تحریر کا خلاصہ:اکثر وہابی یا سلفی مسلک کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ “مرنے والا کچھ نہیں سنتا، نہ دیکھتا ہے، نہ پہچانتا ہے۔”مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جنہیں یہ لوگ اپنا امام مانتے ہیں — شیخ ابن تیمیہ کے شاگرد، امام ابن قیم
الجوزیہ رحمہ اللہ — وہ خود اس کے برعکس لکھ گئے!
اپنی مشہور تصنیف کتاب الروح میں ابن قیم لکھتے ہیں:
“إن الميت يعرف من يزوره ويعرف سلامه عليه.”یعنی: جس کا وصال ہو چکا ہوتا ہے، وہ پہچانتا ہے کہ کون اس کی زیارت کو آیا، کس نے اس پر سلام بھیجا اور کس نے اس کے لیے دعا کی۔📘 (الروح لابن القيم، صفحہ نمبر 7، طبع دار الكتب العلمية)
ابن قیم کا یہ بیان صرف “سنتا ہے” نہیں بلکہ “پہچانتا ہے” کے الفاظ پر مشتمل ہے —یعنی وفات کے بعد بھی روح کا شعور برقرار رہتا ہے، اور وہ زندہ لوگوں کے سلام و دعا سے واقف ہوتی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے اہلِ سنت ہمیشہ بیان کرتے آئے ہیں کہ برزخی زندگی دنیاوی زندگی سے مختلف ضرور ہے، مگر بے شعور یا معدوم نہیں۔
تو جو اللہ کے نیک بندے ہیں، ان کی روحیں زندہ اور شعور رکھنے والی ہیں۔
سیدنا ابوبکر صدیق کو صدیق اکبر کہاں لکھا ہے کا جواب احادیث و اسلاف کی…
حنیف قریشی بمع کمپنی کا اعتراض کہ ابن ماجہ میں ہے کہ سیدنا علی نےفرمایا…
مَدَدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَدَدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ…
کیا تم صحابہ سے بڑے عاشق ہو؟ کیا صحابۂ کرامؓ نے میلاد نہیں منایا؟ میلاد…
ہماری کتاب کا باب نمبر نہم پیش کیا جا رہا ہے اپ کی خدمت میں…
بسم الله الرحمن الرحیم تقلید کی تائید میں اسلامی تاریخ کے ۱۴۰۰ سالہ دورمیں ہر…