مَدَدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَدَدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَدَدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اور اس کے بعد:

مَدَدُكُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْكُمْ، مَدَدُكُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْكُمْ أَجْمَعِينَ

ترجمہ

"یا رسول اللہ ﷺ! میری مدد فرمائیے، یا رسول اللہ ﷺ! میری مدد فرمائیے، یا رسول اللہ ﷺ! میری مدد فرمائیے۔”

اور:

"اے اہلِ بیت! اللہ تعالیٰ آپ سب سے راضی ہو، میری مدد فرمائیے۔”

یہ عبارت مشہور محدث و فقیہ علامہ سید احمد بن محمد الصاوی المالکیؒ (متوفی 1241ھ) کی کتاب حاشیۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین کے خاتمہ میں مذکور ہے، جہاں انہوں نے اپنے قلم سے یہ کلمات تحریر فرمائے۔

"یا محمد” اور "یا رسول اللہ” کہنے کے جواز و فضیلت پر تفصیلی بیان

اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک انبیاء علیہم السلام خصوصاً نبی اکرم ﷺ کو نداء دینا، آپ ﷺ سے استعانت و استمداد کا اظہار کرنا اور محبت و عقیدت کے ساتھ "یا رسول اللہ” یا "یا محمد” کہنا فی نفسہٖ شرک نہیں، بلکہ اس کا مدار عقیدہ پر ہے۔ اگر کوئی مسلمان یہ عقیدہ رکھے کہ حقیقی مددگار اللہ تعالیٰ ہی ہے اور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اذن و اختیار سے بندگانِ خدا کی مدد فرماتے ہیں، تو ایسی نداء جمہور اہلِ سنت کے نزدیک جائز ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا

"اور اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے، آپ کے پاس حاضر ہوتے، پھر اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت طلب کرتے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول فرمانے والا، مہربان پاتے۔” (النساء: 64)

اہلِ سنت کے متعدد ائمہ نے اس آیت سے نبی کریم ﷺ کے وسیلہ اور بارگاہِ رسالت میں حاضری کے جواز پر استدلال کیا ہے۔

اسی طرح مشہور نابینا صحابی کی حدیث میں نبی کریم ﷺ نے دعا سکھائی:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي

"اے محمد! میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔”

یہ حدیث محدثین کے نزدیک مشہور اور قابلِ استدلال ہے۔

اہلِ سنت کے اکابر ائمہ مثلاً امام سبکیؒ، امام قسطلانیؒ، امام زرقانیؒ، امام ابن حجر ہیتمیؒ، علامہ صاویؒ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ اور دیگر علماء نے نبی کریم ﷺ کے وسیلہ، استغاثہ اور نداء کے جواز پر تفصیلی کلام کیا ہے، بشرطیکہ عقیدہ توحید درست ہو اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کے عطا سے تصرف فرمانے والا مانا جائے۔

لہٰذا "یا محمد”، "یا رسول اللہ”، "مدد یا رسول اللہ” جیسے الفاظ محض الفاظ کی وجہ سے شرک نہیں بنتے، بلکہ ان کا حکم کہنے والے کے عقیدہ پر موقوف ہے۔ جب عقیدہ یہ ہو کہ حقیقی فاعل و مددگار اللہ تعالیٰ ہے اور انبیاء و اولیاء اللہ تعالیٰ کے اذن سے وسیلہ اور سبب ہیں، تو ایسی نداء کو اہلِ سنت کے بہت سے اکابر علماء نے جائز قرار دیا ہے، جیسا کہ مذکورہ عبارت میں علامہ صاویؒ نے خود "مددک یا رسول اللہ ﷺ” کے الفاظ تحریر فرمائے ہیں۔

شیخ الازہر و امام ابراہیم الباجوری رحمہ اللہ نے فرمایا:

مددک یا رسول اللہ ﷺ، مددک یا رسول اللہ ﷺ، مددک یا رسول اللہ ﷺ

حاشیۃ الباجوری علی شرح العلامۃ ابن قاسم الغزی علی متن ابی شجاع 4/711

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے