هَذَا وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِذَلِكَ وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ”، قَالَ زَيْدٌ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعَ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ، فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ أَبُو بَكْرٍ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الْعُسُبِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ، لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهُ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ سورة التوبة آية 128 حَتَّى خَاتِمَةِ بَرَاءَةَ فَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبید بن سباق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ یمامہ میں (صحابہ کی بہت بڑی تعداد کے) شہید ہو جانے کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ اس وقت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ یمامہ کی جنگ میں بہت بڑی تعداد میں قرآن کے قاریوں کی شہادت ہو گئی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ اسی طرح کفار کے ساتھ دوسری جنگوں میں بھی قراء قرآن بڑی تعداد میں قتل ہو جائیں گے اور یوں قرآن کے جاننے والوں کی بہت بڑی تعداد ختم ہو جائے گی۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ قرآن مجید کو (باقاعدہ کتابی شکل میں) جمع کرنے کا حکم دے دیں۔ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ایک ایسا کام کس طرح کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی زندگی میں) نہیں کیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ اللہ کی قسم! یہ تو ایک کارخیر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ بات مجھ سے باربار کہتے رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ میں میرا بھی سینہ کھول دیا۔۔آخر۔

جو کام رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا وہ صحابہ نے اپنے اجتہاد پر کیا تو معلوم ہوا کہ یہ عمل ناجائز نہ تھا بلکہ خیر کا تھا۔۔ہر عمل خیر شریعت میں  کیا جاسکتا ہے۔۔یہاں کر کہاجاتا ہے کہ وہ تو خلفاء کی سنت تھی اور خلفاء کی سنت بھی  سنت رسول اللہﷺ

سنن ابن ماجہ , حدیث نمبر: -43-42

باب : اتباع سنة الخلفاء الراشدين المهديين

 مِنْ بَعْدِي اخْتِلَافًا شَدِيدًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْأُمُورَ الْمُحْدَثَاتِ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ کے تحت ہے مگر یہ بات بھی غلط ہے کہ اگر صحابہ کو شریعت میں تحریف کرنے یا خود سے کوئی بھی عمل کو کر کے اس کو رسول اللہ ﷺ کی سنت قرار دیتے تھے۔۔سنتی کا اگر لغوی مفہوم لیا جائے تو یہ ہے کہ رسول اللہ کے طریقے  کے عین مطابق ہی اصحاب کا طریقہ ہے ۔۔اگر اصطلاحی مفہوم لیا جائے تو رسول اللہ ﷺ کی سنت اور اصحاب رسول کی سنت بھی ایک جیسا حجت ہے ۔۔یہ قول مطلق صادق نہیں مان سکتے کہ سنت خلفاء سنت رسول ﷺ کیسے برابر ہو سکتی ہے ۔۔۔ھاں  اسکا مفہوم یہ ہی  لیں گے کہ خلفاء  رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے عین مطابق عمل کرتے ہیں اس لیے ہی ان کی سنت کی پیروی بھی حجت ہے ۔۔۔اگر عین خلفاء کی سنت بلفرض رسول اللہ کی سنت ہی تھی تو یہ بات حضرت عائشہ اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اجمعین بھی جانتے ہوتے اور وہ اجتہادی اختلاف بھی  حضرت علی کرم اللہ وجھہ سے نہ کرتے۔۔ان کا اختلاف  کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ سنت رسول اور سنت خلفاء میں فرق ہے عین رسول اللہ کی سنت سمجھنا صحابہ میں کسی کا عقیدہ نہ تھا۔۔

۔دوسری بات ابوبکر صدیق اگر یہ جانتے تھے کہ ہم خلفاء کی سنت رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے تو وہ اس بات پر عمرفاروق سے اختلاف کیوں کرتے۔۔۔ابوبکر صدیق کا یہ کہنا کہ آپ ایک ایسا کام کس طرح کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی زندگی میں) نہیں کیا؟

۔ اہلحدیث اس پر عمل نہیں کرتے۔۔۔کیوں اس عمل کو ابن عمر بدعت کہا کرتے تھے اور وہ بدعت مزمومہ کہتے تھے۔۔

اب کیا عثمان غنی آذان کے رسول اللہ سے بڑے عاشق تھےجو کام رسول اللہ ﷺ نے نہیں  کیا وہ صحابی کر رہاہے۔دین مکمل ہو چکا پھر۔۔؟

نماز تراویح کا قیام بدعت اور صحابہ کی سنت

حضرت عمرفاروق نے  صلاۃ لیل کا جماعت کے ساتھ احتمام کروایا اور وہ یہ عمل بدعت کہتے تھے اور یہ عمل رسول اللہﷺ سے ثابت نہیں۔۔۔کیا عمر فاروق نماز کے رسول اللہ سے زیادہ عاشق تھے۔۔

ابن عمر کی بدعات حسنہ

ابن عمر رضی اللہ عنہ پر ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص نے چھینک ماری تو اس نے الحمداللہ والسلام علی کل حآل کہا تو ابن عمر نے اس کو روکا ۔۔۔کہ رسول اللہﷺ کی تعلیمات سے زیادہ نہ کہا کرو۔۔

وھابیہ اعتراضات کرتے ہیں کہ صحابہ اکرام سنت سے ہٹ کر کچھ بھی نہیں کرتے تھے اور ابن عمر کی بات اس پر دلیل ہے کہایک خیر کا کام کرنے والے کو ابن عمر نے منع کر دیا۔۔۔

جواب یہ ہے کہا ابن عمر نے اس کو حرام نہیں کہا

نہ ابن عمر کا مطلب یہ تھا کہ کلمات خیر کہنا ناجائز ہیں۔

اتنا کہا کہ رسول اللہ کی تعلیم اس موقع پر ایسے نہیں ہے بلکہ الحمداللہ علی کل حال ایسا ہے۔۔۔

اور یہ حدیث بھی ضعیف ہے اس میں امام ترمزی لکھتے ہیں یہ حدیث غریب ہے زیاد ابن ربیع کے سوا ہم نہیں جانتے اس رویت کو۔۔

زیاد ابن ربیع    قال بخاری فیہ نظر

اور اس بنیاد پر امام بہقی چھنک مارنے پر مسنون کلمات والی احآدیث نقل کرنے کے بعد زیاد ابن ربیع والی روایت کو کمزور اور دیگرروایات کو صحیح قرار دیتے ہیں

ابن عمر پر لگایا گیا الزام کم از کم دلیل قطعی پر تو مبنی ہونا چاہئے تھا کیونکہ اصول یہ ہے کہ کبھی بھی ظنی الثبوت دلیل منع ثابت نہیں کرتی۔۔۔

ابن عمر خود الفاظ و کلمات خیر بدعت حسنہ اور عمل حسنہ سمجھتے تھے 

لوگوں نے احدث کیئے ہویے امور میں نماز چاشت  مجھے پسند ہے،،بدعت جو لوگوں نے نکالی ان سب بدعت میں سے یہ مجھے پسند ہے۔۔حالانکہ میں نے رسول اللہ و ابوبکر و عمر  کےساتھ  رہا کبھی  انہوں نے نماز چاشت نہ پڑھی۔۔عثمان غنی کی وفات کے بعد اس بدعت کو ایجاد کیا گیا۔۔حتی کہ اذان جمعہ بھی بدعت ہے۔۔

مصنف عبدالرزاق 7859 نماز چاشت بدعت۔۔

مصنف ابن ابی شیبہ 13387 یہ بدعت ہے۔۔

ان روایات سے معلوم ہوا کہ ابن عمر تلبیہ اور تشہد میں کلمات کا اضافہ خود سے کرتے تھے۔۔۔

سوال یہ ہے کہ نماز چاشت ایجاد کرنے والے اور آزان جمعہ ایجاد کرنے والے اور نماز و تلبیہ میں الفاظ کا زیادہ کرنے والے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ عاشق نماز و اعمال تھے؟

ابن عمر ہر بدعت کو حرام سمجھتے تھے ۔اور اسطرح کا امام مالک کا بھی قول پیش کیا جاتا ہے ۔۔۔گزشتہ روایات کو دیکھ کر پھر اس ایک روایت پر توجہ کریں –کیا واقعہ ہربدعت گمراہی ہے تو ابن عمر اپنی کثیر روایات کے خلاف روایت کیسے کر سکتے ہیں

پہلا نقطہ۔۔۔

ابن عمر کا یہ قول بدعت مزمومہ کے لیے ہے کیونکہ وہ خود کئی اعمال کوبدعت کہتے تو اس کو خود صحیح کہتے ہیں جیسا کہ انہوں نے کہا کہ چاشت  لوگوں نے ایجاد کی اور وہ مجھے پسند ہے بدعت ہے مگر اچھی۔۔۔اب اپنے ہی فتوی کے خلاف کیسے  فتوی دیا۔۔۔

دوسرا نقطہ۔۔۔

لوگ اگر بدعت سییہ کو حسنہ بھی کہیں تو  پھر بھی بدعت گمراہی ہی ہے۔۔اعوام اگر کسی بدعت کو اچھا بھی کہے تو بھی وہ گمراہی والی بدعت سیہ حرام ہی ہے ۔۔اعوام کے پسند کرنے سے بھی وہ بدعت حسنہ نہیں ہوگی ۔۔۔ابن عمر کے کلام سے بدعت سیہ مراد ہے نہ کہ حسنہ ۔۔۔وارنہ ابن عمر کے کثیر روایات اعمال کے مخالف یہ  قول ساقط اور ردکیا جائے گا۔۔

تیسرا نقطہ۔۔۔

ابن عمر کا عمل اس رویت کے خلاف ہے اگر کسی صحابی کا عمل رویت کے مخالف ہو تو عمل لیا  جائے گا اور روایت چھوڑ دی جائے گی۔۔۔

لہذا یہ قول بدعت سیہ کے لیے محمول سمجھا جائے گا نہ  کہ بدعت حسنہ پر۔۔

چوتھا نقطہ۔۔

روایت میں الفاظ ہیں کہ لوگ جیسے اچھا جانے بدعت کو  اگر وہ بدعت ضلالت ہے تو بدعت ضلالت رہے گی۔ اعوام کے معمولات حجت نہیں ہوتے۔۔ھاں علماء اگر کوئی بدعت نکال      دی اوراس کے مزموم ہونے پر کوئی دلیل نہ ہو تو وہ  بدعت حسنہ ہوگی جیسا کہ نماز چاشت ۔۔۔باقی تفصیل گزشتہ ابواب میں بدعت کی تحقیق پڑھیں۔۔امام مالک کا یہ قول کہ رسول اللہ نے مکمل دین پہنچا دیا تو اس میں بدعت کیوں نکالی جائے ۔۔۔تو امام مالک کا قول  بھی بدعت مزموم کی طرف ہے ۔۔جس نے بدعت سیہ نکالی گویا اس نے یہ گمان کیا کہ رسول اللہ نے دین میں خیانت کی پہنچانے میں۔۔۔حالانکہ امام مالک مدینہ میں ننگے پاوں چلتے تھے اور سوارہ پر سوار نہ ہوتے تھے ۔۔تو وہ خود بدعت کرتے تھے؟؟؟

ہر بدعت کو مزمو م سمجھنا بھی  جاھل کی نشانی  ہے علامہ تفتازانی فرماتے ہیں شرح مقاصد میں کہ ہر بدعت مزموم نہیں ہوتی۔۔ہمارے زمانے میں بدعت حسنہ احتفال مولود ہے امام شامہ نے لکھا۔

ابن حجر ؒ کے نزدیک بھی ہر بدعت گمراہی نہیں بلکہ وہ بھی کہتے ہیں بدعت اچھی بھی ہوتی ہے۔۔

امام شافعی کے نزدیک بھی بدعت حسنہ ہوتی ہے ۔۔

امام ابن شامہ بھی بدعت کی اقسام کرتے ہیں۔۔

اہلسنت کا متفقہ فتوی ہے بدعت مزمومہ میلاد مین کیے جانے والے خرافات اور من گھڑت روایات پڑھنا ہے

نقطہ ”1”

جب قرآن و حدیث سے مسلہ  ثابت ہو گیا تو اس پر اصحاب و تابعین و محدیثین و ائمہ مجتھدین کا عمل دیکھنا کہاں کا اصول ہے ۔۔ائمہ کی تقلید تو  مختلف فیہ اور اجتھادی مسائل میں کیجائے  گی  ۔۔

نقطہ ”2”

عمل احتفال مولود مستحب ہے اگر کسی نے نہیں کیا تو یہ ہماری موقف کی دلیل ہے ۔۔کیونکہ مستحب یہ ہے کہ کوئی کرے تو ثواب ہے اگر نہ کرے  تو گناہ کوئی نہیں۔۔

ائمہ اربعہ کا میلاد کا اہتمام نہ کرنا بھی ہماری دلیل ہے۔۔اگر واجب ہوتا تو وہ ضرور کرتے ۔۔۔ہو بھی سکتا ہے کہ کیا بھی ہو اور نقل نہ ہوا ہو۔۔جیسا  کہ اج کوئی یہ کہے کہ ابوحنیفہ ؒ  پیر کا روزہ رکھتے  تھے دلیل دو۔۔ہم کہیں گئے لازمی رکھا ہوگا  مگر دلیل  نقل نہیں ہوئی۔۔۔

نقطہ ”3”

بعض روایات سے ائمہ اربعہ کا میلاد منانے کے قرینہ بھی موجود ہیں جیسا کہ نعمت الکبری ابن  حجر ؒ نے لکھا کہ امام شافعی میلاد کرتے تھے۔۔۔

قرینہ مل گیا تو عین ممکن ہے تمام کرتے ہوں مگر ہمارا موقف پر یہ دلیل بھی کافی۔

دعا کا طالب محمد اقبال رضوی عرف رضوی بھائی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے