غیب کا جاننے والا اپنے غیب پر کسی کو اطلاع نہیں دیتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے کہ ان کے آگے پیچھے پہرے دار
مقرر کر دیتا ہے۔
سورہ جن کی آیات (26-27) یعنی "عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا” عقیدۂ علمِ غیب کے باب میں نہایت بنیادی اور اہم آیات ہیں، کیونکہ یہ آیات بیک وقت توحید اور رسالت دونوں کے مقام کو واضح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ پہلے اپنی صفتِ خاصہ بیان فرماتا ہے کہ وہ غیب کا جاننے والا ہے، یعنی غیب کا ذاتی، مستقل، غیر محدود اور بے واسطہ علم صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، پھر فوراً استثنا بیان فرمایا: "إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ” یعنی سوائے اس رسول کے جسے اللہ پسند فرما لے، اس سے معلوم ہوا کہ غیب کا ذاتی علم صرف اللہ کا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے منتخب رسولوں کو غیب کی خبریں عطا فرماتا ہے، اور یہی علمِ غیبِ عطائی ہے۔ اس آیت میں نفی مطلق نہیں بلکہ نفی کے بعد اثبات موجود ہے، لہٰذا جو آیات غیب کے علم کی نفی کرتی ہیں ان کا تعلق علمِ ذاتی سے ہے، جبکہ یہ آیات علمِ عطائی کو ثابت کرتی ہیں، اسی لیے مفسرین نے لکھا کہ یہاں اصل فرق علمِ ذاتی اور علمِ عطائی کا ہے؛ اللہ کا علم قدیم، ذاتی، غیر محدود اور کسی کے عطا کیے بغیر ہے، جبکہ انبیاء علیہم السلام کا علم اللہ کی عطا، وحی اور مشیت کے تابع ہے۔ مزید یہ کہ آیت کے اگلے حصے میں "رَصَدًا” یعنی پہرے دار فرشتوں کا ذکر فرمایا گیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو غیبی خبریں عطا فرماتا ہے تو ان کی حفاظت کے لیے فرشتوں کا نظام مقرر فرماتا ہے تاکہ شیطان یا کوئی باطل قوت وحی میں آمیزش نہ کر سکے اور پیغام اپنی اصل حالت میں رسول تک پہنچے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کو ملنے والا علمِ غیب نبوت کے منصب کا حصہ اور معجزہ ہے، نہ کہ خدائی صفت، لہٰذا ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ غیب کا اصل خزانہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، مگر وہ اپنی مشیت سے اپنے پسندیدہ رسولوں کو غیب کی خبریں عطا فرماتا ہے، اور یہی عقیدہ توحید اور مقامِ رسالت دونوں کے درمیان اعتدال اور توازن قائم کرتا ہے۔
سورہ العمران کی علم غیب والی آیات کی تفاسیر
تفسیر: صراط الجنان
{عٰلِمُ الْغَیْبِ: غیب کا جاننے والا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ’’اللّٰہ تعالیٰ غیب کا جاننے والا ہے تو وہ اپنے اُس غیب پر جس کا علم اس کے ساتھ خاص ہے ،اپنے پسندیدہ رسولوں کے علاوہ کسی کو کامل اطلاع نہیں دیتا جس سے حقیقتِ حال مکمل طور پر مُنکشف ہو جائے اور ا س کے ساتھ یقین کا اعلیٰ درجہ حاصل ہو (اور رسولوں کو) ان میں سے بعض غیوب کا علم، کامل اطلاع اور کشفِ تام کے ساتھ اس لئے دیتا ہے کہ وہ علمِ غیب ان کے لئے معجزہ ہو اور اللّٰہ تعالیٰ ان رسولوں کے آگے پیچھے پہرے دار فرشتے مقرر کر دیتا ہے جو شیطان کے اِختلاط سے ان کی حفاظت کرتے ہیں۔(بیضاوی، الجن، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷، ۵ / ۴۰۲، جمل، الجن، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷، ۸ / ۱۴۰، ملتقطاً)
سورہ جن کی آیات کی تفاسیر متقدمین کے نزدیک
اولیاء کے لئے غیب کا علم نہ ماننے والوں کا رد:
معتزلہ فرقے کے لوگوں نے اس آیت سے اولیاء کے لئے علم ِغیب ماننے سے انکار کیا ہے ۔علامہ سعد الدین تفتازانی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنی کتاب’’ شرح مقاصد‘‘ میں باطل فرقے’’معتزلہ‘‘ کی جانب سے اولیاء کی کرامات سے انکار اور ان کے فاسد شُبہات کا ذکر کر کے ان کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ معتزلہ کی پانچویں دلیل خاص علمِ غیب کے بارے میں ہے، وہ گمراہ کہتے ہیں کہ اولیاء کو غیب کا علم نہیں ہوسکتا کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر مسلط نہیں کرتا۔ مگر اپنے پسندیدہ رسولوں کو۔
جب غیب پر اطلاع رسولوں کے ساتھ خاص ہے تو اولیاء کیونکر غیب جان سکتے ہیں ۔ائمہ اہلسنّت نے جواب دیا کہ یہاں غیب عام نہیں جس کے یہ معنی ہوں کہ کوئی غیب رسولوں کے سوا کسی کو نہیں بتاتا جس سے مُطْلَقاً اولیاء کے علومِ غیب کی نفی ہوسکے، بلکہ یہ تو مُطْلَق ہے (یعنی کچھ غیب ایسے ہیں کہ غیرِ رسول کو نہیں معلوم ہوتے) یا اس سے خاص وقوعِ قیامت کا وقت مراد ہے (کہ خاص اس غیب کی اطلاع رسولوں کے سوا اوروں کو نہیں دیتے) اوراس پر قرینہ یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں غیب ِقیامت ہی کا ذکر ہے۔ (تو آیت سے صرف اتنا مطلب نکلا کہ بعض غیبوں یا خاص قیامت کے وقت کی تعیِین پر اولیاء کو اطلاع نہیں ہوتی نہ یہ کہ اولیاء کوئی غیب نہیں جانتے، اس پر اگر یہ شُبہ قائم ہو کہ اللّٰہ تعالیٰ تو رسولوں کا اِستثناء فرمارہا ہے کہ وہ ان غیبوں پر مُطّلع ہوتے ہیں جن کو اور لوگ نہیں جانتے اب اگر اس سے قیامت کے وقت کی تعیین مراد لیں تو رسولوں کا بھی اِستثناء نہ رہے گا کہ یہ تو اُن کو بھی نہیں بتایا جاتا۔ اس کا جواب یہ فرمایا کہ) فرشتوں یا انسانوں میں سے بعض رسولوں کو قیامت کے وقت کی تعیین کا علم ملنا کچھ بعید نہیں تو یہاں اللّٰہ تعالیٰ کا اِستثناء فرمانا ضرور صحیح ہے۔( شرح مقاصد،المقصد السادس،الفصل الاول،المبحث الثامن: الولی، ۳ / ۳۲۹،۳۳۰، فتاوی رضویہ، رسالہ: خالص الاعتقاد، ۲۹ / ۴۷۵-۴۷۶)
۲۹ / ۴۷۵-۴۷۶)
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کی جن کرامات کا تعلق کشف کے ساتھ ہے ان کی نفی پر اس آیت میں کوئی دلیل نہیں البتہ یہ (ضرورثابت ہوتا) ہے کہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی غیب پر اطلاع اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کی غیب پر اطلاع سے زیادہ مضبوط ہے کیونکہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وحی کے ذریعے غیب جانتے ہیں اوروہ ہر نقص سے معصوم ہے جبکہ اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کی اطلاع کا یہ مقام نہیں ، اسی لئے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عصمت واجب ہے اور اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کی عصمت جائز ہے۔( صاوی، الجن، تحت الآیۃ: ۲۶، ۶ / ۲۲۵۶)
علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ اولیاء کو بھی اگرچہ غیوب پر اطلاع دی جاتی ہے مگر انبیاء کا علم باعتبارِ کشف و اِنجلاء (یعنی غیب کی باتوں کو ظاہر کرنے کے اعتبار سے) اولیاء کے علم سے بہت بلند وبالا واَرفع و اعلیٰ ہے اور اولیاء کے علوم انبیاء ہی کے وَساطت اور انہی کے فیض سے ہوتے ہیں ، معتزلہ ایک گمراہ فرقہ ہے وہ اولیاء کیلئے علمِ غیب کا قائل نہیں ،اس کا خیال باطل اور احادیثِ کثیرہ کے خلاف ہے اور اس آیت سے ان کا تَمَسّک (یعنی دلیل پکڑنا) صحیح نہیں ،بیانِ مذکورہ بالا میں اس کا اشارہ کردیا گیا ہے، سیّدُ الرُّسُل خاتَم الانبیاء محمد مصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُرتضیٰ رسولوں میں سب سے اعلیٰ ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو تمام اَشیاء کے علوم عطا فرمائے جیسا کہ صحاح کی معتبر اَحادیث سے ثابت ہے اور یہ آیت حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے اور تمام مرتضیٰ رسولوں کیلئے غیب کا علم ثابت کرتی ہے۔(خزائن العرفان، الجن، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۔
کل کیا ہونے والا ہےاور دور کی خبردینا اور اس کا علم مصطفی ﷺ
قیامت کا علم غیب
ماں کے پیٹ میں کیا ہے اس کا علم
اس کائینات عالم کا کل علم مصطفی ﷺ کو عطا کیا جانا
ماضی بعید کے علوم غیب رسول اللہ ﷺ جانتے ہیں
حکمت خداوندی کے تحت علم چھپانا جائز ہے اور کئی علوم غیبہ رسول اللہ ﷺ نے نہیں بتائے
علم غیب بغیر وحی کے معجزہ کے طور بھی عطاء کیا گیا ۔
علم ایک جوامع الکلام معجزہ کی صورت میں دیا گیا ماکان و مایکونو
علم غٰب کی تعریف لغوی اور اصطلاحٰی
سورہ رحمن کی تفسیر میں علم ما کان ومایکون
نبی لفظ کا مفہوم و معنی
ج
وعلمک ما لم تکن تعلم کی تفسیر
سورہ توبہ کی آیات کا شان نزول علم غیب کا منکر منافق
نبی ﷺ غیب بتانے میں کنجوس نہیں۔۔۔
خضر ع غیب جانتے تھے
قرآن میں ہر شئ کا علم ہے اور قرآن کا علم کامل رسول اللہ ﷺ کو ہے
متقدمین کے نزدیک علم غیب کا عقیدہ
اولیاء اللہ کا غیب جان لینا کرامت ہے
بعض وھابیہ علم غیب مطلق شرک کہتے ہیں اور بعض انبیاء کے لیے مانتے ہیں
سورہ جن کی یہ آیات (26-27) عقیدہ علمِ غیب کے باب میں آیاتِ اثبات کی حیثیت رکھتی ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا ہے کہ وہ بذاتِ خود غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب پر کسی کو (کامل) اطلاع نہیں دیتا سوائے ان برگزیدہ رسولوں کے جنہیں اس نے اس خاص منصب اور غیب کے علم کے لیے پسند فرما لیا ہو۔ ان آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسولوں کو حاصل ہونے والا علمِ غیب اللہ تعالیٰ کی عطا اور اس کے اذن سے ہوتا ہے، جسے علمِ غیبِ عطائی کہا جاتا ہے، اور یہ علمِ غیبِ ذاتی کی نفی کرنے والی آیات کے خلاف نہیں بلکہ ان کا ایک استثنائی اور اعزازی پہلو ہے۔ مزید برآں، اللہ تعالیٰ اس غیبی علم اور وحی کی حفاظت کے لیے رسول کے آگے اور پیچھے فرشتوں کے پہرے دار (رصدًا) مقرر فرما دیتا ہے تاکہ شیطانی اثرات یا کسی قسم کی بیرونی آمیزش کا احتمال نہ رہے اور اللہ کا پیغام اپنی اصل حالت میں رسول تک پہنچ جائے۔ یہ آیات اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ علمِ غیب پر مطلع کیا جانا منصبِ نبوت و رسالت کا ایک لازمی خاصہ اور وہ انعام ہے جو اللہ تعالیٰ صرف اپنے پسندیدہ بندوں کو عطا فرماتا ہے۔