“رسول اللہ ﷺ کو ایک ایسی صفت عطا کی گئی ہے،
جس کے ذریعے آپ ﷺ غیب (آنے والے واقعات) کا ادراک فرماتے ہیں
اور لوحِ محفوظ کو ملاحظہ کرتے ہیں۔
یہی وہ صفت ہے جس کے ذریعے ایک عقل مند شخص کو نادان سے ممتاز کیا جاتا ہے۔
یہ تمام صفات کمال والی ہیں جو نبی ﷺ کے لیے ثابت ہیں۔”
ابن حجر کے نزدیک نبی ﷺ کو وہ ادراکی قوت عطا کی گئی جس کے ذریعے آپ ﷺ
“عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا
إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ.”
(الجن: 26–27)
سیدنا ابوبکر صدیق کو صدیق اکبر کہاں لکھا ہے کا جواب احادیث و اسلاف کی…
حنیف قریشی بمع کمپنی کا اعتراض کہ ابن ماجہ میں ہے کہ سیدنا علی نےفرمایا…
مَدَدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَدَدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ…
کیا تم صحابہ سے بڑے عاشق ہو؟ کیا صحابۂ کرامؓ نے میلاد نہیں منایا؟ میلاد…
ہماری کتاب کا باب نمبر نہم پیش کیا جا رہا ہے اپ کی خدمت میں…
بسم الله الرحمن الرحیم تقلید کی تائید میں اسلامی تاریخ کے ۱۴۰۰ سالہ دورمیں ہر…