“اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اولیاء کے لیے کرامت کو جائز مانتے تھے، اور معجزہ سے اس کا فرق بیان کرتے تھے۔
معجزہ نبی کی سچائی کے لیے ظاہر کیا جاتا ہے،
جبکہ ولی کے ہاتھ پر جو کرامت ظاہر ہوتی ہے، وہ اسے چھپاتا اور پوشیدہ رکھتا ہے۔
یہی کرامت ہے اور وہ معجزہ ہے۔
امام احمد بن حنبل ان لوگوں کو گمراہ قرار دیتے تھے جو کرامات کا انکار کرتے ہیں۔”
جو شخص کرامات کا انکار کرے، وہ اہلِ سنت سے ہٹ چکا ہے کیونکہ یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہیں۔
یہ سب کرامات کے قرآنی و نبوی شواہد ہیں۔
فرقہ غیرمقلدین (نام نہاداہل حدیث وہابیہ) کی گمشدہ اور یتیم اسناد کاعلمی تعاقب فرقہ غیرمقلدین…
جادو ایک معروف نام ہے جو ہر معاشرے میں بخوبی جانا جاتا ہے…
مرسل اتباع تابعی روایات اہل سنت کے ہاں قابل حجت نہیں ہیں۔ تحقیق۔۔اقبال رضوی بھائیکچھ شیعہ…
شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ❤تفسیر❤{اِلَّا تَنْصُرُوْهُ:اگر تم اس (نبی) کی مدد نہیں کرو گے۔}اس…
طب نبوی سے علاج: شہد اور قرآن سے شفاء اسلام نے انسان کی جسمانی، روحانی…
سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تاریخی اعتراضات کا علمی جائزہ…